Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

عمان کے وزیر خارجہ کا دو روزہ دورہ: آج اسلام آباد میں مشترکہ کمیشن کا اجلاس — خطے کی کشیدگی کے سائے میں اہم ملاقاتیں

عمان اور پاکستان کے جھنڈے

اہم نکات

  • عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی آج منگل کو دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
  • دورہ 13 سے 14 اکتوبر تک ہوگا؛ دعوت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے دی گئی ہے۔
  • اسلام آباد میں پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کا آٹھواں اجلاس ہوگا، جس کی مشترکہ صدارت دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کریں گے۔
  • عمانی وزیر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی شائستگی کی ملاقات کریں گے۔
  • یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال اور سعودی عرب پر حوثی حملے خطے کے لیے سنگین چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد — دفتر خارجہ نے پیر کو اعلان کیا کہ عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی 13 اور 14 اکتوبر کو پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان کے مطابق دورے کا مرکزی ایجنڈا پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کا آٹھواں اجلاس ہوگا، جو اسلام آباد میں منعقد ہوگا اور جس کی مشترکہ صدارت دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کریں گے۔

کمیشن کے اجلاس میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایجنڈے میں تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، مالیات، تیل و گیس، افرادی قوت، قونصلر امور، سیکیورٹی، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، سول ایوی ایشن، تعلیم، میڈیا اور ثقافت سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق عمانی وزیر خارجہ اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

دورے سے ایک روز قبل پیر کو اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ایک بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کی، جس میں کمیشن کے ایجنڈے، مجوزہ معاہدوں اور تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق ڈار نے کمیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ٹھوس نتائج حاصل کرنے کے لیے مکمل تیاری اور مؤثر فالو اپ یقینی بنایا جائے۔

یہ دورہ صرف سفارت سے بڑھ کر ہے

عمان کی جغرافیائی حیثیت ہی اس دورے کو وزن دیتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر بیٹھا یہ ملک ایران کے ساتھ مشترکہ آبی سرحد رکھتا ہے، اور تہران و واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا اس کا ریکارڈ دہائیوں پرانا ہے۔ ایسے وقت میں جب حوثی حملوں نے سعودی شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، آبنائے ہرمز میں تجارتی راستے دباؤ میں ہیں اور پاکستان کی توانائی کی فراہمی اسی راستے سے جڑی ہے، عمان کے ساتھ بات چیت اسلام آباد کے لیے صرف دوطرفہ تعلقات کا معاملہ نہیں رہا — یہ خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

پاکستان کی سعودی عرب میں فوجی موجودگی کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی تازہ تصدیق کے بعد اسلام آباد پہلے ہی خلیجی سلامتی کے منظرنامے میں کھل کر کھڑا ہے۔ اس پس منظر میں عمان — جو سعودی عرب کا پڑوسی بھی ہے اور ایران سے بات چیت کا راستہ بھی رکھتا ہے — کے ساتھ بات چیت پاکستان کو کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔

ایجنڈے کا ایک خاموش مگر اہم حصہ افرادی قوت اور قونصلر امور ہے۔ عمان میں ہزاروں پاکستانی کام کرتے ہیں، اور دفتر خارجہ کو وہاں سے پاکستانیوں کے معاملات میں تاخیر اور بے توجہی کے تنازعات کا بھی سامنا ہے۔ مشترکہ کمیشن ایسے مسائل کے حل کا باقاعدہ فورم ہے، بشرطیکہ اس بار ایجنڈا محض کاغذی نہ رہے۔

ریاض کے لیے پی آئی اے کی پروازیں معطل ہونے کے واقعے نے دکھا دیا ہے کہ خطے کی کشیدگی پاکستان کے عام شہری کی زندگی تک کیسے پہنچتی ہے۔ عمانی وزیر خارجہ کا دورہ اسی لیے اہم ہے کہ یہ دونوں ممالک کو بحران کے انتظام اور باہمی مفادات کے تحفظ پر بات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اب سب کی نظریں کمیشن کے اجلاس کے نتائج پر ہوں گی — کہ کیا یہ دورہ محض رسمی ملاقاتوں تک محدود رہے گا، یا پاکستان اور عمان کے تعلقات میں کوئی ٹھوس پیش رفت بھی لے کر آئے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *