سوال: خبر کیا ہے؟
مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے جمعے کو ایکس پر بتایا کہ ستمبر 2026 میں پاکستان کی آئی ٹی اور ٹیکنالوجی برآمدات 43 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہیں۔ یہ ملکی تاریخ کی کسی بھی مہینے کی دوسری سب سے بڑی برآمد ہے — صرف دسمبر 2025 کے 43 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے ریکارڈ سے 20 لاکھ ڈالر کم۔
سوال: یہ اعداد کتنے بڑے ہیں؟
پیمانہ سمجھنے کے لیے تین عدد کافی ہیں۔ ستمبر کی برآمد گزشتہ سال کے اسی مہینے سے 18 فیصد اور اگست سے 10 فیصد زیادہ رہی۔ مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں آئی ٹی برآمدات مجموعی طور پر 1 ارب 25 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے تقریباً 18 فیصد زائد ہیں۔ اسی اعلان میں ایک اور بھی خوشخبری تھی: ستمبر میں اجناس کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں — بیس ماہ کی بلند ترین سطح۔
سوال: فری لانسرز کی آمدنی کا کیا حال ہے؟
یہی اس خبر کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔ خرم شہزاد کے مطابق ستمبر میں پاکستانی فری لانسرز کی برآمدی آمدنی 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی — آج تک کی کسی بھی مہینے کی بلند ترین سطح۔ یہ گزشتہ سال سے 49 فیصد اور اگست سے 11 فیصد زیادہ ہے۔ پہلی سہ ماہی میں فری لانسرز نے مجموعی طور پر تقریباً 55 کروڑ ڈالر کمائے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 46 فیصد زائد ہے۔ یعنی ملک کی آئی ٹی آمدنی کا تقریباً نصف حصہ اب ان نوجوانوں سے آ رہا ہے جن کے پاس نہ کوئی دفتر ہے، نہ کوئی برآمدی لائسنس۔
سوال: اس ترقی کی وجہ کیا بتائی گئی؟
حکومت کا موقف ہے کہ بجٹ 27-2026 میں برآمد کنندگان — اور خاص طور پر آئی ٹی شعبے — کے لیے دی گئی ہدفی مراعات اور ڈیجیٹل معیشت کی مضبوطی اس اضافے کی پشت پر ہیں۔ خرم شہزاد کے بقول یہ برآمدات قرضے کے بغیر زرمبادلہ، اعلیٰ قدر کی ملازمتیں اور عالمی منڈیوں سے پاکستان کے انضمام کو تقویت دے رہی ہیں۔ پاکستان اور چین کے تجارتی اعداد و شمار میں 98 فیصد فرق ختم ہونے کا حالیہ انکشاف بھی اسی تناظر میں اہم ہے — برآمدی ڈیٹا کی ساکھ جتنی مضبوط ہوگی، پالیسی اتنی ہی بہتر بنے گی۔
سوال: اس سے عام پاکستانی کو کیا فائدہ؟
دو سیدھے فائدے۔ پہلا، آئی ٹی کی ہر ڈالر کی آمدنی قرضے کے بغیر آتی ہے — یہ نہ آئی ایم ایف کی قسط ہے، نہ سود پر لیا ہوا قرض۔ دوسرا، یہ آمدنی براہ راست نوجوانوں کی جیب میں جا رہی ہے؛ فری لانسرز کا 46 فیصد سالانہ اضافہ بتاتا ہے کہ روزگار اب فیکٹریوں کے باہر بھی پیدا ہو رہا ہے۔ تاہم ایک احتیاط بھی ضروری ہے: یہ اعداد مشیرِ خزانہ کی اپنی پوسٹوں سے آئے ہیں، اور ایک مہینہ رجحان نہیں ہوتا۔
اس سب کا مطلب کیا ہے؟
اگر یہ رفتار برقرار رہی تو دسمبر کا ریکارڈ ٹوٹنا محض وقت کی بات ہے — لیکن “اگر” یہیں سب سے بڑا سوال ہے۔ آئی ٹی برآمدات عالمی طلب پر منحصر ہیں، اور فری لانسرز کی آمدنی ادائیگیوں کے راستوں (پے پال جیسے پلیٹ فارمز کی عدم دستیابی) سے جڑی ہے۔ اگلی سہ ماہی کے اعداد بتائیں گے کہ ستمبر ایک چمک تھی یا واقعی کوئی موڑ۔ فی الحال، خبر اچھی ہے — اور اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کا کریڈٹ کسی ایک پالیسی سے زیادہ ان ہزاروں نوجوانوں کو جاتا ہے جو اپنے کمروں سے بیٹھ کر ڈالر کما رہے ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)