ادارہ شماریات پاکستان کی جمعہ کو جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ نے ایک بار پھر گھروں کے بجٹ کی کہانی سنائی ہے — مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 11.97 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اعداد و شمار کو آسان سوال جواب میں سمجھتے ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
8 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) ہفتہ وار بنیاد پر 0.57 فیصد بڑھا، جبکہ سالانہ بنیاد پر اضافہ 11.97 فیصد رہا۔ مجموعی اشاریہ 372.58 پوائنٹس پر پہنچا — ایک ہفتہ پہلے یہ 370.46 تھا اور گزشتہ سال اسی ہفتے 332.75۔ 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے جمع کیے گئے 51 اشیا میں سے 20 کی قیمتیں بڑھیں، 6 کی گھٹیں اور 25 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
اس ہفتے سب سے زیادہ کیا مہنگا ہوا؟
گندم کا آٹا سب سے آگے رہا — 20 کلو کا تھیلا ایک ہفتے میں 5.69 فیصد مہنگا ہو کر 2,851 روپے کا ہو گیا۔ ایک ہفتہ پہلے یہی تھیلا 2,697 روپے کا تھا، اور ایک سال پہلے 2,150 روپے کا۔ مرغی 4.93 فیصد بڑھ کر 383 روپے کلو ہو گئی، چنے کی دال 3.99 فیصد، جبکہ پٹرول اور ٹماٹر 2.40 فیصد فی کس مہنگے ہوئے — پٹرول کی اوسط قیمت 398.87 روپے فی لیٹر رہی۔ مسور کی دال، تیار چائے، پکی دال، ماش کی دال اور ایل پی جی بھی مہنگی ہوئیں؛ 11.67 کلو کا سلنڈر اوسطاً 5,132 روپے کا رہا۔ سستی ہونے والی اشیا میں کیلے، ڈیزل (1.37 فیصد کمی کے ساتھ 397.02 روپے لیٹر)، آلو، چینی، گڑ اور مونگ کی دال شامل ہیں۔
سال بھر میں سب سے بڑا جھٹکا کس چیز نے دیا؟
پیاز نے — اس کی قیمت ایک سال میں دُگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔ 100.24 فیصد اضافے کے ساتھ پیاز 190 روپے کلو تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال یہی پیاز 95 روپے کلو تھی۔ ایل پی جی 68.55 فیصد، بجلی کے نرخ (کم ترین صارفین کے لیے) 58.59 فیصد، پٹرول 47.52 فیصد، ڈیزل 42.52 فیصد اور آٹا 32.60 فیصد مہنگا ہوا۔ اس کے برعکس آلو 39.51 فیصد، ٹماٹر 37.07 فیصد اور چینی 22.44 فیصد سستی ہوئی۔
کیا مہنگائی کا بوجھ سب پر برابر پڑتا ہے؟
نہیں — اور یہی رپورٹ کا سب سے چونکا دینے والا نکتہ ہے۔ سب سے زیادہ خرچ کرنے والے گھرانوں کے لیے سالانہ مہنگائی 12.48 فیصد رہی، جبکہ سب سے کم خرچ والوں کے لیے 9.41 فیصد۔ توانائی کی قیمتوں کا وزن زیادہ خرچ والوں کے بجٹ پر زیادہ بھاری پڑتا ہے، اسی لیے امیر اور غریب کی مہنگائی ایک جیسی نہیں۔
حکومت اس پر کیا کہہ رہی ہے؟
جمعرات کو قومی قیمت مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے خاص طور پر آٹے کی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ رسد، منڈیوں میں اشیا کی آمد، ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور بلا جواز قیمتوں میں اضافے کی نگرانی سخت کی جائے۔
مہنگائی بڑھ کیوں رہی ہے؟
ڈان کے تجزیے کے مطابق حکومت پٹرولیم لیوی کم کرنے پر آمادہ نہیں، اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں۔ یہی توانائی کا دباؤ ٹرانسپورٹ کے کرایوں کے ذریعے خوراک تک پہنچتا ہے — یہی وجہ ہے کہ پیاز اور ٹماٹر جیسی اشیا کی قیمتیں بھی اوپر جا رہی ہیں۔ ٹیکس ماہرین کا ایک تلخ نکتہ بھی سامنے آیا ہے: مہنگائی سے حکومت کی سیلز ٹیکس وصولی بڑھتی ہے۔ یعنی جس آگ میں عوام کا بجٹ جل رہا ہے، اسی سے خزانے کی آمدن بھی بڑھ رہی ہے۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ آئی ایم ایف سے 1.21 ارب ڈالر کی قسط کی راہ ہموار ہونے کی خبر کو ابھی دو دن ہوئے ہیں — بڑے معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، مگر گھر کے دسترخوان پر اس کا اثر ابھی نظر نہیں آ رہا۔ جب تک توانائی کی قیمتوں کا بوجھ کم نہیں ہوتا، ہفتہ وار رپورٹیں یہی کہانی دہراتی رہیں گی۔ اگلی ہفتہ وار رپورٹ بتائے گی کہ احسن اقبال کی ہدایات منڈیوں تک پہنچیں یا فائلوں میں دب کر رہ گئیں۔

قارئین کے تبصرے (0)