لاہور — لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ابھر گل خان نے جمعرات کو پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے عمران خان کی تین بہنوں — علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان — کو 30 روزہ نظربندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود رہا نہ کرنے پر وضاحت مانگی ہے۔ دونوں افسران کو 28 اکتوبر کو ذاتی طور پر حاضر ہو کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تینوں بہنیں ستمبر سے پنجاب کے پبلک آرڈر آرڈیننس (ایم پی او 1960) کی دفعہ 3 کے تحت کوٹ لکھپت جیل میں نظربند ہیں۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر کو اور عظمیٰ خان و نورین نیازی کو 21 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ نظربندی کے احکامات لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے پولیس کی ان رپورٹوں پر جاری کیے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ ان کی سرگرمیاں امن عامہ کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ کارروائی پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کے اعلان سے چند روز پہلے ہوئی تھی۔
تازہ درخواست بدھ 21 اکتوبر کو علیمہ خان کے بیٹے شہریار خان نے دائر کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 30 روزہ نظربندی کی مدت 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکی ہے، مگر تینوں خواتین اب بھی جیل میں ہیں — یعنی ان کی موجودہ حراست غیر قانونی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا:
30 دن کی مدت 20 اکتوبر کو ختم ہونے کے بعد ان کی مزید نظربندی قانونی نہیں رہی — ان کی موجودہ حراست غیر قانونی ہے۔
رانا مدثر عمر، درخواست گزار کے وکیل
درخواست میں مزید کہا گیا کہ نظربندی ان کے بھائی کی رہائی کے لیے ان کی کوششوں کا نتیجہ تھی، حفاظتی نظربندی عام فوجداری قانون کی جگہ نہیں لے سکتی، اور یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 10 اور ایم پی او کی دفعہ 3 کی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں عدالت سے نظربندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے کر تینوں کو انصاف، مساوات اور منصفانہ رویے کے مفاد میں آزاد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ڈی سی کا نوٹیفکیشن ختم ہو چکا تھا، اس لیے انہیں فریق نہیں بنایا گیا۔ عظمیٰ خان کے شوہر احد خان نے ڈی سی کو طلب کرنے کی درخواست کی، مگر جج نے انکار کر دیا کیونکہ ڈی سی مقدمے میں فریق نہیں۔ یاد رہے کہ 25 ستمبر کو عدالت نے عظمیٰ اور نورین کی نظربندی کے نوٹیفکیشن معطل کرنے سے اس وقت انکار کر دیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا ایمرجنسی کیس کی طرح یہ مقدمہ بھی عدلیہ اور حکومت کے درمیان قانونی طاقت کے توازن کا ایک اور امتحان بنتا جا رہا ہے۔
یہ مقدمہ حفاظتی نظربندی کے استعمال کی حد کا امتحان ہے۔ ایک طرف حکومت کا موقف ہے کہ نظربندی امن عامہ کو لاحق خطرے کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر کے جائز احکامات پر عمل میں آئی؛ دوسری طرف درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی حراست میں رکھنا قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 28 اکتوبر کی سماعت میں ہوم سیکریٹری اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی ذاتی پیشی اور رپورٹ اس کا تعین کرے گی کہ نظربندی کے پیچھے کوئی نیا قانونی حکم ہے یا یہ محض انتظامی تاخیر کا نتیجہ۔ دونوں صورتوں میں فیصلہ اہم نظیر قائم کرے گا — اور ملک کی سیاست میں عدالتی فیصلوں کی بڑھتی ہوئی مرکزی حیثیت کو مزید تقویت دے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)