Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگ گئی: صدر کی منظوری کے بعد گورنر راج کا نفاذ، پی ٹی آئی کی حکومت معطل

بارش کے دن خیبر میڈیکل کالج پشاور کی عمارت کا منظر

وفاقی حکومت نے اتوار کے روز خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں کابینہ نے صدر آصف علی زرداری کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی لگانے کی سفارش کی تھی۔ صدر مملکت نے سفارش منظور کر لی، اور اسی کے ساتھ صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر خیبر پختونخوا کے سپرد کر دیے گئے۔

ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق صدر نے کابینہ کی سفارشات پر منظوری دی۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کابینہ کے اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اور ارکان نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے “جان بوجھ کر لاتعلقی” اختیار کرنے کا نوٹس لیا۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر کابینہ نے متفقہ طور پر صدر کو ایمرجنسی کی سفارش کا مشورہ دیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے انتہائی سخت زبان استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ پانی سر سے گزر چکا ہے اور اب فیصلے کا وقت آ گیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں چلنے والی خیبر پختونخوا کی حکومت کو مستحکم ہوتی ہوئی معیشت کو پٹری سے اتارنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جس طرح عام شہری، پولیس اہلکار اور سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہو رہے ہیں، اس سے بڑا دل دہلانے والا منظر کچھ نہیں۔

کابینہ کے اجلاس میں دو خصوصی سیکیورٹی رپورٹس بھی پیش کی گئیں، جن کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی اور بدامنی سے نمٹنے کے لیے نہ مطلوبہ عزم دکھایا اور نہ مؤثر اقدامات اٹھائے۔

منظوری کے فوراً بعد وفاقی حکومت نے ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو خیبر پختونخوا کا نیا چیف سیکرٹری مقرر کر دیا۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور مزید احکامات تک برقرار رہے گی۔ ڈاکٹر عرفان پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر ہیں، جو اس سے پہلے وفاقی وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کا تعلق مردان سے ہے۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی فیصلے کو کھلم کھلا مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ “اگر ہمت ہے تو کھلم کھلا ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کریں” — ان کے بقول اعلان کے بغیر وفاقی دباؤ صوبائی مینڈیٹ کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے۔ آفریدی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے صوبائی پولیس سربراہ اور چیف سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ اسلام آباد سے آنے والے کسی بھی “غیر آئینی یا غیر قانونی حکم” کو نظرانداز کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاستی دھمکیوں، گرفتاریوں اور سیکیورٹی پروٹوکول کی واپسی سے ان کا لانگ مارچ نہیں رکے گا، اور 13 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے بھی اس اعلان کو مسترد کر دیا۔

وزیراعظم نے اجلاس میں معاشی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان کو اس سال کے اختتام سے پہلے 1.2 ارب ڈالر کی قسط مل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر ملک میں مالیاتی نظم و ضبط لانے کے لیے دن رات کام کیا ہے۔

یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ صرف ایک انتظامی حکم نہیں — یہ پاکستان کی وفاقی جمہوریت کے سب سے بڑے آئینی امتحانات میں سے ایک ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا اعلان عموماً صوبائی اسمبلی کی قرارداد پر ہوتا ہے؛ اگر صدر اپنے طور پر عمل کریں تو یہ اعلان دس دن کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے منظور کرانا لازم ہوتا ہے۔ یعنی یہ فیصلہ اب پارلیمنٹ میں بھی زیر بحث آئے گا، جہاں پی ٹی آئی اور اپوزیشن اسے سیاسی انتقام قرار دے کر چیلنج کریں گے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اس وقت جاری ہے۔ وفاق اسے معاشی استحکام کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور وزیراعظم نے کھلم کھلا کہہ دیا ہے کہ وہ معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اب صوبہ عملاً گورنر کے کنٹرول میں ہے، چیف سیکرٹری تبدیل ہو چکا ہے، اور وزیراعلیٰ نے غیر آئینی احکامات ماننے سے انکار کر دیا ہے — یعنی آنے والے دنوں میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں انتظامی تصادم کا ماحول بن سکتا ہے۔ اگلا اہم مرحلہ پارلیمنٹ کی توثیق، عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز، اور 13 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر پی ٹی آئی کا اعلان ہوگا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *