پشاور میں ڈیر کالونی کے نجی اسکول میں چھت گرنے کے سانحے پر ریسکیو آپریشن جمعرات کی سہ پہر مکمل ہو گیا ہے، جبکہ متوفیوں کی تعداد بڑھ کر 28 سے 35 تک بتائی جا رہی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد آصف نے ڈان کو بتایا کہ متوفین میں 27 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں، جبکہ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق 34 بچوں اور ایک ٹیچر سمیت کم از کم 35 افراد جاں بحق ہوئے۔ اردو پوائنٹ کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 33 لاشیں لائی گئیں جبکہ دو لاشیں نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال منتقل کی گئیں۔
پشاور کے ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر نے جیو نیوز کو بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے تمام ملبہ صاف کر دیا ہے اور موقع پر کوئی مزید زخمی بچہ نہیں بچا۔ ان کے بقول ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف اعداد سامنے آئے ہیں — لیڈی ریڈنگ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 20 بچے زخمی ہوئے، جبکہ اردو پوائنٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر زخمی بچوں کو ابتدائی علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا اور سر کی چوٹوں کا شکار تین بچوں کا علاج جاری ہے۔ متوفین اور زخمیوں میں 12 لڑکیاں اور ایک خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب پولیس نے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔ پشاور کے کیپٹل سٹی پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق اسکول ایک ایجوکیشن ٹرسٹ کے تحت چل رہا تھا۔ اردو پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے اسکول کے پرنسپل کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ واقعے کی وجہ کا تعین ابھی ہونا باقی ہے۔
انکوائری کے معاملے میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ اردو پوائنٹ کے مطابق یہ نجی اسکول مارچ 2026 میں پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی سے رجسٹرڈ ہوا تھا، لیکن عمارت کا تکنیکی معائنہ کبھی نہیں ہوا۔ اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر جاوید اقبال نے بتایا کہ پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرنے کی کوئی ٹیم ہی موجود نہیں — اسکول کا رجسٹریشن کلاس رومز اور انتظامی معیارات پورے کرنے پر دے دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کے پاس خستہ حال عمارتوں پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار تو ہے، لیکن اسکول بند کرنے کا اختیار نہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کی صبح الخیر اسکول سسٹم کی عمارت کی چھت اس وقت گری تھی جب بچے کلاس رومز میں موجود تھے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق جب امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو معلوم ہوا کہ ایک منزل کی چھت دوسری منزل کی چھت پر گری تھی، جس سے نیچے کا کلاس روم دب گیا اور بچے ملبے تلے دب گئے۔ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔
اس سانحے کے بعد مقامی رہائشیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی رہائشی شیر احمد نے نام نہاد تعمیراتی مواد کو اس المیے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات روکے جا سکیں۔
یہ سانحہ محض ایک عمارت کے گرنے کا واقعہ نہیں، یہ ایک نظام کی ناکامی کی کہانی بھی ہے۔ جس صوبے میں نجی اسکولوں کو رجسٹر کرنے والی اتھارٹی کے پاس عمارتوں کے معائنے کی ٹیم ہی نہ ہو، وہاں ہزاروں بچوں کی جانیں کس کے حوالے ہیں؟ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے انہی دنوں میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہی طے کرے گی کہ آیا اس سانحے سے واقعی کوئی سبق سیکھا گیا ہے یا نہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)