Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

پیر کو کے ایس ای 100 میں 1965 پوائنٹس کی گراوٹ — ایمرجنسی کے بعد مارکیٹ میں خوف کی لہر

اسٹاک مارکیٹ کے ٹریڈنگ چارٹس کی اسکرین

اہم نکات:

  • کے ایس ای 100 انڈیکس پیر (12 اکتوبر) کو 1,964.87 پوائنٹس (1.18 فیصد) گر کر 165,124.41 پر بند ہوا — کاروباری ہفتے کا بدترین آغاز۔
  • وجہ: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلان کے بعد سیاسی بے یقینی، اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا خوف۔
  • 500 کمپنیوں میں سے 322 کے حصص گرے، 135 میں تیزی آئی؛ مجموعی کاروبار 36 کروڑ 30 لاکھ حصص، مالیت 14.5 ارب روپے۔
  • سب سے زیادہ دباؤ: او جی ڈی سی، حبیب بینک، میزان بینک اور لکی سیمنٹ — صرف پانچ بڑے شیئرز نے تقریباً 645 پوائنٹس کا دباؤ ڈالا۔
  • تجزیہ کاروں کا مشورہ: اتار چڑھاؤ جاری رہے گا — منتخب رہیں، مضبوط بنیادوں والے شیئرز کو ترجیح دیں، جارحانہ پوزیشن سے گریز کریں۔

کراچی — پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو کاروباری ہفتے کا آغاز خوف کے سائے میں ہوا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,964.87 پوائنٹس یعنی 1.18 فیصد کی کمی کے ساتھ 165,124.41 پر بند ہوا — ایک ایسا دن جس میں خریدار کم اور بیچنے والے زیادہ تھے۔

یہ گراوٹ اچانک نہیں آئی۔ جمعے کو بھی انڈیکس 352.63 پوائنٹس گرا تھا (جمعے کے سیشن کی مکمل رپورٹ یہاں پڑھیے)، مگر پیر کو اصل دھچکا سیاسی محاذ سے لگا: اتوار کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی صدر کی منظوری کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کر لیا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اسی فیصلے نے سیاسی بے یقینی بڑھائی اور مارکیٹ دباؤ میں آ گئی۔ دو سیشنز میں انڈیکس تقریباً 2,317 پوائنٹس صاف ہو چکا ہے۔

فروخت کا دباؤ تقریباً ہر شعبے میں تھا — آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، آٹو اسمبلرز، سیمنٹ، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں، کمرشل بینک اور آئل اینڈ گیس کی تلاش والی کمپنیاں۔ او جی ڈی سی، حبیب بینک، میزان بینک اور لکی سیمنٹ سب سے زیادہ گرنے والوں میں رہے؛ ڈان کے مطابق صرف پانچ بڑے شیئرز (یونائیٹڈ بینک سمیت) نے مجموعی طور پر تقریباً 645 پوائنٹس کا دباؤ ڈالا۔

اعداد و شمار بھی مندی کی شدت بتاتے ہیں۔ ریڈی مارکیٹ میں 500 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا — 135 میں تیزی، 322 میں مندی، 43 غیر متغیر رہے۔ مجموعی حجم 36 کروڑ 30 لاکھ حصص (جمعے کو 30 کروڑ 94 لاکھ) اور مالیت 14.5 ارب روپے رہی۔ ٹریٹ کارپوریشن 2 کروڑ 73 لاکھ حصص کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والی کمپنی رہی۔ ایک مثبت اشارہ بھی ملا: غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 1.16 کروڑ روپے مالیت کے حصص خریدے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق مارکیٹ کا آغاز سیاسی بے یقینی کے باعث منفی رہا؛ نچلی سطح پر خریداری سے عارضی سہارا ملا مگر بحالی دیرپا نہ رہی اور انڈیکس واضح مندی پر بند ہوا۔ ان کے بقول آگے بھی اتار چڑھاؤ رہے گا — سرمایہ کار منتخب رہیں، مضبوط بنیادوں والے شیئرز کو ترجیح دیں اور جذبات ٹھہرنے تک جارحانہ پوزیشن سے گریز کریں۔

کے ٹریڈ کے ہیڈ آف ریسرچ فواد بصیر نے کمزوری کی دوہری وجہ بتائی: جغرافیائی سیاسی بے یقینی اور کے پی میں بڑھتی کشیدگی۔ ان کے مطابق جون 2026 کے کارپوریٹ نتائج توقع سے بہتر رہے، مگر اجناس کی بلند قیمتیں مہنگائی کو اوپر رکھے ہوئے ہیں — اور مشرق وسطیٰ کے بحران و آئی ایم ایف جائزے کے تناظر میں ایکسچینج ریٹ اور شرحِ سود سرمایہ کاروں کی اصل فکر ہیں۔

عالمی محاذ پر تصویر ملی جلی رہی۔ ٹرمپ کے “توانائی جنگ بندی” کے دعوے اور روس سے ڈیزل معاہدے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 104 ڈالر سے نیچے آئی (پیر کو 103.35 ڈالر)، مگر ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی کا خوف برقرار ہے۔ کے ٹریڈ کے مطابق مارکیٹ کی سمت اب جغرافیائی سیاسی پیش رفت اور تیل کی قیمتوں سے جڑی ہے — خام تیل میں مسلسل نرمی اور امریکا ایران رابطوں میں پیش رفت سہارا دے سکتی ہے، ورنہ مندی کا رجحان طول پکڑ سکتا ہے۔

یہاں ایک تضاد سمجھنا ضروری ہے۔ معیشت کی بنیادیں نہیں ہلیں — ستمبر میں ترسیلاتِ زر 3.6 ارب ڈالر (سال بہ سال 12.7 فیصد اضافہ)، زرمبادلہ ذخائر 26.8 ارب ڈالر، اور آئی ایم ایف پروگرام اپنی جگہ قائم ہے۔ ہلا ہے تو صرف اعتماد۔ مارکیٹ اس وقت معیشت پر نہیں، بے یقینی پر ووٹ دے رہی ہے — اور بے یقینی کی جڑ اسلام آباد اور پشاور کے درمیان جاری رسہ کشی ہے۔ تکنیکی طور پر بھی صورتحال نازک ہے: جمعے کے تجزیوں میں 165,000 کی سطح کو اہم سہارا کہا گیا تھا، اور پیر کو انڈیکس 165,124 پر بند ہوا — یعنی سہارے کی دہلیز پر۔ آج کا سیشن بتائے گا کہ یہ دہلیز ٹوٹتی ہے یا سنبھلتی ہے۔

آگے دیکھنے والی باتیں: آج شام پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں ایمرجنسی پر بحث کا لہجہ، تیل کی قیمتوں کا رخ، اور اسٹیٹ بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی۔ سرخ اسکرینیں بالآخر سبز بھی ہوتی ہیں — مگر اس کے لیے مارکیٹ کو پہلے یہ یقین چاہیے کہ سیاست اب سڑک سے ایوان میں آ کر ٹھہرے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *