Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

ریاض پر حوثی حملوں کے بعد پی آئی اے کی پروازیں معطل: شہباز شریف کی مذمت، پاکستانیوں کے لیے اہم معلومات

پرواز بھرتا پی آئی اے کا بوئنگ 777 مسافر طیارہ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے سعودی دارالحکومت ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ “مشرق وسطیٰ کی صورتحال” کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب یمن کے حوثی باغیوں نے جمعرات کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

پی آئی اے نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے کال سینٹر (111-786-786) سے اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال ضرور معلوم کر لیں۔

پرواز بھرتا پی آئی اے کا بوئنگ 777 مسافر طیارہ
پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ — تصویر: Asuspine، وکیمیڈیا کامنز (GFDL-1.2)

سعودی سول ڈیفنس حکام کے مطابق جمعرات کو تباہ کیے گئے ایک میزائل کا ملبہ ریاض میں ایک کنڈرگارٹن اور ایک طبی مرکز پر گرا، جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ حکام نے ملبہ گرنے کے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ سعودی فورسز نے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور یمنی سرحد کے قریب خمیس مشیط کی طرف داغا گیا ایک میزائل تباہ کر دیا۔ دوسری طرف حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ریاض اور نجران کے ایئرپورٹس کو نشانہ بنایا اور بین الاقوامی ایئرلائنز کو سعودی فضائی حدود میں پروازوں سے خبردار کیا۔

اس ہفتے کے حملوں میں ایک پاکستانی بھی زخمی ہوا ہے۔ سعودی محکمہ شہری ہوابازی (GACA) کے مطابق چھ اور سات اکتوبر کو ریاض اور ابھا کے ایئرپورٹس پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں پانچ سعودی شہری، دو مصری اور ایک پاکستانی مقیم شامل ہیں۔ ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں ایک سوڈانی مقیم ہلاک ہوا، جبکہ ابھا میں ایک مراکشی اور ایک الجیریائی خاتون جاں بحق ہوئیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کے روز ایکس پر جاری بیان میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض اور ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے سمیت حوثی ملیشیا کے بار بار کے دہشت گرد حملوں کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں، جن میں شہریوں کی جانیں گئیں اور لوگ زخمی ہوئے۔ وزیراعظم نے میزائلوں کو ناکام بنانے پر سعودی مسلح افواج اور اتحادی دستوں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔

اپنے بیان میں شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے اور اس کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کی روشنی میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔ ان کے الفاظ میں: “حوثی ملیشیا کو فوری طور پر یہ حملے بند کرنا ہوں گے۔ ان خطرات کے سامنے ہم سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔”

یہ معاہدہ اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا، جس کی رو سے تینوں میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ بدھ کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی تھی کہ پاکستانی فوجی “دہائیوں سے” سعودی عرب میں تعینات ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر صورتحال بگڑی تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ “عملی اور سفارتی” طور پر کھڑا ہوگا۔

پی آئی اے اکیلی نہیں — لفتھانزا گروپ نے 16 اکتوبر تک ریاض کی پروازیں معطل کی ہیں، ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے 10 اکتوبر تک، انڈیگو نے 9 اکتوبر تک پروازیں روکی ہیں، جبکہ فلپائن ایئرلائنز نے منیلا۔ریاض روٹ منسوخ کر دیا۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق جمعے کو ریاض ایئرپورٹ کی 104 پروازیں منسوخ اور 154 تاخیر کا شکار ہوئیں۔

یہ صورتحال پاکستان کے لیے محض خارجہ خبر نہیں۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، اور ریاض کا ہوائی اڈہ ان کی آمد و رفت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ پی آئی اے کا پروازیں معطل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ خطرے کو سنجیدہ لیا جا رہا ہے — یہ معمول کی تاخیر نہیں، سیکیورٹی فیصلہ ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم کا مکہ معاہدے کا کھلا حوالہ اس معاہدے کا پہلا عملی امتحان ہے: اب تک یہ کاغذ پر تھا، اب اس کی افادیت میدان میں پرکھی جا رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں تین چیزوں پر نظر رہے گی: پہلی، ریاض ایئرپورٹ کب معمول پر آتا ہے اور پی آئی اے سمیت ایئرلائنز کب پروازیں بحال کرتی ہیں؛ دوسری، کیا حوثیوں کے حملے تیل کی تنصیبات تک پھیلتے ہیں، جس کا انھوں نے عندیہ دیا ہے؛ اور تیسری، پاکستان کا کردار دفاعی اور سفارتی حدوں میں رہتا ہے یا اس سے آگے بڑھتا ہے — اسلام آباد اب تک یہی کہتا آیا ہے کہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔

ریاض جانے کے خواہشمند مسافر اپنی ایئرلائن سے رابطے میں رہیں اور پرواز کی حیثیت کی تصدیق کے بغیر ایئرپورٹ نہ جائیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *