Friday, 23 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

ایل پی جی 750 روپے کلو تک جا پہنچی: سلنڈر کی قیمت 10 ہزار سے اوپر، تفتان بندش کے بعد بحران گہرا گیا

ایل پی جی کے سلنڈر لوڈ ہوتے ہوئے — فائل فوٹو

اہم نکات

  • شمالی خیبر پختونخوا میں ایل پی جی 750 روپے فی کلو اور پشاور میں تقریباً 600 روپے فی کلو بک رہی ہے — جبکہ اوگرا کی سرکاری قیمت صرف 279 روپے 34 پیسے ہے
  • گھریلو سلنڈر کی قیمت 10 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے
  • قیمتوں میں اضافے کی وجہ تفتان بارڈر کی بندش اور سپلائی میں کمی بتائی گئی ہے؛ پاکستان کی تقریباً 70 فیصد ایل پی جی درآمدی ہے
  • اوگرا منافع خوروں کے خلاف کارروائی سے اس خوف سے کترا رہا ہے کہ کہیں ہڑتال نہ ہو جائے
  • حکومت سردیوں سے پہلے ایل پی جی کی قیمتوں کے روزانہ تعین کا نظام سوچ رہی ہے

پشاور — سردیوں کے آنے سے پہلے ہی ملک میں کھانا پکانے کی گیس کا بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ شمالی خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں ایل پی جی 750 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ پشاور میں قیمت تقریباً 600 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ کئی بازاروں میں قیمت 550 سے 600 روپے کے درمیان ہے اور گھریلو سلنڈر کی قیمت 10 ہزار روپے سے بھی اوپر جا چکی ہے۔ یہ اضافہ صرف پانچ چھ دن میں ہوا ہے اور غریب گھرانوں پر براہ راست بوجھ پڑا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی اکتوبر کے لیے مقرر کردہ سرکاری قیمت صرف 279 روپے 34 پیسے فی کلو ہے، اور 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت 3,296 روپے بنتی ہے۔ یعنی بازار میں صارفین سرکاری قیمت سے تین گنا سے بھی زیادہ ادا کر رہے ہیں۔ اوگرا کے ایک سینئر افسر کے مطابق ملک کی تقریباً 70 فیصد ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے اور صرف 30 فیصد مقامی پیداوار سے ملتی ہے، اس لیے سپلائی کا کوئی بھی جھٹکا قیمتوں کو فوراً آسمان پر لے جاتا ہے۔

سپلائی میں کمی کی اصل وجہ تفتان بارڈر کی بندش بتائی گئی ہے، جو ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں ہوئی۔ اوگرا کے ترجمان نے تسلیم کیا ہے کہ تفتان کی بندش سے مشکلات پیدا ہوئیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ صورتحال جلد قابو میں کر لی جائے گی۔ تفتان بارڈر بند ہونے کے بعد ایران سے تجارت کی صورتحال کا براہ راست اثر اب گھروں کی کچن تک پہنچ چکا ہے۔ یہ بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ پاکستان نے 20 اکتوبر کو بارڈر دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا، مگر سپلائی کی زنجیر ابھی تک بندش کے دباؤ سے باہر نہیں آئی۔

سب سے پریشان کن پہلو اوگرا کی بے بسی ہے۔ ذرائع کے مطابق منافع خوروں کے خلاف کارروائی کا منصوبہ اس لیے روک دیا گیا ہے کہ حکام کو ڈر ہے کہ اس سے ہڑتال ہو جائے گی اور سپلائی مزید متاثر ہوگی۔ یعنی ریگولیٹر مافیا کے خوف سے خاموش ہے — یہ اس ادارے کی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتا ہے جس کا کام ہی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔

خیبر پختونخوا میں صورتحال دوہری ہے کیونکہ یہاں قدرتی گیس کی قلت بھی موجود ہے۔ پشاور کے مضافاتی اور دیہی علاقوں میں کئی گھرانے دوبارہ لکڑی جلانے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے لکڑی کی مانگ اور قیمت بھی بڑھ گئی ہے — فی من لکڑی اب 1,600 سے 1,800 روپے میں مل رہی ہے، جو پہلے 1,400 سے 1,600 روپے تھی۔ آئی ایم ایف کی تنبیہ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پاکستان میں توانائی اور خوراک کی قیمتیں مزید بڑھا سکتی ہے، اور ایل پی جی بحران اسی تنبیہ کا پہلا عملی ثبوت ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ حکومت سردیوں سے پہلے ماہانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کی جگہ روزانہ قیمتوں کا نظام لانے پر غور کر رہی ہے، اور درآمد کنندگان نے بھی ہفتہ وار یا روزانہ تعین کی تجویز دی ہے۔ یہ تجویز ابھی اعلان نہیں ہوئی — صرف زیر غور ہے۔ مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے: کیا روزانہ قیمتیں منافع خوری روکیں گی یا اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ قیمتوں میں اضافہ اب مہینے میں ایک بار کی بجائے ہر روز گھروں پر اترے گا؟ اوگرا کے پاس جواب دینے کے لیے بہت کم وقت ہے، کیونکہ دسمبر کی سردی دستک دے چکی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *