نیروبی — مشرقی افریقہ کی سب سے بڑی معیشت کینیا میں ایبولا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے۔ حکام نے منگل کے روز تصدیق کی کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر کانگو) سے واپس آنے والا ایک کینائی شہری نیروبی کے ایک اسپتال میں ایبولا سے جاں بحق ہو گیا۔ متاثرہ شخص ملک میں ایبولا سے مرنے والا پہلا فرد ہے، اور اس کی موت نے خطے بھر میں صحتِ عامہ کے محکموں کو چوکنا کر دیا ہے۔
کینیا کے وزیرِ صحت عدن دُوالے نے میڈیا کو بتایا کہ مریض گزشتہ سات برس سے کانگو میں مقیم تھا اور تقریباً ایک ماہ قبل وہیں بیمار پڑا تھا۔ کانگو کے کئی اسپتالوں میں علاج کے بعد وہ بذریعہ سڑک یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا پہنچا، اور وہاں سے جمبو جیٹ کی فلائٹ نمبر 8523 پر سوار ہو کر ہفتے کے روز سہ پہر ایک بج کر دس منٹ پر نیروبی کے جومو کینیاٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا۔ ایئرپورٹ پر اس کی معمول کی صحت جانچ بھی ہوئی، مگر وائرس کی تشخیص نہ ہو سکی۔
ایئرپورٹ سے ایک رشتہ دار اور دوست اسے براہِ راست نیروبی اسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے اسے فوراً ایمرجنسی وارڈ کے الگ کمرے میں الگ تھلگ کر دیا اور بعد ازاں اسپتال کے ایسٹ ونگ آئسولیشن یونٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ مریض میں تیز بخار، سردی لگنا، شدید تھکاوٹ، پٹھوں میں درد، نگلنے میں تکلیف اور انجکشن کی جگہوں پر جلد کے نیچے خون بہنے کی علامات تھیں۔ نیشنل وائرولوجی ریفرنس لیبارٹری اور کینیا میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ (کیمری) دونوں میں نمونوں کی جانچ سے ایبولا کے بنڈی بگیو (Bundibugyo) وائرس کی تصدیق ہوئی۔
دُوالے کے مطابق مریض کو معاون علاج دیا گیا، “لیکن افسوس کہ وہ پیر کی رات انتقال کر گیا۔” حکام نے ایبولا کے مخصوص دفن پروٹوکول کے تحت میت کی تدفین کے انتظامات کیے ہیں۔
محکمہ صحت نے اب تک متوفی کے 28 رابطوں کی فہرست تیار کر لی ہے، جن میں گھر کے افراد اور اس کا علاج کرنے والے طبی عملے کے ارکان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کمپالا سے نیروبی آنے والی اسی فلائٹ کے 23 مسافروں اور عملے کے چار ارکان کی بھی تلاش جاری ہے۔ بعد ازاں حکام نے واضح کیا کہ دوسرے مشتبہ کیس کا ابتدائی ٹیسٹ منفی آیا ہے — اب تک کسی دوسرے رابطے میں ایبولا کی تصدیق نہیں ہوئی۔ وزیرِ صحت نے عوام سے کہا: “میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔”
صدر ولیم روٹو کے مطابق متوفی کے کم از کم آٹھ قریبی رشتہ داروں اور 21 طبی کارکنوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرک ایموتھ کے مطابق تمام افراد 21 روز تک الگ تھلگ رہیں گے اور منفی ٹیسٹ کے بعد ہی رہا ہوں گے۔ جمبو جیٹ نے تصدیق کی ہے کہ مریض کمپالا–نیروبی پرواز JM 8523 میں سوار تھا؛ اسی پرواز کے 23 مسافروں اور عملے کے 4 ارکان کی تلاش جاری ہے۔
یہ کیس کئی حوالوں سے سنگین ہے۔ بنڈی بگیو ایبولا کا ایک نایاب ویرینٹ ہے جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں — ویکسین کے انسانی تجربات رواں برس جولائی میں شروع ہوئے ہیں۔ کانگو میں مئی میں اعلان شدہ ایبولا کی اس وبا میں اب تک 8 ہزار سے زائد کیسز اور 4 ہزار سے زائد اموات ریکارڈ ہو چکی ہیں، اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی کانگو میں وبا “قابو پانے والوں سے تیز” پھیل رہی ہے۔ یوگنڈا میں بھی 20 کیسز اور دو اموات ہوئیں، تاہم ڈبلیو ایچ او نے اگست میں یوگنڈا کو بیماری سے پاک قرار دے دیا تھا۔
کینیا نے وبا شروع ہونے کے بعد سے 6 لاکھ 52 ہزار سے زائد مسافروں کی اسکریننگ کی اور پانچ لیبارٹریوں میں 267 نمونے ٹیسٹ کیے — یہ پہلا مثبت کیس ہے۔ اس کے باوجود متاثرہ شخص ایئرپورٹ کی جانچ سے نکل گیا، جو اسکریننگ کے نظام پر سوالات اٹھاتا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ جون میں کینیا کی ایک عدالت نے لیکیپیا ایئر بیس پر امریکا کی مالی معاونت سے بننے والی ایبولا آئسولیشن سہولت کی تعمیر روک دی تھی، جس پر مقامی آبادی نے احتجاج بھی کیا تھا۔
یہ خبر کیوں اہم ہے؟ پہلی بات تو یہ کہ کینیا مشرقی افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی اور سفری مرکز ہے — یہاں ایبولا کا ایک بھی کیس علاقائی پروازوں، سرحدی تجارت اور ہزاروں مسافروں کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری بات، مریض کی فضائی سفر کی تاریخ کا مطلب ہے کہ متعدد ممالک کے مسافر ممکنہ رابطوں میں آئے۔ تیسری اور سب سے اہم بات: بنڈی بگیو ویرینٹ کے خلاف کوئی ویکسین نہیں، اس لیے روک تھام کا واحد ہتھیار تیز رابطہ ٹریسنگ اور قرنطینہ ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے ہوائی اڈوں کے لیے یہ ایک تازہ انتباہ ہے کہ متاثرہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کی نگرانی میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔

قارئین کے تبصرے (0)