کراچی: سندھ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 15 اکتوبر کو چین کے شہر شنگھائی میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کرے گی، جس کا مقصد چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ براہِ راست کاروباری اور حکومتی شراکت داریاں استوار کرنا ہے۔
صوبائی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے جمعرات کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد چین جائے گا، جہاں بزنس ٹو بزنس اور گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ دونوں طرح کی سرمایہ کاری پر بات ہوگی۔ ان کے مطابق چار سو سے زائد چینی کمپنیوں کو مدعو کیا گیا ہے، اور توقع ہے کہ نئی سرمایہ کاری سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے راستے کھلیں گے۔
پریس کانفرنس میں سب سے زیادہ زور تھر کے کوئلے پر تھا۔ شرجیل میمن نے دعویٰ کیا کہ تھر کا کوئلہ اس وقت ملک کی بجلی کی مجموعی پیداوار کا 14 فیصد فراہم کر رہا ہے، اور اس شعبے میں اب تک تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ ان کے الفاظ میں: “تھر کوئلہ پاکستان کے لیے گیم چینجر بن چکا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ تھر کے کوئلے سے بجلی بنانے سے غیر ملکی زرمبادلہ کی بھی بچت ہو رہی ہے، کیونکہ اس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوا ہے۔
تعلیم کے حوالے سے سینئر وزیر نے بتایا کہ سندھ میں اس سال گیارہ سو نئے اسکول تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 47 دسمبر تک اور 800 مارچ تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت معیاری تعلیم کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
شرجیل میمن نے یہ بھی اعلان کیا کہ سندھ وژن کا تیسرا ایونٹ نومبر کے آخر میں سکھر میں ہوگا، جس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوں گے۔ اس موقع پر سکھر کو “رول ماڈل” ضلع قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی ترقیاتی کارکردگی اجاگر کی جائے گی۔
سیاسی سوالات کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی انتخابات میں تحریک انصاف کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد نہیں کرے گی، اور کہا کہ ان کی جماعت عوام کو جوابدہ ہے۔
تجزیہ
شنگھائی کا انتخاب محض علامتی نہیں۔ چین کے مالیاتی اور کاروباری دارالحکومت میں یہ کانفرنس اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سندھ حکومت اب صرف وفاقی حکومت کے راستے سرمایہ کاری نہیں ڈھونڈ رہی بلکہ براہِ راست صوبائی سطح پر چینی کاروباری حلقوں سے رابطہ کر رہی ہے۔ تھر کے کوئلے کو سرمایہ کاری کی کہانی کا مرکز بنانا بھی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے — توانائی کی خود کفالت کا وعدہ ہر سرمایہ کار کے لیے دلچسپ ہوتا ہے، کیونکہ سستی اور مستحکم بجلی کے بغیر کوئی صنعت نہیں چلتی۔
اصل سوال البتہ یہی رہتا ہے: کیا اس طرح کی کانفرنسوں سے حقیقی سرمایہ کاری آتی ہے، یا معاہدوں کی یادداشتیں (ایم او یوز) دستخط ہو کر فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں؟ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی تاریخ میں اعلامیے کم اور زمین پر نظر آنے والی فیکٹریاں زیادہ کمیاب رہی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کا وعدہ بھی اسی وقت پورا ہوگا جب سرمایہ کاری صرف اعداد و شمار میں نہیں، پلانٹوں اور کام کے مواقع میں نظر آئے۔

قارئین کے تبصرے (0)