استنبول — ترکیہ میں اپوزیشن کے سب سے نمایاں نجی نیوز چینل “ہالک ٹی وی” پر بدھ کی صبح پولیس نے چھاپا مار کر اس کی لائیو نشریات بند کر دیں اور حکومت نے چینل چلانے کے لیے سرکاری ٹرسٹی مقرر کر دیا۔ یہ ترکیہ میں میڈیا کی آزادی پر تازہ اور اب تک کا سنگین ترین وار سمجھا جا رہا ہے۔
چینل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان کے مطابق سینکڑوں پولیس اہلکار استنبول کے زیتن برنو علاقے میں واقع ہیڈکوارٹرز میں داخل ہوئے، عمارت کے باہر سڑک بند کر دی گئی اور عملے کو اندر جانے سے روک دیا گیا۔ صبح چھ بج کر تیس منٹ (مقامی وقت) پر چینل کی لائیو نشریات کاٹ دی گئیں، جس کے بعد چینل پر صرف پہلے سے ریکارڈ شدہ پروگرام چلتے رہے۔
استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ یہ کارروائی مالیاتی جرائم کی تفتیش کا حصہ ہے۔ بیان کے مطابق چینل کے چیئرمین جعفر ماہر اوغلو پر رشوت، ٹینڈروں میں ہیرا پھیری اور جرائم سے حاصل شدہ رقم کو جائز ظاہر کرنے (منی لانڈرنگ) کے الزامات ہیں۔ پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ مالیاتی انٹیلیجنس رپورٹوں، گواہوں کے بیانات اور لین دین کے ریکارڈ سے جرائم کے شواہد ملے ہیں۔ اس کیس میں 17 افراد کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں، جن میں سے 11 کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ماہر اوغلو کی شراکت یا انتظام والی کمپنیوں کو ضبط کر لیا گیا ہے اور سرکاری ادارے “ٹی ایم ایس ایف” (سیونگز ڈپازٹ انشورنس فنڈ) کو ٹرسٹی مقرر کیا گیا ہے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ ازمیر میٹروپولیٹن بلدیہ کے ٹینڈروں کے سلسلے میں تقریباً ایک کروڑ 45 لاکھ ترک لیرا (لگ بھگ دو لاکھ 93 ہزار ڈالر) کی غیر ریکارڈ شدہ رشوت دی گئی اور رقم ماہر اوغلو سے منسلک کمپنیوں کو منتقل کی گئی۔ ماہر اوغلو اس وقت ترکیہ سے باہر ہیں اور حکام ان کی تلاش میں ہیں — ان کے خلاف جون 2025 سے گرفتاری کا وارنٹ پہلے ہی جاری ہے۔
ہالک ٹی وی کے ایڈیٹر انچیف سوات توکتاش نے ٹرسٹی وفد کے سربراہ سے لائیو نشریات جاری رکھنے کی درخواست کی، جو مسترد کر دی گئی۔ توکتاش نے نئے انتظام کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش بھی ٹھکرا دی اور قبضے کو غیر قانونی قرار دیا۔
اپوزیشن کے مرکزی رہنما اوزگور اوزل نے ایکس پر اس کارروائی کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا: “ایک ٹیلی ویژن چینل پر صبح سویرے چھاپا، ٹرسٹی مقرر کرنا — یہ کام صرف آمر کرتے ہیں۔” اوزل نے مزید کہا کہ جو لوگ بلدیات پر ٹرسٹی بٹھاتے اور عوامی رائے کو پامال کرتے ہیں، انہوں نے اب لاکھوں ناظرین والے ہالک ٹی وی پر بھی ٹرسٹی بٹھا دیا ہے۔
دوسری جانب چینل کے چیئرمین ماہر اوغلو نے ایکس پر جاری بیان میں اس کارروائی کا الزام سی ایچ پی کے سربراہ کمال قلیچدار اوغلو اور ان کے ساتھیوں پر عائد کیا اور لکھا کہ “سی ایچ پی کے رہنما قلیچدار اوغلو اور ان کی ٹیم خوش ہو سکتی ہے۔ ہالک ٹی وی پر پولیس ہے۔”
ہالک ٹی وی ترکیہ کا وہ پانچواں بڑا نیوز چینل ہے جس پر ٹرسٹی مقرر کیا گیا ہے — اس سے قبل فلیش ٹی وی، ایکو ترک، حبرترک اور ٹیلی1 کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو چکا ہے۔
یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ ترکیہ میں پریس کی آزادی پہلے ہی دباؤ میں ہے — رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے 2025 کے پریس فریڈم انڈیکس میں ترکیہ 159ویں نمبر پر ہے، جبکہ 2005 میں اس کا نمبر 100 کے لگ بھگ تھا۔ 2016 کی ناکام بغاوت کے بعد 150 سے زائد میڈیا ادارے بند کیے گئے اور 160 صحافی جیل بھیجے گئے۔ ٹرسٹی مقرر کرنے کا یہ ہتھیار پہلے منتخب میئروں کے خلاف استعمال ہوتا رہا ہے؛ اب اس کا رخ براہ راست نیوز رومز کی طرف ہے۔ ہالک ٹی وی لاکھوں ناظرین کا چینل ہے اور اس پر قبضہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی ایک نئی اور کھلی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا — جس کے اثرات ترکیہ کی سیاست اور آنے والے انتخابی ماحول دونوں پر پڑیں گے۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کے اجلاس کی تفصیل یہاں پڑھیں۔
تصحیح: اس خبر کے پہلے ورژن میں کمال قلیچدار اوغلو کو سی ایچ پی کا سابق سربراہ کہا گیا تھا۔ مئی 2026 میں عدالتی فیصلے سے ان کی بحالی کی تصدیق کے بعد اسے درست کر دیا گیا ہے۔ 14 اکتوبر 2026

قارئین کے تبصرے (0)