عالمی بھوک اشاریہ کیا ہے اور یہ رپورٹ کب آئی؟
عالمی بھوک اشاریہ (Global Hunger Index) ہر سال شائع ہونے والی ایک بین الاقوامی رپورٹ ہے جو دنیا بھر میں بھوک کی صورتحال کو چار پیمانوں — غذائی قلت، بچوں میں قد کا رک جانا، بچوں میں وزن کی کمی اور بچوں کی اموات — پر ماپتی ہے۔ 2026 کی رپورٹ بدھ کو جاری ہوئی، جسے جرمن تنظیم ویلٹ ہنگر ہلف، بوخم یونیورسٹی کے امن و تنازعات کے ادارے اور سوئس تنظیم ہیلویٹاس نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس سال کی رپورٹ کا عنوان ہے: “بغیر غذائی تحفظ، کوئی سلامتی نہیں”۔
پاکستان کا اسکور کیا ہے اور یہ جنوبی ایشیا میں کہاں کھڑا ہے؟
پاکستان نے 2026 کے اشاریے میں 25.5 کا اسکور حاصل کیا، جو “سنگین” (serious) درجے میں آتا ہے — اور یہ جنوبی ایشیا کا سب سے برا اسکور ہے۔ پورے خطے کا مجموعی اسکور 23.5 ہے، جبکہ عالمی اوسط 18.1 ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2000 میں پاکستان کا اسکور 36.2 تھا، یعنی طویل مدت میں بہتری ضرور آئی، مگر 2018 کے بعد سے صورتحال بگڑ رہی ہے۔
2018 کے مقابلے میں کیا بدلا؟
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غذائی قلت 2018 میں “کم” درجے سے بڑھ کر “درمیانے” درجے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بچوں میں وزن کی کمی “زیادہ” درجے کی حد کو چھو رہی ہے۔ بچوں میں قد رک جانے کی شرح اب بھی بہت زیادہ ہے، اگرچہ اس میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ بچوں کی اموات کی شرح 2000 کے مقابلے میں بہت کم ہوئی ہے۔ معاشی عدم استحکام اور کھانے پینے کی چیزوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھروں کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ موسمیاتی دھچکے بھی اس میں شامل ہیں — شدید بارشوں اور سیلاب سے فصلوں کو نقصان پہنچا۔
عالمی صورتحال کیا ہے؟
رپورٹ کی سب سے تشویشناک خبر یہ ہے کہ تقریباً دو دہائیوں کی بہتری کے بعد دنیا میں بھوک ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ عالمی اسکور 2018 کے 17.6 سے بگڑ کر 18.1 ہو گیا ہے۔ 2018 کے بعد سے 32 ممالک میں بھوک بڑھی ہے، اور 57 ممالک 2030 تک بھوک کو “کم” درجے تک لانے کے ہدف سے بھی محروم رہنے کے راستے پر ہیں۔ اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے کے تخمینے کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران جنوبی ایشیا (بشمول ایران) میں 21 کروڑ 80 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار رہے — یہ دنیا بھر کی تعداد کا تقریباً ایک تہائی ہے۔
رپورٹ نے اس بگاڑ کی وجوہات کیا بتائی ہیں؟
رپورٹ کے مطابق ریاستی سطح کے مسلح تنازعات دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ہیں، اور شدید موسمیاتی واقعات بھی اس کا بڑا سبب ہیں۔ ایران میں جنگ اور آبنائے ہرمز و باب المندب میں جہازرانی کی رکاوٹوں سے ایندھن، نقل و حمل اور کھاد کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جبکہ روس یوکرین جنگ اور بحیرہ اسود سے برآمدات پر پابندیاں گندم کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتی ہیں — جس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک کے عام صارف پر پڑتا ہے۔ ایک اور خطرناک رجحان یہ ہے کہ غذائی تحفظ پر بین الاقوامی اخراجات گھٹ کر 2016-17 کی سطح پر آ گئے ہیں، جس سے امدادی پروگراموں اور ہنگامی راشن میں کٹوتی ہو رہی ہے۔
یہ ہمارے لیے کیوں اہم ہے اور آگے کیا ہوگا؟
یہ رپورٹ محض اعداد و شمار نہیں — یہ اس سوال کا جواب ہے کہ عام گھرانے کی دسترخوان تک خوراک پہنچ بھی رہی ہے یا نہیں۔ حکومت کی طرف سے گندم کے وافر ذخیرے اور فوڈ سیکیورٹی کونسل کے پہلے اجلاس کی خبریں حوصلہ افزا ہیں، مگر بھوک کا اشاریہ بتاتا ہے کہ اصل مسئلہ دستیابی سے زیادہ رسائی کا ہے: جب قیمتیں آمدنی سے تیز بڑھیں تو ذخیرے بھرے ہونے کے باوجود تھالی خالی رہتی ہے۔ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں شدید غذائی عدم تحفظ برقرار رہے گا۔ حکومتوں کے لیے پیغام واضح ہے — انسانی امداد اور خوراک کے اعداد و شمار پر اخراجات میں کٹوتی واپس لی جائے، ورنہ 2030 کے اہداف محض کاغذی وعدے رہ جائیں گے۔

قارئین کے تبصرے (0)