آج کیا ہوا؟
شمالی کوریا نے پیر 12 اکتوبر کی صبح پیونگ یانگ کے قریب سے کئی بیلسٹک میزائل مشرقی سمندر کی طرف داغے۔ جنوبی کوریا کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل صبح نو بج کر بیس منٹ پر (پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً پانچ بج کر بیس منٹ) فائر کیے گئے، اور یہ دکھائی دینے والے میزائل مختلف اقسام کے تھے۔
فوجی حکام نے بتایا کہ ان میں سے ایک قسم کے میزائل نے نو سو کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا — یہ کوئی چھوٹی رینج کا تجربہ نہیں تھا۔ جاپانی کوسٹ گارڈ نے بھی کم از کم دو نامعلوم اشیاء کی اطلاع دی جنہیں بیلسٹک میزائل مانا گیا، اور دونوں سمندر میں جا گریں۔
جنوبی کوریا کا ردعمل
ردعمل تاخیر کے بغیر آیا۔ جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کے دفتر نے ہنگامی اجلاس بلایا، میزائل تجربات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
جنوبی کوریا کے فوجی ترجمان نے کہا کہ پیر کے تجربات “ہمارے ہائپر سونک میزائل کے کامیاب تجربے کے جواب میں قوت کا مظاہرہ تھے، اور میزائل صلاحیتوں کا ایک ارادی مظاہرہ بھی”۔ جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان کے مطابق وہ شمالی کوریا کے میزائلوں پر معلومات کا تبادلہ قریبی سطح پر جاری رکھے ہوئے ہیں اور مزید فائرنگ کے امکان کے لیے نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
تصویر بڑی کیوں ہے؟
یہ ایک ماہ میں پیونگ یانگ کا چوتھا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے تین اکتوبر کو شمالی کوریا نے مشرقی سمندر کی طرف ایک میزائل داغا تھا جس کے بارے میں سرکاری میڈیا کے سی این اے نے دعویٰ کیا کہ یہ ہائپر سونک رینج کا بیلسٹک میزائل تھا جس کی نگرانی خود کم جونگ اُن نے کی۔ کم جونگ اُن کی طاقتور بہن کم یو جونگ نے تو یہ تک کہا کہ اس میزائل میں کم اونچائی پر پرواز کا راستہ بدلنے کی صلاحیت ہے اور “مصنوعی ذہانت متعارف کرائی گئی تھی”۔
ان تجربات کے پس منظر میں ایک خونی حادثہ بھی ہے۔ ستمبر میں ڈی ملٹرائزڈ زون میں دو بارودی سرنگیں پھٹنے سے جنوبی کوریا کے تین فوجی زخمی ہوئے۔ سیول نے کہا کہ یہ سرنگیں شمالی کوریا نے ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے نصب کی تھیں اور معافی کا مطالبہ کیا، جسے پیونگ یانگ نے مسترد کر کے جنوبی کوریا پر اشتعال کا الزام لگا دیا۔
پھر آٹھ اکتوبر کو جنوبی کوریا نے خود اپنے ہائپر سونک گلائیڈ وہیکل کا کامیاب تجربہ کیا — صدر لی جے میونگ نے اس کی نگرانی خود کی، جو جنوبی کوریا کے کسی صدر کی جانب سے میزائل تجربے کی شاذ و نادر ہی دکھائی دینے والی عوامی نگرانی تھی۔ صدارتی دفتر کے مطابق یہ نیا ہتھیار “جزیرہ نما کوریا کے آپریشنل ماحول میں اہم اہداف پر حملے کی نئی روک تھام کی صلاحیت” دیتا ہے۔
یہ پاکستان کے قاری کے لیے کیوں اہم ہے؟
کوریائی جزیرے پر صورت حال ایک واضح ایکشن-ری ایکشن سائیکل میں بدل چکی ہے: پیونگ یانگ میزائل داغتا ہے، سیول اس کا جواب نئے ہتھیاروں کے تجربے سے دیتا ہے، اور ہر بار دونوں کا لہجہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی پابندیاں 2006 سے نافذ ہیں، مگر وہ میزائل پروگرام نہیں روک سکیں — اگر کچھ ہوا ہے تو وہ رینج اور ٹیکنالوجی میں بہتری ہے۔
یہ تناؤ صرف کوریا کا مسئلہ نہیں۔ شمالی کوریا کے ہر تجربے کے بعد امریکا اور جاپان کی فوجی تیاریاں بڑھتی ہیں، جس کا اثر مشرقی ایشیا کی منڈیوں، سپلائی چینز اور تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے — اور پاکستان جیسے درآمد کنندہ ممالک ان قیمتوں کا اثر براہ راست محسوس کرتے ہیں۔ سب سے تشویشناک بات: دونوں کوریا اب “ہائپر سونک” ہتھیاروں کی دوڑ میں داخل ہو چکے ہیں، جن کی رفتار اور کم پرواز کی صلاحیت دفاعی نظاموں کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔
آگے کیا؟
جنوبی کوریا کی فوج نے مزید فائرنگ کے امکان کے خلاف نگرانی سخت کر دی ہے، اور شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی جانب سے ان تجربات کی تفصیل اور دعوے آنے کا امکان ہے — پیونگ یانگ عام طور پر اپنے تجربات کے بعد انہیں “کامیاب” قرار دیتا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ جنوبی کوریا، جو اب خود ہائپر سونک صلاحیت کا مالک بن چکا ہے، اس جواب کو آگے کیسے لے کر چلتا ہے۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ کا زیلنسکی کو سخت مشورہ — یوکرین کو ایسا نیا صدر چاہیے جو روس سے معاہدہ کر سکے | ٹرمپ کا پیوٹن سے بڑا ڈیزل معاہدہ: روس فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل دے گا

قارئین کے تبصرے (0)