Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں تیز: تین دن میں متعدد حملے، مغربی کنارے میں صحافی زخمی — نیتن یاہو کا مکمل کنٹرول کا اعلان

رام اللہ، مغربی کنارہ — غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد صورتحال کشیدہ

غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے جاری خلاف ورزیوں کا سلسلہ پچھلے تین دنوں میں نمایاں طور پر تیز ہوا ہے۔ منگل کو غزہ سٹی کے طفاح علاقے میں ایک گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ غزہ سول ڈیفنس کے مطابق اسرائیلی فورسز کی “بڑے پیمانے پر دھماکوں” اور “اندھا دھند فائرنگ” سے “یلو لائن” کے قریب بے گھر افراد کے سینکڑوں خیمے متاثر ہوئے، اور ادارے نے “شہری آبادی کے خلاف اس جنگ کو روکنے” کی اپیل کی ہے۔

تین دن کی ٹائم لائن

اتوار: خان یونس کے المواصی علاقے میں ایک خیمے پر حملے میں تین فلسطینی شہید ہوئے۔

پیر (12 اکتوبر): جنوبی غزہ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم دو افراد شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا۔

منگل (13 اکتوبر): طفاح میں گاڑی پر حملہ — ایک شہید، متعدد زخمی۔ اسی روز چار سالہ اسامہ احمد عابد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا؛ وہ تقریباً تین ہفتے قبل ایک حملے میں زخمی ہوا تھا۔ وفا نیوز ایجنسی کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 74,382 سے تجاوز کر چکی ہے۔

مغربی کنارے میں بھی کشیدگی بڑھی ہے۔ منگل کو رام اللہ اور البیرہ میں اسرائیلی چھاپوں کے دوران ایک بچہ براہِ راست گولی لگنے سے زخمی ہوا، جبکہ متعدد افراد آنسو گیس سے متاثر ہوئے۔ فلسطین ٹی وی کے نامہ نگار خالد مطاوعہ کے ہاتھ میں ساؤنڈ بم لگنے سے زخمی ہوئے، اور اسکائی نیوز عربیہ کے فراس لطفی کی ٹانگ میں شارپنل لگا۔ فلسطینی این جی اوز کے دفاتر اور فلسطین میڈیکل کمپلیکس کے صحن پر بھی چھاپے مارے گئے۔

اسی دوران وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ “دریائے اردن کے مغرب میں کوئی عرب فوج نہیں ہوگی، وہاں اسرائیلی فوج ہوگی” — یعنی مغربی کنارے پر مکمل اسرائیلی کنٹرول کا واضح اعلان۔

یہ سب کیوں اہم ہے؟

اعداد و شمار ایک سنگین تصویر پیش کرتے ہیں: اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی فائرنگ میں کم از کم 1,400 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے میں اسرائیل کے چار فوجی بھی مارے گئے۔ غزہ کا تقریباً دو تہائی حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول یا رسائی کی پابندیوں میں ہے، اور 80 فیصد سے زائد عمارتیں تباہ یا متاثر ہو چکی ہیں۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ حماس دوبارہ مسلح ہو رہی ہے اور حملے کر رہی ہے، اسی لیے حالیہ ہفتوں میں کارروائیاں تیز کی گئیں — حماس اس کی تردید کرتی ہے۔ اصل سوال اب یہ نہیں کہ جنگ بندی کاغذ پر موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ زمین پر اس کی کوئی عملی حیثیت باقی بچی ہے یا نہیں۔ نیتن یاہو کا مغربی کنارے سے متعلق اعلان اس تنازع کو غزہ سے آگے بڑھا کر ایک وسیع تر علاقائی بحران کی شکل دے رہا ہے — اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر آنے والے دنوں میں سب کی نظریں ہوں گی۔

مزید پڑھیے

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *