بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کے ایس ای 100 انڈیکس 641 پوائنٹس بڑھ کر 165417 پر بند ہوا۔ سرخی اچھی لگتی ہے — مگر اس ایک سبز دن کے پیچھے جو کہانی ہے، وہ بحالی کی نہیں، احتیاط کی ہے۔ یہ وہ مارکیٹ ہے جو بنیادوں پر نہیں، خبروں کے وقفوں پر چل رہی ہے۔
پہلے اعداد دیکھیں۔ بدھ کے سیشن میں انڈیکس 641.07 پوائنٹس (0.39 فیصد) کے اضافے کے ساتھ 165417.51 پر بند ہوا؛ دن کی بلند ترین سطح 165629 اور کم ترین 164060 رہی۔ مگر اس ایک دن کو پچھلے دو دنوں کے ساتھ رکھ کر دیکھیں: پیر کو 1965 پوائنٹس کی گراوٹ اور اس سے قبل جمعے کو 353 پوائنٹس کی کمی — یعنی دو دن میں تقریباً 2300 پوائنٹس ضائع ہوئے، اور بدھ کی “بڑی واپسی” نے اس کا محض چوتھائی حصہ واپس کیا۔ حساب کتاب میں یہ واپسی نہیں، ایک سانس ہے۔
دوسری بات: یہ تیزی کن حصص کی مرہون منت تھی؟ جواب تنگ ہے۔ ریفائنری سیکٹر نے قیادت کی — پاکستان ریفائنری 6 روپے بڑھ کر 99.19 روپے اور سینرجیکو 0.42 روپے اضافے کے ساتھ 12.71 روپے پر بند ہوئی۔ بینکنگ، سیمنٹ اور فرٹیلائزر کے بھاری حصص نے سہارا دیا: اینگرو ہولڈنگز، لکی سیمنٹ، فوجی فرٹیلائزر، بینک الحبیب اور نیشنل بینک نے مل کر انڈیکس کو 382 پوائنٹس دیے، جبکہ ایم سی بی، حب پاور، پاکستان آئل فیلڈز، پی ٹی سی ایل اور نیشنل فوڈز نے 134 پوائنٹس گھٹا دیے۔ یعنی پانچ حصص اوپر لے گئے، پانچ نے نیچے کھینچا — یہ چوڑی بنیاد والی ریلی نہیں، منتخب خریداری ہے۔
تیسری بات، اور سب سے اہم: تجزیہ کار خود اسے ریلی نہیں کہہ رہے۔ کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے مطابق تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل کے قریب مستحکم رہی اور “نئی منفی خبر نہ آنے” سے سرمایہ کاروں کا حوصلہ بڑھا — غور کریں، حوصلہ کسی اچھی خبر سے نہیں، بری خبر کی غیر موجودگی سے بڑھا۔ جے ایس گلوبل کے تجزیہ کار نواز علی کے الفاظ میں: “مارکیٹ میں محدود مثبت سرگرمی دیکھی گئی، جس کی قیادت بنیادی طور پر ریفائنری سیکٹر میں خریداری نے کی، اگرچہ مجموعی شراکت کم رہی۔” عارف حبیب لمیٹڈ کے علی نجیب نے بھی یہی کہا کہ 165000 سے اوپر بحالی قلیل مدتی سہارا دے سکتی ہے، مگر امریکہ ایران کشیدگی، تیل کی بلند قیمتیں اور ملکی سیاسی بے یقینی اتار چڑھاؤ کو ہوا دیتی رہیں گی۔
والیوم کی کہانی بھی دو رخی ہے۔ بدھ کو 585.9 ملین حصص کا کاروبار ہوا، منگل کے 383.7 ملین سے کہیں بہتر، اور مالیت 13.1 ارب سے بڑھ کر 20 ارب روپے ہو گئی۔ مگر یہی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شراکت اب بھی محتاط ہے — پائیدار رفتار کے لیے مسلسل خریداری اور زیادہ والیوم درکار ہو گا۔ ترجمہ: پیسہ ابھی کنارے پر بیٹھا ہے، میدان میں نہیں اترا۔
تو قاری کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟ اگر آپ چھوٹے سرمایہ کار ہیں تو ایک دن کی سبز بتی کو ریلی سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ اس مارکیٹ کے تین انجن ہیں اور تینوں باہر کے ہیں: پہلا، تیل کی قیمت — آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے بعد 106 ڈالر کی سطح برقرار ہے، اور ریفائنری حصص کی تیزی اسی سے جڑی ہے؛ دوسرا، سیاست — آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہے اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر ہر خبر انڈیکس کو ہلا سکتی ہے؛ تیسرا، ادارہ جاتی خریداری کا تسلسل — بدھ کی تیزی میں اداروں نے منتخب حصص خریدے، مگر کیا وہ کل بھی خریدیں گے؟
مختصر یہ کہ مارکیٹ نے بدھ کو گرنے سے انکار کیا — اٹھنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا۔ اگلے چند سیشن بتائیں گے کہ یہ واقعی رخ موڑنے کی شروعات تھی یا صرف ایک دن کی مہلت۔

قارئین کے تبصرے (0)