یہ “ماسکڈ” بلڈ پریشر ہوتا کیا ہے؟
ہم میں سے اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر کے کلینک میں ناپا گیا بلڈ پریشر اصل صورتحال بتاتا ہے۔ مگر کچھ لوگوں میں معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے: کلینک میں ریڈنگ نارمل آتی ہے، جبکہ گھر پر — روزمرہ کے ماحول میں — بلڈ پریشر مسلسل زیادہ رہتا ہے۔ طبی زبان میں اسے “ماسکڈ ہائی بلڈ پریشر” کہتے ہیں، یعنی چھپا ہوا ہائی بلڈ پریشر۔ اس کا الٹ “وائٹ کوٹ” بلڈ پریشر ہے، جس میں ڈاکٹر کو دیکھ کر گھبراہٹ کے باعث کلینک میں ریڈنگ زیادہ آتی ہے، مگر گھر پر سب نارمل ہوتا ہے۔
نئی تحقیق میں کیا انکشاف ہوا ہے؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے ہائی بلڈ پریشر پر سالانہ سائنسی اجلاس میں پیش کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، 78 سال سے زائد عمر کے جن افراد میں ماسکڈ ہائی بلڈ پریشر پایا گیا، ان میں گرنے کا خطرہ 70 فیصد زیادہ تھا — ان لوگوں کے مقابلے میں جن کا بلڈ پریشر دفتر اور گھر دونوں جگہ زیادہ ریکارڈ ہوا تھا۔ تحقیق کی سربراہ فرانسس وانگ کے مطابق، “ڈاکٹر کے دفتر میں پیمائش کے ساتھ ساتھ گھر پر بلڈ پریشر کی ریڈنگ خفیہ ہائی بلڈ پریشر اور بزرگوں میں گرنے کے خطرے کی نشاندہی کا ایک اہم ذریعہ ہو سکتی ہے۔” وہ بوسٹن کے بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سینٹر میں محقق ہیں۔
یہ تحقیق کیسے کی گئی؟
ٹیم نے دل کے امراض کے خطرے پر جاری ایک طویل مدتی مطالعے کے 750 سے زائد شرکاء کا ڈیٹا استعمال کیا۔ ان کی عمریں 78 سے 98 سال کے درمیان تھیں۔ ہر شخص کا بلڈ پریشر ڈاکٹر کے دفتر میں بھی ناپا گیا اور گھر پر بھی — دونوں جگہ متعدد بار۔ شرکاء میں 17 فیصد میں وائٹ کوٹ، 15 فیصد میں ماسکڈ اور 33 فیصد میں نارمل بلڈ پریشر پایا گیا۔ تقریباً ایک سال کے فالو اپ میں ہر چار میں سے ایک شخص (23 فیصد) کم از کم ایک بار گرا۔ طویل مدتی طبی مطالعے اس سے پہلے بھی پرانی سوچ بدل چکے ہیں — بچپن کی فٹنس اور جوانی کی ذہنی صحت پر تیس سال پر محیط تحقیق اس کی ایک اور مثال ہے۔
زیادہ بلڈ پریشر سے گرنے کا تعلق کیسے بنتا ہے؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ چکر آنے یا بے ہوشی کا باعث بن سکتا ہے، اور یہی گرنے کی وجہ بنتا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ صرف کم بلڈ پریشر گراتا ہے، مگر ابھرتی ہوئی شواہد بتاتی ہیں کہ گھر پر زیادہ بلڈ پریشر بھی بزرگوں میں گرنے کے واقعات سے جڑا ہوا ہے۔ امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق گرنا 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں معذوری اور روزمرہ سرگرمیوں سے محرومی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
وائٹ کوٹ بلڈ پریشر والوں کا کیا بنا؟
یہ نتیجہ حیران کن تھا: جن افراد کا بلڈ پریشر صرف کلینک میں زیادہ آتا تھا، ان میں گرنے کا خطرہ 39 فیصد کم پایا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل خطرہ وہ ہے جو روزمرہ زندگی میں چھپا رہتا ہے — گھر کی چار دیواری میں — نہ کہ وہ جو صرف ڈاکٹر کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔
کیا یہ حتمی ثبوت ہے؟
نہیں، اور یہ وضاحت خود تحقیق کے ساتھ دی گئی ہے۔ یہ نتائج ایک تحقیقی خلاصے کی صورت میں پیش کیے گئے ہیں، جن کا کسی تصدیق شدہ جریدے میں اشاعت سے پہلے آزادانہ جائزہ نہیں ہوا، اس لیے انہیں ابتدائی سمجھنا چاہیے۔ تاہم یہ نتائج امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی 2025 کی مشترکہ ہدایات سے ہم آہنگ ہیں، جن میں بالغ افراد کے لیے سالانہ بلڈ پریشر کی نگرانی اور گھر پر پیمائش کی سفارش کی گئی ہے۔
پاکستان کے بزرگوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
پاکستان میں بزرگ عام طور پر مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال گھر والوں کے ذمے ہوتی ہے — مگر بلڈ پریشر کی نگرانی اکثر صرف اس وقت ہوتی ہے جب ڈاکٹر کے پاس جانا ہو۔ یہ تحقیق اسی عادت پر سوال اٹھاتی ہے۔ ڈیجیٹل بلڈ پریشر مانیٹر اب چند ہزار روپے میں مل جاتے ہیں اور انہیں چلانا مشکل نہیں۔ اگر گھر کے کسی بزرگ کا بلڈ پریشر کلینک میں نارمل آتا ہے مگر وہ اکثر چکر کی شکایت کرتے ہیں یا گر چکے ہیں، تو گھر پر باقاعدہ پیمائش ڈاکٹر کو وہ تصویر دے سکتی ہے جو کلینک کی ایک ریڈنگ کبھی نہیں دے گی۔ بزرگوں کے لیے گرنا صرف چوٹ نہیں ہوتا — کولہے کی ہڈی ٹوٹ جائے تو اکثر مریض بستر تک محدود ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد صحت کا زوال تیز ہو جاتا ہے۔ ایک سستا آلہ اور روز کی دو منٹ کی عادت اس زنجیر کو توڑ سکتی ہے۔ مسلسل نگرانی کی اہمیت صرف بلڈ پریشر تک محدود نہیں — کینیا میں ایبولا کیس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے بھی مسلسل نگرانی پر زور دیا تھا۔
گھر پر بلڈ پریشر ناپتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟
- روز ایک ہی وقت پر ناپیں — بہتر ہے صبح دوا لینے سے پہلے اور شام کو۔
- ناپنے سے آدھا گھنٹہ پہلے چائے، کافی یا سگریٹ سے پرہیز کریں، اور پانچ منٹ آرام سے بیٹھ کر ناپیں۔
- بازو دل کی سطح پر ہو، کف بازو کے سائز کے مطابق ہو، اور ہر ریڈنگ ڈائری میں لکھیں تاکہ اگلی بار ڈاکٹر کو دکھا سکیں۔

قارئین کے تبصرے (0)