Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

اسرائیل نے ٹرمپ کے امن بورڈ کا پہلا غزہ منصوبہ روک دیا — ٹھیکیداروں کو داخلے کی اجازت نہیں

غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ — جس تعمیر نو کا منصوبہ اب اسرائیلی رکاوٹ کا شکار ہے

اہم نکات:
1۔ دی گارڈین کی رپورٹ: اسرائیل نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے پہلے تعمیراتی منصوبے پر عملدرآمد روک رکھا ہے۔
2۔ اگست میں لوئیزیانا کی کمپنی آرکل انٹرنیشنل کو 150 فوجیوں کے لیے 100 ضرب 100 میٹر کا قلعہ نما اڈہ بنانا تھا۔
3۔ ٹھیکیدار اور ٹرک غزہ میں داخل نہیں ہو سکتے — ذرائع کے مطابق “اسرائیل سرحد نہیں کھولے گا”۔
4۔ مراکش اور کوسووو کے 500 فوجی پہلے سے تعینات ہیں؛ حتمی منصوبہ 20 ہزار کی بین الاقوامی استحکام فورس کا ہے۔
5۔ بورڈ کو امید ہے کہ 27 اکتوبر کے اسرائیلی انتخابات کے بعد تعمیر کی اجازت مل جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “بورڈ آف پیس” نے غزہ میں اپنا پہلا تعمیراتی ٹھیکہ اگست میں دیا تھا، مگر دو ماہ گزرنے کے باوجود ایک اینٹ بھی نہیں رکھی جا سکی۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے بدھ کو ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے انکشاف کیا کہ اسرائیل ٹھیکیداروں، ٹرکوں اور تعمیراتی سامان کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہا، جس سے پورا تعمیر نو کا منصوبہ ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لوئیزیانا کی کمپنی آرکل انٹرنیشنل کو تقریباً 100 میٹر لمبا اور 100 میٹر چوڑا ایک قلعہ نما اڈہ تعمیر کرنا تھا، جو غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے سابقہ مرکز کی جگہ پر بننا تھا۔ اس اڈے میں تقریباً 150 بین الاقوامی فوجی ٹھہرنے تھے، جو مراکش اور کوسووو سے بھیجے گئے 500 فوجیوں کے دستے کا حصہ ہیں۔ یہ اڈہ محض ایک عمارت نہیں — بورڈ کے منصوبے کے مطابق یہ 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کا پیش خیمہ ہے، جس کے بغیر غزہ کی تعمیر نو کا 2.45 ارب ڈالر کا نقشہ عمل میں نہیں آ سکتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اڈے کے بغیر بورڈ کی باقی سرگرمیاں شروع ہی نہیں ہو سکتیں۔ ایک ذریعے نے اخبار کو بتایا کہ بین الاقوامی استحکام فورس کے بغیر غزہ میں داخل ہونا ممکن نہیں، تعمیر نو نہیں ہو سکتی، تعمیراتی مشینری نہیں پہنچ سکتی، یہاں تک کہ بجلی پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی تنصیب بھی شروع نہیں ہو سکتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بورڈ کے ترجمان اور اسرائیلی حکومت دونوں نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ تعطل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی خبریں بھی مسلسل آ رہی ہیں۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے تحت اسرائیل غزہ کی تقریباً آدھی پٹی سے پیچھے ہٹا تھا، مگر رپورٹوں کے مطابق اس کے بعد سے اسرائیلی افواج سرحدی نشانات کو مغرب کی طرف بڑھاتی رہی ہیں اور اب پٹی کے تقریباً 60 فیصد حصے پر اسرائیلی کنٹرول ہے۔ تعمیر نو کا تجرباتی منصوبہ رفح سے شروع ہونا تھا — وہی رفح جو جنگ میں سب سے زیادہ تباہ ہوا۔

یہاں اصل سوال سیاسی ہے، تکنیکی نہیں۔ بورڈ کے ذرائع کا خیال ہے کہ اسرائیل 27 اکتوبر کے عام انتخابات کے بعد تعمیر کی اجازت دے دے گا — یعنی یہ رکاوٹ انتخابی حساب کتاب کا حصہ ہو سکتی ہے، مستقل پالیسی نہیں۔ مگر شرم الشیخ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد بننے والے اس بورڈ کی ساکھ اب داؤ پر ہے: اگر اس کا پہلا ہی منصوبہ میزبان ملک کی مرضی کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکے تو 20 ہزار فوجیوں اور اربوں ڈالر کی تعمیر نو کے وعدے محض اعلانات رہ جائیں گے۔ 27 اکتوبر بتائے گا کہ یہ محض انتخابی تاخیر تھی یا غزہ کے مستقبل پر اسرائیلی ویٹو کی ایک نئی شکل۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *