خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا معاملہ آج پارلیمنٹ پہنچ رہا ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس صبح گیارہ بجے اور سینیٹ کا اجلاس شام چار بجے طلب کیا گیا ہے، اور دونوں ایوانوں میں صوبے میں نافذ ایمرجنسی کی منظوری کی قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ قومی اسمبلی میں وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور سینیٹ میں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری قراردادیں پیش کریں گے۔
یہ پیش رفت منگل کو سینیٹ میں ہونے والی گرم بحث کے بعد سامنے آئی، جہاں وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات اس وقت ٹوٹے جب حکومت کا مسودہ وزیرِاعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے ذریعے مراد سعید تک پہنچا۔ ان کے مطابق اسد قیصر نے حکومت کو یقین دلایا تھا کہ پی ٹی آئی “پاکستان کے لیے سب سے آگے کھڑی ہوگی”۔ اپوزیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے سینیٹر سید علی ظفر نے ایمرجنسی کے آئینی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے کہا: “ہم دہشت گردی کے خاتمے کے عزم میں متحد ہیں، مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئین کو ردی کی ٹوکری میں نہ ڈالیں۔” اپوزیشن کے سینیٹر راجہ ناصر عباس نے 11 اکتوبر کو “سیاہ دن” قرار دیا۔
قومی اسمبلی کا منگل کا اجلاس رکنِ اسمبلی محمود بشیر ورک کے انتقال پر ایوانی روایت کے مطابق ملتوی کر دیا گیا تھا، اس لیے ایمرجنسی پر بحث نہ ہو سکی۔ اس سے قبل وزیرِاعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت کے پاس “کوئی آپشن” نہیں بچا تھا، اور اتحادی جماعتوں نے اتوار کے اعلان کی توثیق کی۔
ووٹنگ کیوں اہم ہے؟
ایمرجنسی کا اعلان آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت کیا گیا ہے، جبکہ صوبے میں گورنر راج آرٹیکل 234 کے تحت نافذ ہے — دونوں کی منظوری صدر زرداری نے 11 اکتوبر کو کابینہ کی سفارش پر دی تھی۔ آئین کے مطابق پارلیمنٹ کو دس دن کے اندر ایمرجنسی کی منظوری دینی ہوتی ہے، یعنی حتمی تاریخ 21 اکتوبر ہے۔ جمعرات 15 اکتوبر کو صبح ساڑھے گیارہ بجے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ گورنر راج کی توثیق ہو سکے۔
یہ ووٹنگ محض رسمی کارروائی نہیں۔ اگر پارلیمنٹ منظوری نہ دے تو ایمرجنسی کا قانونی جواز ختم ہو جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے آج دونوں ایوانوں اور کل مشترکہ اجلاس کا راستہ چنا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن اسے آئین کے خلاف اقدام قرار دے رہی ہے، اور پی ٹی آئی کی جانب سے عدالتی چیلنج کا امکان بھی خبروں میں ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
آج کی کارروائی کے بعد اصل امتحان جمعرات کا مشترکہ اجلاس ہوگا، جہاں گورنر راج کی توثیق پر ووٹنگ ہوگی۔ اس کے بعد نظر 21 اکتوبر کی آئینی ڈیڈ لائن پر ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت محض عددی اکثریت سے منظوری لے کر آگے بڑھے گی، یا اپوزیشن کی آئینی اعتراضات کا کوئی جواب بھی دے گی — کیونکہ ایمرجنسی کی قانونی حیثیت تو ووٹ سے طے ہو جائے گی، مگر اس کی سیاسی قیمت کا حساب ابھی باقی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)