Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

پشاور میں نجی اسکول کی چھت گر گئی — متوفیوں کی تعداد 35 ہو گئی، اسکول کا مالک گرفتار

پشاور کے اسلامیہ کالج کی غروب آفتاب کے وقت تصویر — علامتی تصویر

پشاور — جمعرات کی صبح دیر کالونی کے ایک نجی اسکول میں قیامت ٹوٹ پڑی۔ الخیر اسکول سسٹم کی عمارت کی چھت اس وقت گر گئی جب تین کلاس رومز میں تقریباً 75 بچے پڑھ رہے تھے۔ ملبے تلے دبنے والوں میں سے اب تک 35 افراد دم توڑ چکے ہیں — جیو نیوز کے مطابق ان میں 34 بچے اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں — جب کہ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد سامنے آئے ہیں۔

جاں بحق ہونے والے تمام بچے 13 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں — یہ تصدیق لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے کی۔ ابتدا میں اسپتال انتظامیہ نے صرف چار اموات کی اطلاع دی تھی، مگر ملبے سے لاشیں نکلتی رہیں اور تعداد بڑھتی گئی۔ ابتدائی طور پر سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق 40 سے زائد افراد زخمی بتائے گئے تھے، جب کہ بعد میں لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ نے 20 بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔

ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے گھنٹوں تک جائے وقوعہ پر آپریشن جاری رکھا، مگر کام آسان نہیں تھا۔ ایس پی سٹی کے مطابق علاقے کی تنگ گلیاں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔ بعد ازاں ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا اور ملبہ مکمل طور پر صاف کر دیا گیا۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

چھت گرنے کی حتمی وجہ ابھی واضح نہیں۔ حکام کے مطابق عمارت بارش سے متاثر ہوئی تھی، مگر تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انھوں نے جاں بحق ہونے والوں — جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں — کے درجات کی بلندی کی دعا کی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی، اور حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے اور ریسکیو آپریشن تیز کیا جائے۔ گورنر کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں دینے کی ہدایت کی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں۔ رواں سال کے شروع میں لاہور کے باغبانپورہ علاقے میں ایک اسکول کی عمارت کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق اور چار افراد زخمی ہو گئے تھے — وہ عمارت بھی مرمت کے کام کے دوران گری تھی۔ پاکستان میں عمارتوں کے انہدام کے واقعات بار بار رونما ہوتے ہیں، جن کی وجہ ناقص تعمیراتی معیار اور کمزور نگرانی بتائی جاتی ہے۔

یہ خبر کیوں اہم ہے: تیرہ سال یا اس سے کم عمر کے پینتیس افراد — یہ صرف ایک المناک حادثہ نہیں، ایک سوال ہے۔ نجی اسکول کی عمارت کو کون چیک کرتا ہے؟ کیا کسی نے اس کی حالت کا معائنہ کیا تھا؟ بارش سے متاثر ہونے والی عمارت میں بچوں کی کلاسیں کیوں جاری تھیں؟ یہ سوالات صوبائی محکمہ تعلیم اور مقامی انتظامیہ — دونوں سے جواب مانگتے ہیں۔ اور یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہے، یعنی صوبے کی انتظامیہ براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریسکیو کے بعد احتساب بھی ہو گا یا یہ سانحہ بھی پرانے زخموں کی طرح بھول جائے گا۔

اپڈیٹ: ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد پولیس نے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا اور پرنسپل کو بھی حراست میں لے لیا، جب کہ واقعے کی انکوائری کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ یہ نجی اسکول مارچ 2026 میں رجسٹرڈ تو ہوا تھا، مگر عمارت کا تکنیکی معائنہ کبھی نہیں ہوا۔

تصحیح (15 اکتوبر 2026): اس خبر کے پہلے ورژن میں 21 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت اور 47 زخمی بتائے گئے تھے۔ بعد میں تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق متوفیوں کی تعداد بڑھ کر 35 ہو گئی اور ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا، اس لیے خبر درست کر دی گئی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *