دنیا بھر میں کروڑوں ناظرین کی پسندیدہ سیریز “بریکنگ بیڈ” کے والٹر وائٹ جونیئر — فلِن — کا کردار ادا کرنے والے امریکی اداکار آر جے مٹّے پیر کے روز 34 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے نمائندے شان رائلی نے موت کی تصدیق کی ہے۔ اہم سوالات کے جوابات:
آر جے مٹّے کون تھے؟
رائے مٹّے 1992ء میں پیدا ہوئے اور تین سال کی عمر میں ان میں سیریبرل پالسی کی تشخیص ہوئی — وہی حالت جو ان کے مشہور کردار کو بھی تھی۔ 2008ء میں شروع ہونے والی “بریکنگ بیڈ” کے پانچوں سیزن میں انہوں نے والٹ جونیئر کا کردار ادا کیا اور مجموعی طور پر 56 اقساط میں نظر آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حقیقی زندگی میں ان کی علامات کردار سے ہلکی تھیں، اس لیے کردار کو سچا بنانے کے لیے وہ جان بوجھ کر اپنی علامات بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے۔ اداکاری سے پہلے وہ “ایوری بڈی ہیٹس کرس” اور “ہینا مونٹانا” جیسے شوز میں چھوٹے کردار بھی ادا کر چکے تھے۔
موت کی خبر کیسے سامنے آئی؟
پیر 12 اکتوبر کو ٹی ایم زیڈ نے ٹیکساس کے ایک کاؤنٹی اہلکار کے حوالے سے خبر دی کہ مٹّے کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ان کے نمائندوں نے باضابطہ بیان جاری کیا جس میں انہیں “محبوب اداکار، انسان دوست اور معذوروں کے حقوق کے پرجوش وکیل” قرار دیا گیا اور اہلِ خانہ کی پرائیویسی کا احترام کرنے کی اپیل کی گئی۔ پیپلز میگزین کی تازہ رپورٹ کے مطابق نمائندے نے بعد ازاں تصدیق کی کہ موت خودکشی تھی۔ حکام کی تفتیش جاری ہے، کسی جرم کے آثار نہیں ملے، اور میڈیکل ایگزامینر کی حتمی رپورٹ آنا باقی ہے۔
ساتھی اداکاروں نے کیا کہا؟
سب سے جذباتی ردعمل اسکرین پر ان کے والد کا کردار ادا کرنے والے برائن کرینسٹن کا تھا۔ انسٹاگرام پر انہوں نے لکھا کہ وہ مٹّے سے اس وقت ملے تھے جب وہ صرف 14 سال کے تھے اور فروری 2007 میں پائلٹ کی شوٹنگ کے دوران ایک کچے مگر پرعزم لڑکے کو آہستہ آہستہ ایک عمدہ اداکار بنتے دیکھا۔ کرینسٹن نے انکشاف کیا کہ چند ہفتے پہلے ہی دونوں کے درمیان لنچ کا پروگرام طے پا رہا تھا — اور اپنے پیغام کا اختتام انہوں نے یہ کہہ کر کیا: “میں تمہیں یاد کروں گا، بیٹے۔” انہوں نے ایک کرائسس ہیلپ لائن کا نمبر بھی شیئر کیا اور لوگوں سے مدد مانگنے کی اپیل کی۔
ہالی وڈ رپورٹر سے بات کرتے ہوئے ایرن پال نے کہا: “آر جے، میں تم سے محبت کرتا ہوں میرے دوست۔ تمہیں یاد کیا جائے گا۔” جبکہ ڈین نارس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ “دل شکستہ” ہیں اور سیٹ پر ہمیشہ مٹّے کا خیال رکھتے تھے۔
اداکاری سے ہٹ کر وہ کس لیے جانے جاتے تھے؟
مٹّے کی اصل پہچان ان کی وکالت تھی۔ وہ یونائیٹڈ سیریبرل پالسی اور شرائنرز چلڈرنز کے سفیر رہے اور دی مٹّے فاؤنڈیشن کے صدر تھے — ایک ایسی تنظیم جو معذور برادری کی فلاح پر کام کرتی ہے۔ “بریکنگ بیڈ” کی کاسٹ کے رکن کی حیثیت سے وہ اسکرین ایکٹرز گلڈ کے اینسمبل ایوارڈ کے لیے مسلسل تین بار نامزد ہوئے اور 2014ء میں یہ ایوارڈ جیتا؛ 2013ء میں انہیں SAG-AFTRA ہیرالڈ رسل ایوارڈ بھی ملا۔ سیریز کے بعد وہ “ویگاس”، “سوئچڈ ایٹ برتھ”، “دس کلوز” اور “ناؤ اپوکلپس” میں نظر آئے، “روبوٹ چکن” میں والٹ جونیئر کا کردار دہرایا، اور “ٹرائمف” جیسی آزاد فلموں میں کام کیا جن میں سے ایک کے وہ ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی تھے۔
ہالی وڈ کے لیے یہ ایک ہفتے میں دوسرا بڑا صدمہ ہے — چند روز پہلے ہی ایوا میری سینٹ کی رخصت پر دنیا سوگوار ہوئی تھی، اور اس سے پہلے بالی وڈ میں نانا پاٹیکر کا انتقال بھی ہوا تھا۔
یہ خبر کیوں اہم ہے؟
“بریکنگ بیڈ” پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھی گئی، اور والٹ جونیئر اس کہانی کا خاموش اخلاقی مرکز تھا — وہ کردار جو باپ کے جرائم کی دنیا میں سچائی کا آئینہ تھا۔ مٹّے کی زندگی ترس اور نمائندگی کے فرق کی زندہ مثال تھی: انہوں نے معذوری کو کبھی اپنی شناخت کا قیدی نہیں بننے دیا، بلکہ اسے اسکرین پر اتنی سچائی سے دکھایا کہ کروڑوں ناظرین کے لیے وہ ایک کردار سے بڑھ کر ایک پیغام بن گیا۔ کرینسٹن کا پیغام بتاتا ہے کہ انڈسٹری انہیں صرف ایک چائلڈ اسٹار نہیں سمجھتی تھی۔ اور یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ شہرت کی چمک کے پیچھے چلنے والی خاموش لڑائیاں اکثر کسی کو نظر نہیں آتیں — شاید اسی لیے کرینسٹن نے اپنے سوگ کے پیغام میں ہیلپ لائن کا نمبر شامل کیا۔
چودہ سال کی عمر میں جس لڑکے سے کرینسٹن ملے تھے، وہ اب نہیں رہا۔ چند ہفتے پہلے دونوں نے لنچ کا پروگرام بنایا تھا — وہ لنچ اب کبھی نہیں ہوگا۔

قارئین کے تبصرے (0)