Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

خلائی اسٹیشن پر دماغی بیماریوں کا علاج تلاش کرے گا سعودی عرب کا بائیو گریویٹی مشن

زمین کے مدار میں گردش کرتا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن

ریاض: سعودی عرب نے خلاء میں انسانی دماغ کی بیماریوں کے علاج کی تلاش کا ایک تاریخی مشن شروع کر دیا ہے۔ سعودی خلائی ایجنسی اور کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی (کوسٹ) نے امریکی نیشنل اسٹیم سیل فاؤنڈیشن اور ایکزیم اسپیس کے ساتھ مل کر “بائیو گریویٹی-1” مشن کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت الزائمر، پارکنسنز اور ملٹیپل اسکلروسس جیسی دماغی بیماریوں کی تحقیق بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر کی جائے گی۔

اس ہفتے اسپیس ایکس کے سی آر ایس-35 سپلائی مشن کے ذریعے آئی ایس ایس پہنچنے والے نمونوں میں مشرق وسطیٰ کے پہلے حیاتیاتی نمونے بھی شامل ہیں — خطے کی سائنسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ انسانی خلیوں کے نمونے خلائی تحقیق کے لیے مدار میں بھیجے گئے ہوں۔ اعلان 14 اکتوبر کو لوئیسویل، ہیوسٹن اور ریاض سے مشترکہ طور پر کیا گیا۔

یہ تحقیق تین مرحلوں پر مشتمل ایک طویل مدتی پروگرام کا حصہ ہے۔ پہلے مرحلے میں صحت مند عطیہ دہندگان کے خلیوں کے نمونے خلاء بھیجے گئے ہیں تاکہ مستقبل کی تحقیق کے لیے ایک سائنسی بنیاد قائم ہو سکے۔ دوسرے مرحلے میں الزائمر اور ملٹیپل اسکلروسس کے مریضوں سے حاصل شدہ نمونوں کے ماڈلز کا مطالعہ کیا جائے گا، جبکہ تیسرے مرحلے میں بے وزنی کے ماحول میں ممکنہ دواؤں کے اثرات اور علاج کے نئے اہداف تلاش کیے جائیں گے۔ کوسٹ کے سائنسدانوں نے اس مشن کے لیے ایس ایس اے-1 اور ایس ایس اے-2 نامی دو تجربات تیار کیے ہیں، اور ناسا اس منصوبے کی معاونت کر رہا ہے۔

سعودی خلائی ایجنسی میں مائیکرو گریویٹی تحقیق کی سربراہ اور سعودی خلاباز ریانہ برناوی نے اس مشن کو انسانی صحت کی تحقیق کے لیے خلائی ماحول کے استعمال کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔ منصوبے کے سربراہ اور کوسٹ کے پروفیسر عماد گالوزی کے مطابق خلاء کا ماحول محققین کو بیماریوں کے ایسے ماڈلز پر کام کرنے دیتا ہے جو زمین پر ممکن نہیں۔ ایکزیم اسپیس میں بایو مینوفیکچرنگ کی عالمی سربراہ پینار میسی نے بتایا کہ اس مشن میں پہلی بار “برین آرگنائڈ ویلج” کا تصور بھی آزمایا جائے گا — یعنی ایک ہی تجربے میں مختلف آبادیوں کے متعدد سیل لائنز سے تیار کردہ دماغی نمونوں کا بڑے پیمانے پر مطالعہ۔ برطانیہ سے حاصل شدہ ایسے سیل لائنز بھی مشن میں شامل ہیں جو ابتدائی الزائمر کی جینیاتی تبدیلی رکھنے والے افراد سے لیے گئے ہیں۔

سائنسدان خلاء میں یہ تحقیق اس لیے کرتے ہیں کہ بے وزنی کا ماحول خلیوں کے باہمی تعامل کو ایسے طریقوں سے دیکھنے دیتا ہے جو زمین پر ممکن نہیں۔ پہلے کے تجربات سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ دماغی آرگنائڈز — لیبارٹری میں اگائے گئے دماغی خلیوں کے چھوٹے نمونے — خلاء میں زیادہ تیزی سے نشوونما پاتے ہیں، جس سے بیماری سے جڑی تبدیلیوں کو برسوں کے بجائے مہینوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خلاء کو لیبارٹری بنانے کا رجحان اب زور پکڑ رہا ہے — جاپان بھی حال ہی میں اسی سمت میں ایک منصوبے کا اعلان کر چکا ہے۔

یہ مشن صرف ایک سائنسی تجربہ نہیں، بلکہ سائنسی دنیا میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ اب تک خلائی تحقیق چند بڑی طاقتوں کا میدان سمجھی جاتی تھی؛ سعودی عرب کا بطور برابر کے شراکت دار میدان میں اترنا — اور وہ بھی دماغی امراض جیسے انسانیت کے مشترکہ مسئلے پر — یہ بتاتا ہے کہ مستقبل کی بڑی دریافتیں کہاں سے آ سکتی ہیں۔ رواں ماہ طبیعیات کا نوبیل انعام بھی بڑے سائنسی منصوبے کو ملا تھا، اور اب خلائی لیبارٹریوں میں سرمایہ کاری نئی دوڑ بنتی جا رہی ہے۔ اگلے مرحلوں میں جب مریضوں کے نمونوں پر تجربات ہوں گے، تو یہ واضح ہوگا کہ بے وزنی میں حاصل شدہ بصیرت زمین پر علاج میں کتنی جلد بدلتی ہے — اور اس دوڑ میں مشرق وسطیٰ اب تماشائی نہیں رہا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *