امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سی این این نے جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف مدر آف آل بمبز (GBU-43/B) کے استعمال کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ اس صورت میں بروئے کار آئے گا اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں لڑائی دوبارہ تیز کرنے کا حکم دیں۔
سی این این نے عسکری منصوبہ بندی سے واقف متعدد امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے فوج کو ایران کی توانائی کی تنصیبات سمیت اضافی حملوں کے پیکجز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایک اور ذریعے کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات — بشمول پک ایکس ماؤنٹین نامی مشتبہ زیرِ زمین مرکز — پر حملوں کے منصوبوں میں مدر آف آل بمبز کا استعمال واضح طور پر شامل ہے۔ ٹرمپ بارہا پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکے ہیں، جہاں امریکہ اور اسرائیل کے خیال میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے پرزے ذخیرہ کر رکھے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکام خود اس بم کی مؤثریت پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں — خاص طور پر ایران کی گہرائی میں چھپی جوہری تنصیبات کے خلاف۔ منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا: مدر آف آل بمبز ایک بڑی معلوماتی کارروائی والا ہتھیار ہے جو وسیع علاقے کی صفائی کے لیے بہترین ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ گہرائی میں گھسنے والا وار ہیڈ ہرگز نہیں ہے۔ ایسے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ اس قدر بڑے ہتھیار سے شہری ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ انتظامیہ حساس عسکری منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی، مگر ٹرمپ یہ یقینی بنانے کے لیے تمام آپشنز میز پر رکھتے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ صدر اور وزیرِ دفاع کی ہدایات پر عمل کے لیے مختلف آپریشنل منظرناموں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔
یہ جنگ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی، اور موسمِ گرما سے اس کے خاتمے کی سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن نے عسکری کارروائیاں کم کر کے معاشی دباؤ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے اپنی گرتی ہوئی مقبولیت بہتر بنانا چاہتے ہیں، اور رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی غیر مقبول جنگ اور اس سے بڑھتی ایندھن کی قیمتیں ان کی ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
جی بی یو-43/بی جسے مدر آف آل بمبز کہا جاتا ہے، امریکہ کے غیر جوہری ہتھیاروں میں سب سے طاقتور بم ہے — اس کا وزن 21,600 پاؤنڈ (تقریباً 9.8 ٹن) ہے اور یہ زمین سے اوپر پھٹتا ہے، جس سے وسیع علاقے میں تباہی پھیلتی ہے۔ اسے سی-130 طیاروں سے گرایا جاتا ہے اور جی پی ایس رہنمائی سے نشانے تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کا پہلا اور اب تک کا واحد عملی استعمال اپریل 2017 میں افغانستان میں داعش کے سرنگوں کے نظام پر کیا گیا تھا۔
یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ منصوبہ بندی کا مطلب حملے کا حکم نہیں۔ فوجیں ہمیشہ مختلف منظرناموں کے منصوبے تیار رکھتی ہیں — ان کا وجود اس بات کی ضمانت نہیں کہ حملہ ہوگا۔ لیکن اس رپورٹ کا اب سامنے آنا خود ایک پیغام ہے: ایک طرف تہران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش تاکہ وہ رعایتوں پر آمادہ ہو، دوسری طرف امریکی عوام کو یہ تاثر کہ ٹرمپ جنگ ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھا سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی حکام خود تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ بم پک ایکس ماؤنٹین جیسی گہرائی میں چھپی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا — یعنی یہ ہتھیار عسکری حکمتِ عملی سے زیادہ نفسیاتی دباؤ کا ذریعہ ہے۔ پاکستان کے قارئین کے لیے اصل سوال تیل کی قیمت کا ہے: ایران کی توانائی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا مطلب عالمی منڈی میں مزید اتار چڑھاؤ ہوگا، جس کا اثر براہِ راست یہاں پٹرول کی قیمتوں پر پڑے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)