Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ترکی میں میڈیا پر قبضہ: قائم مقام (kayyum) کا نظام کیا ہے؟

استنبول کے بیشکتاش واٹر فرنٹ کا دن کے وقت منظر

بدھ کی صبح استنبول میں جو کچھ ہوا، وہ محض ایک ٹی وی چینل پر پولیس کا چھاپا نہیں تھا۔ سینکڑوں اہلکار ہالک ٹی وی کے دفتر میں داخل ہوئے، صبح ساڑھے چھ بجے براہِ راست نشریات کاٹ دی گئیں، اور چند گھنٹوں کے اندر ترکی کا سب سے دیکھا جانے والا اپوزیشن نیوز چینل حکومت کے مقرر کردہ ایک ٹرسٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ ہالک ٹی وی پر چھاپے کی مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

سوال یہ ہے کہ ایک جمہوری ملک میں حکومت کسی نجی ٹی وی چینل پر یوں قبضہ کیسے کر لیتی ہے؟ جواب ایک ترک لفظ میں چھپا ہے: قائم مقام — انگریزی میں trustee، ترکی میں kayyum۔

قائم مقام کا مطلب ہے عدالت کی طرف سے مقرر کردہ نگران۔ یہ نظام اصل میں دیوالیہ ہونے والی کمپنیوں کے لیے بنا تھا۔ ترکی کا TMSF یعنی سیونگز ڈپازٹ انشورنس فنڈ وہ ادارہ ہے جو ڈوبتے بینکوں اور کمپنیوں کا انتظام سنبھالتا ہے۔ اب یہی ادارہ ایک ایک کر کے ٹی وی چینلوں کا “ٹرسٹی” بنتا جا رہا ہے — اور ٹرسٹی بننے کا مطلب ہے چینل کی مالک کمپنی کا مکمل کنٹرول: پیسہ، عملہ، اور سب سے بڑھ کر ادارتی فیصلے۔

طریقہ کار ہر بار تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے۔ پہلے مالیاتی جرائم کی تفتیش کا اعلان ہوتا ہے — ہالک ٹی وی کے معاملے میں چیئرمین جعفر ماہر اوغلو پر رشوت، ٹینڈروں میں دھاندلی اور منی لانڈرنگ کے الزامات۔ پھر عدالت کمپنی ضبط کرنے کا حکم دیتی ہے، پولیس صبح سویرے دفتر پر دھاوا بولتی ہے، نشریات بند ہوتی ہیں، اور ٹرسٹی کا وفد اندر داخل ہو جاتا ہے۔ ہالک ٹی وی کے ایڈیٹر انچیف سوات توکتاش نے ٹرسٹی سے براہِ راست نشریات جاری رکھنے کی درخواست کی، جو مسترد کر دی گئی۔ انہوں نے نئی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس قبضے کو غیر قانونی قرار دیا۔ ان کی جگہ اب ٹرسٹی فیصلہ کرے گا کہ اسکرین پر کیا آئے گا — اور تجربہ بتاتا ہے کہ وہ خبر نہیں ہوتی۔

کیونکہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ ہالک ٹی وی پانچواں بڑا چینل ہے جس پر ٹرسٹی مقرر ہوا — اس سے پہلے فلیش ٹی وی، ایکو ترک، حبرترک اور ٹیلی 1 کی باری آ چکی۔ ٹیلی 1 کی مثال سب سے تازہ ہے: گزشتہ اکتوبر میں اس کے ایڈیٹر انچیف مردان یانرداغ گرفتار ہوئے، اور چند دنوں میں چینل کی تمام خبریں دستاویزی فلموں اور صحت کے پروگراموں سے بدل دی گئیں۔ اس کا یوٹیوب چینل بھی بند کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہالک ٹی وی کے لیے مقرر کردہ ٹرسٹی ابراہیم پاشالی وہی شخص ہے جو پہلے حبرترک، شو ٹی وی اور ٹیلی 1 کے قبضوں میں بھی شامل رہا ہے۔ یعنی یہ کوئی ہنگامی انتظام نہیں، ایک آزمودہ طریقہ ہے۔

اور یہ طریقہ صرف میڈیا تک محدود نہیں۔ ترکی میں برسوں سے منتخب میئروں کو ہٹا کر ان کی جگہ قائم مقام بٹھائے جا رہے ہیں — پہلے جنوب مشرقی ترکی کے کرد اکثریتی علاقوں میں، اب استنبول سمیت بڑے شہروں کے اضلاع میں بھی۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ عوام کے ووٹ کو روندنے کا قانونی لبادہ ہے۔

اپوزیشن رہنما اوزگور اوزیل نے اسے سیدھے لفظوں میں کہا: “ٹی وی چینل پر صبح کا چھاپا، ٹرسٹی کی تقرری — ایسا صرف آمر کرتے ہیں۔” ماہر اوغلو نے، جو اس وقت ترکی سے باہر ہیں، اسے “ترکی کے لیے سیاہ دن” قرار دیا۔

یہ سب کیوں اہم ہے؟ وقت پر غور کریں۔ جس دن ہالک ٹی وی پر قبضہ ہوا، اسی دن صدر اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف، جیل میں بند استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو، چار سو ملزمان والے بدعنوانی کے مقدمے میں اپنا دفاع شروع کرنے والے تھے۔ ایک طرف عدالت میں مقدمہ، دوسری طرف اس کی خبر دینے والے چینل پر قبضہ — یہ محض اتفاق ہو، اس پر یقین کرنا مشکل ہے۔ صحافیوں کے عالمی اشاریے میں ترکی پہلے ہی 159ویں نمبر پر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہالک ٹی وی کی ادارتی لائن بدلتی ہے یا نہیں، اور عدالتوں میں اس قبضے کو چیلنج ہوتا ہے یا یہ بھی پچھلے چار چینلوں کی طرح خاموشی سے ہضم ہو جاتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *