کیف: یوکرین نے روس کی آئل ریفائنریوں پر ڈرون حملوں کی تین روزہ پابندی ختم کر دی ہے — اور اعلان کے محض چند گھنٹوں بعد ماسکو کے قریب ایک بڑی ریفائنری کو نشانہ بنا کر دنیا کو بتا دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “توانائی جنگ بندی” دفن ہو چکی ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا: «دی بلاک از آؤٹ۔ وی آر ڈن» — یعنی “ریفائنریوں پر حملوں کی پابندی ختم، اب بس۔”
زیلنسکی کے مطابق یوکرین نے یہ پابندی امریکہ کی خواہش پر لگائی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ روس اور یوکرین نے توانائی کے اہداف پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے — اگرچہ اس وقت دونوں میں سے کسی فریق نے اس معاہدے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ یوکرین نے تین دن تک ریفائنریوں کو ہاتھ نہ لگایا، مگر روس نے اپنا رویہ نہیں بدلا۔
اسی رات روس نے یوکرین پر اب تک کے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک کیا — زیلنسکی کے مطابق آدھی رات سے صبح 9 بجے تک 15 خطوں میں 850 سے زیادہ شاہد ڈرون داغے گئے۔ یوکرینی فضائی دفاع نے 536 ڈرون مار گرائے، مگر ٹائمز کے مطابق لٹک، کیف، دنیپروپیٹروسک اور زاپورژیا میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے۔ صرف ایک روز پہلے روسی حملوں سے چھ لاکھ افراد بجلی سے محروم ہو گئے تھے۔
زیلنسکی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد یوکرینی ڈرونز نے روس کے ریاضان علاقے میں واقع روسنیفٹ کی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ ریفائنری ماسکو سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مشرق میں ہے، ماسکو کو ایندھن فراہم کرتی ہے اور روس کی کل ریفائننگ صلاحیت کا تقریباً پانچ فیصد رکھتی ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ فضائی دفاع نے ریفائنری کی طرف آنے والے 69 ڈرون اور چار فلیمنگو کروز میزائل مار گرائے، اور گرنے والے ملبے سے آگ لگی۔ ریاضان کے گورنر پاویل ملکوف نے کہا کہ نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے اور حملے کی شدت کے باعث دو اضلاع میں اسکول بند کر دیے گئے۔ ایک سینئر یوکرینی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو تصدیق کی کہ یوکرین نے ریفائنری کو نشانہ بنایا — اتوار کے بعد سے کسی روسی توانائی تنصیب پر یہ پہلا یوکرینی حملہ ہے۔
انٹرویو میں زیلنسکی نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کی اصل وجہ بھی بے نقاب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی پابندی کے دوران یوکرین کو روسی بیلسٹک میزائلوں کی پیشگی مغربی انٹیلیجنس ملنا بند ہو گئی تھی اور امریکی ساختہ اسٹارلنک کمیونیکیشن ٹرمینلز کے استعمال پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ زیلنسکی کے بقول: «یہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی، یہ ارادہ تھا۔»
اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے رات کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ اسٹارلنک کا فوجی ورژن “اسٹار شیلڈ” امریکی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے، اور اس کی رفتار یا استعمال پر پابندیاں امریکی فوج اور بالآخر خود صدر طے کرتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ “زیلنسکی کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔” یوکرینی وزارتِ دفاع کے ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ جمعرات کو اسٹار شیلڈ سروس بحال ہو گئی ہے، مگر کیف اب بھی وضاحت کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا کہ ٹرمپ کی توانائی جنگ بندی کی تفصیلات کبھی طے ہی نہیں ہوئی تھیں اور روس یوکرین کے بجلی گھروں پر حملے جاری رکھے گا۔
زیلنسکی نے واضح کیا کہ وہ ریفائنریوں پر حملے دوبارہ روکیں گے، مگر ایک شرط پر — امریکہ یوکرین کو مزید پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل فراہم کرے۔ “یہ کم از کم شرط ہے،” ان کا کہنا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا: “ہم نے کوئی تعلق تباہ نہیں کیا۔”
یہ خبر کیوں اہم ہے؟
یہ صرف ایک انٹرویو نہیں، فروری 2025 کے بدنامِ زمانہ اوول آفس جھڑپ کے بعد کیو اور واشنگٹن کے درمیان سب سے گہرا دراڑ ہے۔ ٹرمپ کی جنگ بندی ایک ایسی ڈیل تھی جس پر صرف ایک فریق نے عمل کیا — اور تین دن میں اس کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ یہ واقعہ ایک ننگی سچائی سامنے لاتا ہے: جنگ میں مغربی ٹیکنالوجی (اسٹارلنک، انٹیلیجنس) پر انحصار رکھنے والا ملک اس وقت کتنا بے بس ہوتا ہے جب اسی ٹیکنالوجی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔
ٹرمپ کا محرک بھی اب کھل کر سامنے ہے۔ وہ ریفائنری حملوں کو عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں — اور امریکی مڈٹرم انتخابات قریب ہیں۔ یعنی جنگ بندی کا اصل ایجنڈا یوکرین کی سلامتی سے زیادہ امریکی پیٹرول پمپ تھے۔ زیلنسکی نے اب بازی الٹ دی ہے: مزید پیٹریاٹ میزائل، ورنہ روسی ریفائنریاں جلتی رہیں گی — اور ڈیزل کی قیمتیں بھی چڑھتی رہیں گی۔

قارئین کے تبصرے (0)