Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

آرٹیکل 232 اور 234 کیا کہتے ہیں؟ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج — اہم سوالات کے جوابات

پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت

اتوار 11 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ دونوں اقدامات آئین کے دو مختلف آرٹیکلز — 232 اور 234 — کے تحت لیے گئے۔ اس فیصلے کے بعد صوبے کی حکومت معطل ہو گئی اور اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کے ہاتھ میں آ گئے۔ یہاں اس پورے معاملے کے اہم سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں۔

سوال: اصل میں ہوا کیا ہے؟

اتوار کو وزیر اعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں صوبے کی بگڑتی سیکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔ کابینہ نے تجویز دی کہ وزیر اعظم صدر کو ایمرجنسی کے نفاذ کا مشورہ دیں۔ اسی رات مشاورت کے بعد صدر نے دونوں سمریز منظور کر کے دستخط کر دیے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر کے اعلان کیا کہ گورنر 11 رکنی مشاورتی کونسل کی مدد سے صوبہ چلائیں گے۔ دہشت گردی سے شدید متاثر 12 اضلاع کے لیے الگ سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے، اور نئے چیف سیکرٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم تعینات کیے گئے۔ فوج بھی آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعینات کی گئی ہے۔

سوال: آرٹیکل 232 اور 234 میں فرق کیا ہے؟

آرٹیکل 232 ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق ہے — اس کے تحت صوبائی اسمبلی چلتی رہتی ہے، مگر وفاقی قانون صوبائی قانون سے بالا تر ہوتا ہے۔ آرٹیکل 234 وہ صورتحال ہے جب صدر سمجھیں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق کام نہیں کر پا رہی؛ اس کے تحت وفاقی حکومت صوبے کا انتظام سنبھال سکتی ہے اور گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات دے سکتی ہے — یہی گورنر راج ہے۔ اس صورت میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ استعمال کرتی ہے۔ وزیر قانون کے مطابق دہشت گردی اور داخلی خلل سے جڑی ایمرجنسی صورتحال معمول پر آنے تک جاری رہ سکتی ہے۔

سوال: یہ انتظام کب تک چلے گا؟

گورنر راج ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے لگتا ہے، اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ایک وقت میں دو ماہ کی توسیع دے سکتا ہے — مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ چھ ماہ۔ وزیر قانون تارڑ نے کہا کہ یہ انتظام ابتدا میں چھ ماہ کے لیے ہوگا۔ اعلامیہ اور اس سے جڑے اقدامات آئینی تقاضے کے مطابق دس دن کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سامنے رکھے جائیں گے، جن کی الگ الگ نشستوں اور مشترکہ اجلاس میں توثیق ہوگی۔

سوال: اب صوبہ چلائے گا کون؟

گورنر فیصل کریم کنڈی 11 رکنی تکنیکی مشاورتی کونسل کے ساتھ صوبائی انتظامیہ کی نگرانی کریں گے۔ دہشت گردی سے متاثر 12 اضلاع کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری رینک کا افسر بطور ایڈمنسٹریٹر کام کرے گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کچھ پی ٹی آئی رہنماؤں کو احتیاطی تحویل میں لیا گیا ہے، اور جو لوگ مقدمات میں مطلوب ہیں انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

سوال: حکومت نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟

وفاقی کابینہ کے مطابق صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے “جان بوجھ کر کنارہ کشی” اختیار کی۔ کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا: “خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف ایک لفظ نہیں کہہ رہی… فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ہم اب یا کبھی نہیں کے لمحے پر پہنچ چکے ہیں۔” حکومت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ صوبائی قیادت سے مذاکرات ناکام رہے۔

سوال: اپوزیشن کا کیا ردعمل ہے؟

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اسے صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ پر “غیر آئینی حملہ” قرار دیا اور اعلان کیا کہ پارٹی عدالت، اسمبلیوں اور عوامی فورموں پر اسے چیلنج کرے گی۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی اپنے مطالبات مانے جانے پر مارچ ختم کرنے کو تیار تھی۔ عوام پاکستان پارٹی کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اسے جمہوریت اور آئین کی مکمل نفی قرار دیا۔ جماعت اسلامی نے بھی فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سوال: آگے کیا ہوگا؟

فوری طور پر تین محاذ کھلے ہیں۔ پہلا، پارلیمنٹ: دس دن کے اندر اعلامیے کی توثیق کا عمل شروع ہوگا، جہاں حکومت کو اپنی اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔ دوسرا، عدلیہ: پی ٹی آئی کے عدالت جانے کے اعلان کے بعد یہ معاملہ آئینی دائرہ کار اور عدالتی جائزے کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ تیسرا، سڑک: پی ٹی آئی نے پشاور کی طرف مارچ کی کال دے رکھی ہے اور وزیر داخلہ نے خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ گورنر راج کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا یہ دہشت گردی کے خلاف واقعی کوئی فرق ڈالتا ہے، یا صرف ایک صوبے کی منتخب حکومت کو ہٹانے کا آئینی لبادہ بن کر رہ جاتا ہے۔

پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت
Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *