Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

شرم الشیخ میں حماس اور اسرائیل کے وفود کے درمیان بالواسطہ مذاکرات شروع — ٹرمپ کے امن منصوبے کی پہلی کڑی

غزہ شہر پر حملوں کے بعد اٹھتے دھوئیں کے بادل

شرم الشیخ (مصر) — مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں پیر کے روز حماس اور اسرائیل کے وفود کے درمیان بالواسطہ مذاکرات شروع ہو گئے، جو غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے بعد اب تک کی سب سے اہم پیش رفت ہے۔

حماس کا وفد اتوار کو مصر پہنچا تھا، جس کی قیادت تحریک کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کر رہے ہیں — وہی شخصیت جو گزشتہ ماہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں بال بال بچی تھیں، اس حملے میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ مصری سکیورٹی ذرائع کے مطابق الحیہ نے مذاکرات سے پہلے مصر کی انٹیلیجنس حکام سے الگ ملاقات کی۔

اسرائیلی وفد پیر کی دوپہر شرم الشیخ اترا۔ اس کی قیادت وزیر برائے اسٹریٹجک امور رون ڈرمر کر رہے ہیں، اور وفد میں شن بیت کے نائب سربراہ، یرغمالیوں کے امور کے کوآرڈینیٹر گال ہرش، ریٹائرڈ میجر جنرل نٹزان الون، وزیراعظم نیتن یاہو کے خارجہ امور کے مشیر اوفیر فالک اور موساد و اسرائیلی فوج کے نمائندے شامل ہیں۔

مصر کی سرکاری انٹیلیجنس سے منسلک القاہرہ نیوز کے مطابق دونوں وفود “قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے زمینی حالات تیار کرنے” پر بات کر رہے ہیں۔ “مصری اور قطری ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنے پر کام کر رہے ہیں” جس کے تحت غزہ میں موجود یرغمالیوں کو اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بدلے رہا کیا جائے۔

مذاکرات بند کمروں اور سخت سیکیورٹی میں ہوں گے؛ دونوں فریقوں کے مذاکرات کار براہ راست آمنے سامنے نہیں بیٹھیں گے بلکہ ثالث ایک سے دوسرے کے درمیان پیغامات پہنچائیں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی مصر پہنچنے والے ہیں، جبکہ قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی شرکت بھی متوقع ہے۔

ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت معاہدہ ہوتے ہی 72 گھنٹوں کے اندر غزہ میں موجود باقی 48 یرغمالی — جن میں سے تقریباً 20 کے زندہ ہونے کا اندازہ ہے — رہا کیے جائیں گے، جبکہ حماس کو غیر مسلح ہو کر غزہ کی حکمرانی چھوڑنی ہوگی۔ تاہم غیر مسلح ہونے کا معاملہ حماس کے لیے سرخ لکیر ہے، جسے تحریک نے مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ مذاکرات “زیادہ سے زیادہ چند دن” تک محدود رہیں گے، اگرچہ حماس کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ ملبے تلے دبی یرغمالیوں کی لاشیں تلاش کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے 5 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مذاکرات کاروں سے “تیزی سے آگے بڑھنے” کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر معاہدہ ناکام ہوا تو “بڑے پیمانے پر خونریزی” ہوگی۔

یہ مذاکرات 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کی دوسری برسی کے عین موقع پر ہو رہے ہیں — اسی حملے سے یہ جنگ شروع ہوئی تھی، جس میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مذاکرات کے باوجود اسرائیلی بمباری پیر کو بھی جاری رہی؛ غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل کے مطابق تازہ فضائی حملوں میں کم از کم 7 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ زیادہ تر “دفاعی” کارروائیاں کر رہی ہے، جبکہ اسرائیلی حکومت کی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک “کوئی جنگ بندی نافذ نہیں ہے”۔

اسی دوران شرم الشیخ میں 20 سے زائد ممالک کے رہنماؤں کے ایک سربراہی اجلاس کی تیاری بھی جاری ہے۔ مصر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس “تاریخی” اجلاس میں “غزہ میں جنگ کے خاتمے کے دستاویز” پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، اطالوی وزیراعظم جیورجیا میلونی، اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی شرکت متوقع ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے حماس کی قیادت کے قریبی ایک فلسطینی ذریعے نے کہا: “ہمیں توقع ہے کہ مذاکرات مشکل اور پیچیدہ ہوں گے، کیونکہ قابض کی نیت جنگِ تباہی جاری رکھنے کی ہے۔”

یہ مذاکرات کیوں اہم ہیں

دو برس کی خونریزی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں فریق — اگرچہ بالواسطہ ہی سہی — ایک ہی منصوبے کے تحت عملی تفصیلات پر بات کرنے بیٹھے ہیں، اور اس کے پیچھے امریکی صدر کی ذاتی سرمایہ کاری ہے۔ کامیابی کی صورت میں نہ صرف 48 یرغمالیوں کے خاندانوں کو سکون ملے گا بلکہ غزہ کے 20 لاکھ سے زائد بے گھر شہریوں کے لیے امداد اور تعمیرِ نو کا راستہ کھلے گا۔ ناکامی کا مطلب ٹرمپ کی اپنی وارننگ کے مطابق مزید خونریزی ہے — اور ملبے تلے دبی لاشوں کی تلاش جیسی عملی رکاوٹیں بتا رہی ہیں کہ یہ راستہ کسی صورت آسان نہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *