Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

راولپنڈی میں ڈینگی کے 54 کیسز: 2798 مقدمے، 31 لاکھ سے زائد جرمانے — اہم سوالات کے جوابات

ڈینگی پھیلانے والا ایڈیز ایجپٹائی مچھر کی قریبی تصویر

سوال: راولپنڈی میں ڈینگی کی تازہ صورتحال کیا ہے؟

راولپنڈی ضلع میں رواں سال اب تک ڈینگی کے 54 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سرکاری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق 5 ہزار 427 مریضوں کی اسکریننگ ہوئی، جن میں سے 4 ہزار 995 مشتبہ کیسز ضلعی اسپتالوں میں ریکارڈ کیے گئے۔ خوش قسمتی سے اب تک ڈینگی سے کوئی موت ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس وقت 12 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں، جن میں 6 تصدیق شدہ ڈینگی مریض ہیں۔

ہولی فیملی اسپتال میں اس وقت 14 مریض داخل ہیں، جن میں سے 8 کے ڈینگی ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اعجاز بٹ کے مطابق تمام مریض ڈینگی وارڈ میں ہیں جہاں معیاری طریقہ کار پر مکمل عمل ہو رہا ہے، مریضوں کی حالت مستحکم ہے اور وارڈ میں بستروں کی کوئی کمی نہیں۔ دوسری جانب بے نظیر بھٹو اسپتال کے میڈیکل سپرنڈنٹ ڈاکٹر شرجیل شیخ کا کہنا ہے کہ ان کے اسپتال میں رواں سال اب تک کوئی ڈینگی مریض نہیں آیا، تاہم 41 بستروں پر مشتمل ڈینگی وارڈ قائم کر دیا گیا ہے۔

سوال: کیسز کس رفتار سے بڑھ رہے ہیں اور سب سے زیادہ لاروا کہاں ملا؟

اکتوبر کے پہلے دس دنوں میں 20 مریض رپورٹ ہوئے، ستمبر میں 27 اور مارچ-اپریل میں 6 کیسز سامنے آئے تھے۔ یعنی موسم کے عروج کے ساتھ ہی کیسز میں تیزی آ رہی ہے۔

لاروا کی کثافت کی صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔ کلیال پوٹھوہار ٹاؤن میں بریٹیو انڈیکس 309.85 ریکارڈ ہوا ہے — یہ اس بات کا پیمانہ ہے کہ کسی علاقے میں مچھر کے لاروا کتنے گھنے ہیں، اور یہ عدد انتہائی خطرناک سطح کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بعد چکلالہ کنٹونمنٹ (22.4)، تخت پری (20.03) اور راولپنڈی کنٹونمنٹ (17.74) میں سب سے زیادہ لاروا پایا گیا۔ کلیال، نصیر آباد، چکلالہ اور راولپنڈی کنٹونمنٹ کے ملحقہ علاقوں کے ساتھ ساتھ ڈھوک بابو عرفان، لاکھن، ہزارہ کالونی اور افشاں کالونی میں بھی نمایاں لاروا پایا گیا ہے۔

سوال: حکام نے ڈینگی کنٹرول کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟

محکمہ صحت نے 1 ہزار 400 فیلڈ ٹیمیں تعینات کی ہیں — 415 بیرونی اور 985 اندرونی نگرانی کا عملہ — جنہوں نے 17 ہزار 859 رجسٹرڈ ہاٹ اسپاٹس میں 97 فیصد کوریج حاصل کی۔ ٹیموں نے 54 لاکھ سے زائد گھروں اور 18 لاکھ 70 ہزار کمرشل مقامات کا معائنہ کیا ہے۔

خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی بھی ہوئی ہے: ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 2 ہزار 798 مقدمات درج کیے گئے، 686 عمارتیں سیل کی گئیں، 2 ہزار 331 چالان ہوئے اور 31 لاکھ 56 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ ضلعی ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کے 34 اجلاسوں کی نگرانی میں یہ کارروائیاں ہوئیں۔

سوال: شہری ڈینگی سے بچاؤ کے لیے کیا کریں؟

محکمہ صحت کی سرکاری ہدایات کے مطابق سب سے اہم کام اپنے گھر اور آس پاس ٹھہرا ہوا پانی ختم کرنا ہے — یہی وہ جگہ ہے جہاں ڈینگی پھیلانے والا مچھر انڈے دیتا ہے۔ پانی کے ٹینک، گملے، ٹائر اور کچرے کے ڈبے باقاعدگی سے صاف رکھیں۔ تیز بخار، سر درد یا جوڑوں کے درد کی صورت میں فوراً قریبی اسپتال سے ٹیسٹ کروائیں؛ بروقت تشخیص سے پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

سوال: اس سال کیسز پچھلے سالوں سے کم کیوں ہیں؟

ضلعی محکمہ صحت کے ایک عہدیدار کے مطابق ماہرین کی رائے ہے کہ تین سال کے چکر کے بعد ڈینگی کے مریضوں میں کمی آتی ہے — یہ بیماری کی قدرتی لہر کا حصہ ہے۔ دوسری وجہ اس سال کی منظم اینٹی ڈینگی مہم ہے، جس میں نگرانی اور کارروائی دونوں کا دائرہ وسیع کیا گیا۔

اس سب کا مطلب کیا ہے؟

اعداد و شمار دو متضاد کہانیاں سناتے ہیں۔ ایک طرف مریضوں کی تعداد قابو میں ہے اور کوئی موت نہیں ہوئی — یہ نگرانی اور علاج کے نظام کی کامیابی ہے۔ دوسری طرف کلیال میں 309.85 کا بریٹیو انڈیکس بتاتا ہے کہ مچھر کی افزائش کے اڈے بدستور موجود ہیں، اور اکتوبر ڈینگی کا عروج کا مہینہ ہے۔ جرمانوں اور مقدمات کی بھرمار سے وقتی دباؤ تو پیدا ہوتا ہے، مگر لاروا کی کثافت تبھی کم ہو گی جب ہر گھر اپنی ذمہ داری سمجھے۔ سردیاں آتے ہی مچھر کی افزائش رک جائے گی، لیکن اگلے موسم سے پہلے یہی ہاٹ اسپاٹس دوبارہ خطرہ بنیں گے اگر ان کی صفائی مستقل نہ ہوئی۔ علاقائی سطح پر بھی بیماریوں کی نگرانی جاری ہے — بنگلہ دیش میں خسرے کی وبا اور کینیا میں ایبولا کے تازہ کیسز اسی کی مثالیں ہیں، جبکہ خیبر میں پولیو وائرس کی واپسی بتاتی ہے کہ نگرانی میں ذرا سی کوتاہی پرانی بیماریوں کو واپس لا سکتی ہے۔

ڈینگی پھیلانے والا ایڈیز ایجپٹائی مچھر کی قریبی تصویر
Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *