Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

روس کے “گوگل” پر تیسرا وار: ینڈیکس کا ولادیمیر ڈیٹا سینٹر ڈرون حملے میں مکمل بند

ڈیٹا سینٹر میں سرور ریکس کی قطاریں — نمائندہ تصویر

روس کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ینڈیکس نے اتوار 11 اکتوبر کو اعلان کیا ہے کہ ولادیمیر کے علاقے میں اس کا ڈیٹا سینٹر ایک ڈرون حملے میں نقصان پہنچنے کے بعد مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا، مگر ینڈیکس کی کئی سروسز صارفین کے لیے عارضی طور پر بند ہو گئی ہیں۔

یہ ایک ہفتے میں ینڈیکس کے ڈیٹا سینٹروں پر تیسرا حملہ ہے، اور حملوں کی رفتار خود سب کچھ کہہ رہی ہے۔ جمعرات 8 اکتوبر کو یوکرینی ڈرونز نے ریازن کے علاقے کے ساسوو میں کمپنی کے بڑے ڈیٹا ہب کو نشانہ بنایا، جہاں آگ لگ گئی اور کام روکنا پڑا۔ اس مرکز میں دسیوں ہزار سرورز چل رہے تھے — اور اس سے بھی اہم، ینڈیکس کے تین مصنوعی ذہانت کے سپر کمپیوٹروں میں سے دو یہیں رکھے ہیں، جن پر کمپنی کا اے آئی ماڈل “ینڈیکس جی پی ٹی” تیار ہوتا ہے۔ کمپنی اب بھی یہ نہیں کہہ سکی کہ ساسوو کا سامان دوبارہ بحال ہو سکے گا یا نہیں۔

اگلے ہی روز، جمعہ 9 اکتوبر کو ماسکو کے جنوب مغرب میں کلوگا کے ڈیٹا سینٹر پر ڈرون حملے نے اس کے کئی حصے ناکارہ کر دیے۔ اور اب اتوار کو ولادیمیر۔ تینوں حملے ماسکو کے گردونواح میں ہوئے ہیں — یعنی یوکرین کے ڈرون اب روسی دارالحکومت کے بالکل دروازے پر روس کی ڈیجیٹل ریڑھ کی ہڈی توڑ رہے ہیں۔

ینڈیکس نے اپنی کلاؤڈ سروس کے صارفین کو ٹیلیگرام پر ایک وارننگ جاری کی ہے: متبادل منصوبے فعال کر لیں، پلیٹ فارم ایمرجنسی موڈ میں چل رہا ہے، اور “باقی سسٹمز کی صورتحال غیر مستحکم” سمجھی جائے۔ ماسکو اسٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے حصص بھی تین فیصد سے زیادہ گر گئے — ینڈیکس وہاں روسی ٹیکنالوجی شعبے کی نمائندہ کمپنی مانی جاتی ہے۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو ساسوو حملے کے بعد نام لیے بغیر ان کارروائیوں کی تصدیق کی: “ہم ہمیشہ آئینے کی طرح جواب دیتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ وہ ہمارے ڈیٹا سینٹروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور بناتے آ رہے ہیں۔ ہم جواب دے رہے ہیں۔ میں تمام تفصیلات نہیں بتا سکتا۔”

یہ “آئینہ” صرف الفاظ نہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں روس نے یوکرین کے کئی ڈیٹا سینٹروں اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جن میں وسطی کییف کے اہداف بھی شامل تھے۔ جواب میں یوکرین نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو زیرِ زمین منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، اور اب وہ خود روسی ڈیٹا سینٹروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ جنگ تیل اور ریفائنریوں سے نکل کر اب سرورز اور سپر کمپیوٹروں تک آ پہنچی ہے۔

یہ وہی جنگ ہے جس میں ٹرمپ نے زیلنسکی سے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا، اور زیلنسکی نے جواب میں نئے یوکرینی صدر کی ٹرمپ کی تجویز کے بجائے روس کے تیل ٹرمینل پر ڈرون حملے کا راستہ چنا۔ اب وہی حملے ڈیٹا سینٹروں تک پھیل گئے ہیں۔

یہ سب کیوں اہم ہے؟ اس لیے کہ ینڈیکس محض ایک سرچ انجن نہیں — اسے “روس کا گوگل” کہا جاتا ہے۔ اس کی ایپس کروڑوں روسیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں: ٹیکسی بکنگ، موسیقی، نقشے، خریداری، اور اب مصنوعی ذہانت۔ کمپنی کا اپنا کہنا ہے کہ “ڈیٹا سینٹر ینڈیکس کا لوہے کا دل ہیں”۔ جب یہ دل رکتا ہے تو روس کی ڈیجیٹل معیشت دھڑکن چھوڑ جاتی ہے۔

دوسرا رخ پابندیوں کا ہے۔ ساسوو کے سپر کمپیوٹر ہزاروں نیویڈیا اے-100 چپس پر چلتے ہیں — ایسا سامان جس کی جگہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے روس کو شاید مل ہی نہ سکے۔ یعنی ہر حملہ نہ صرف ایک عمارت کو جلاتا ہے، بلکہ روس کے اے آئی عزائم کو بھی کئی قدم پیچھے دھکیل دیتا ہے۔

تیسرا رخ سب سے خطرناک ہے: یہ ایک نیا محاذ ہے۔ اب تک یہ جنگ تیل، گیس اور اسلحے کی تھی؛ اب سائبر اور فزیکل حملے مل کر دونوں ملکوں کے ڈیجیٹل نظاموں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اور جب ڈیٹا سینٹر — یعنی عام شہریوں کی روزمرہ کی سروسز — جنگ کا ہدف بن جائیں، تو یہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں، ہر اسکرین اور ہر فون پر لڑی جانے لگتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *