ریاض میں پیر کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان شریک ہوئے۔ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں تیزی آ گئی ہے، اور یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے اتوار کو حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے واپس لینے کے لیے ہمہ جہت فوجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان کی نمائندگی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق یہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کی گئی کمیٹی کا ہے، جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور معاہدے کے تحت جاری دفاعی تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔
ترکیہ کی جانب سے وزیر خارجہ حکاکان فدان، وزیر دفاع یشار گلر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوک بایراکتر اوغلو شریک ہیں۔ انقرہ کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں خطے کی حالیہ پیش رفت کے علاوہ اتحاد کو ادارتی شکل دینے کے کام میں اب تک کی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 29 ستمبر کو حوثیوں کے ایک ڈرون نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والے طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن کے ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچایا تھا، جبکہ اس سے قبل 8 ستمبر کو سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی تنصیبات پر حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ رائٹرز کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو بتایا تھا کہ ایران نے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے کی تجویز دی ہے اور اس تجویز پر بھی ریاض اجلاس میں غور کیا جائے گا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ رواں سال 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں تینوں ملکوں کے درمیان ہوا تھا۔ اس کی مرکزی شق یہ ہے کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق کم از کم چھ مزید ممالک نے اس معاہدے میں شمولیت کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے قومی دن پر اپنے پیغام میں واضح کیا تھا: «پاکستان مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور اسلام کے مقدس مقامات کی حرمت کے تحفظ میں کندھے سے کندھا ملا کر مملکت کے ساتھ غیر متزلزل طور پر کھڑا ہے۔» وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے 2022 کی جنگ بندی کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ہیں، اور ریاض اب سلامتی کے لیے کسی ایک بیرونی طاقت پر انحصار کے بجائے علاقائی اتحادوں کی متعدد سطحیں بنا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع اس لحاظ سے بھی معنی خیز ہے کہ وہ مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت ہے اور اس کے عسکری ادارے سعودی عرب کے ساتھ کئی دہائیوں سے قریبی رشتے میں ہیں۔ تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان کا ایک میز پر جمع ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ معاہدہ محض ایک اعلامیے سے آگے بڑھ کر عملی اتحاد کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
اجلاس میں اتحاد کے مستقل سیکریٹریٹ کے قیام اور اس کی ادارتی تشکیل میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکریٹریٹ ریاض میں قائم ہوگا اور اس کے پہلے تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل پاکستان کی جانب سے فراہم کیا جائے گا؛ اس عہدے پر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کی تقرری کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی اس اجلاس میں شرکت خطے کے امن و استحکام کے لیے اس کے عزم کا اظہار ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)