فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اور چین کے تجارتی اعداد و شمار میں برسوں سے ایک بڑا فرق چلا آ رہا تھا — لیکن 2023 کی رپورٹ شدہ 32 فیصد خلا اب مفاہمت کے بعد گھٹ کر صرف 0.54 فیصد رہ گئی ہے، یعنی 98 فیصد کمی۔ پاکستان کسٹمز نے منگل کو جاری وضاحت میں کہا کہ دونوں ممالک کے اعداد میں فرق خودکار طور پر درآمدی دھوکا دہی یا انڈر انوائسنگ کا ثبوت نہیں ہوتا۔
یہ فرق تھا کیا؟
جب دو ممالک ایک دوسرے کو بھیجے گئے سامان کے اعداد و شمار انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کو رپورٹ کرتے ہیں، تو اکثر اعداد آپس میں نہیں ملتے۔ پاکستان اور چین کے معاملے میں یہ فرق اتنا بڑا تھا کہ برسوں سے یہ الزام لگتا رہا کہ چینی درآمدات میں انڈر انوائسنگ ہو رہی ہے — یعنی درآمد کنندگان کسٹمز ڈیوٹی بچانے کے لیے سامان کی قیمت کم ظاہر کرتے ہیں۔
فرق کیسے ختم ہوا؟
ایف بی آر کے مطابق اصل وجہ دھوکا دہی نہیں، ڈیٹا اکٹھا کرنے، مرتب کرنے اور رپورٹنگ کے طریقوں کا فرق تھا۔ دونوں ممالک کے اعداد کا موازنہ کر کے مفاہمت کی گئی، جس سے خلا 32 فیصد سے گھٹ کر 0.54 فیصد رہ گئی۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے صنعت کی مشاورت سے مختلف مصنوعات — یارن اور فیبرکس سمیت — کے ویلیوایشن رولنگ بھی جاری اور نظرثانی کیے ہیں، جن کا مقصد حقیقی اور یکساں کسٹمز ویلیوایشن ہے۔
انڈر انوائسنگ کے الزامات کا کیا بنا؟
کسٹمز کی وضاحت کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ صرف اعداد کے فرق سے انڈر انوائسنگ ثابت نہیں ہوتی۔ تاہم ادارے نے یہ نہیں کہا کہ دھوکا دہی بالکل نہیں ہوتی — بلکہ نکتہ یہ ہے کہ رپورٹنگ کے طریقوں کا فرق گمراہ کن اعداد پیدا کر سکتا ہے۔ ٹیکسٹائلز، اسٹیل، کیمیکلز، ٹائرز، پلاسٹکس اور آٹوموٹیو سمیت شعبوں میں مقامی مینوفیکچررز کے تحفظ کے لیے ویلیوایشن رولنگ کا جائزہ جاری ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
ایف بی آر نے چینی حکام سے رابطہ کیا ہے کہ الیکٹرانک ڈیٹا ایکسچینج میکنزم کو ٹرانزیکشن لیول کی معلومات تک بڑھایا جائے، جو فی الحال دستیاب نہیں۔ جولائی 2026 سے تجارتی ڈیٹا رپورٹنگ بہتر بنانے کے اصلاحی اقدامات پہلے ہی نافذ ہیں۔ چین کی جانب سے اس تجویز پر ابھی کوئی جواب رپورٹ نہیں ہوا — اسے اتفاق کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کہ پاکستان-چین تجارت پر انڈر انوائسنگ کا الزام برسوں سے ٹیکس چوری کی بحث کا حصہ رہا ہے۔ اگر فرق واقعی رپورٹنگ کے طریقوں کا تھا، تو پالیسی کا رخ “کریک ڈاؤن” سے ہٹ کر “ڈیٹا ہم آہنگی” کی طرف جائے گا — اور یہ مقامی صنعت کے تحفظ اور ٹیکس وصولی دونوں کے لیے زیادہ پائیدار راستہ ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)