کراچی کے ایک گھر میں تین سالہ موسیٰ اپنے چچا فواد کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر کھیلتے کھیلتے رک جاتا ہے۔ اسکرین پر تصویر دیکھتے ہی وہ چیختا ہے: “یہ میرے بابا ہیں… وہ اب اللہ میاں کے پاس ہیں۔” پھر اسکرین کو چوم لیتا ہے۔ اس کے بابا، محمد حماد عبیدہ، ایک ماہ پہلے عمان کے ساحل سے کچھ دور سمندر میں قتل ہوئے تھے۔ ان کی میت آج بھی وہیں عمان کے ایک مردہ خانے میں پڑی ہے۔
حماد، 34 سالہ میرین انجینئر، گلاسگو یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ تھے۔ وہ پانامہ کے پرچم والے تیل بردار جہاز ایم ٹی ایل گیا پر تھرڈ انجینئر کے طور پر کام کرتے تھے۔ چھ ستمبر کو وہ گھر سے روانہ ہوئے؛ ایک دن پہلے حملے سے، وہ اپنی والدہ سے ویڈیو کال پر تھے۔ “وہ مجھے جہاز کی سیر کرا رہے تھے… وہ کام پر واپس آ کر بہت خوش تھے،” ان کی والدہ آثر پرویز نے ڈان کو بتایا۔
13 ستمبر کو جہاز عمان کے مسندم کے شمال میں تقریباً 103 ناٹیکل میل کے فاصلے پر نامعلوم ہتھیار کے حملے کا نشانہ بنا۔ انجن روم میں آگ لگی۔ عملے کے 25 افراد میں سے 23 کو عمان کی شاہی بحریہ نے بچا لیا؛ دو افراد لاپتہ رہے — حماد اور بھارتی آئلر سمیت کمار سنگھ۔ دونوں حملے کے وقت انجن روم میں ڈیوٹی پر تھے۔ ان کی لاشیں کئی دن بعد ایک ہیڈ کاؤنٹ کے دوران انجن روم کی آگ میں جھلسی ہوئی ملیں۔ خاندان کو خبر 26 ستمبر کو حماد کے ایک ساتھی کے ذریعے ملی — حملے کے پورے تیرہ دن بعد۔
اب جو کہانی شروع ہوتی ہے، وہ سمندر کی نہیں، کاغذوں اور انتظار کی ہے۔ فواد نے پاکستان کے سفارت خانے کو خط لکھے، دفتر خارجہ سے رابطہ کیا، وزیر اعظم تک سوشل میڈیا پر اپیل کی، سندھ حکومت سے بھی کہا — جس کا جواب صرف اتنا ملا کہ معاملہ حکومت کے علم میں ہے۔ واضح جواب کوئی نہیں ملا۔ عمان میں پاکستانی سفارت خانے نے تصدیق کی کہ دو لاشیں ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کر رہی ہیں، مگر خاندان سے ڈی این اے کا نمونہ لینے کوئی پاکستانی ادارہ اب تک نہیں آیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ لاشیں بری طرح جھلسی ہیں، اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ ضروری ہے اور واپسی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
جب کیمرے چل رہے ہوں، تو ریاست دوڑتی ہے
یہاں ایک موازنہ کرنا ضروری ہے۔ ستمبر کے آخری ہفتے میں جب صومالی قزاقوں سے چھڑائے گئے ایم ٹی آنر 25 کے عملے کو واپس لایا گیا، تو دفتر خارجہ باقاعدہ پریس ریلیز جاری کرتا رہا۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ اطلاع دی۔ چار اکتوبر کو جب زخمی ملاح اور شہید ہونے والے تین پاکستانیوں کی میتیں کراچی پہنچیں، تو سندھ کے گورنر نہال ہاشمی اور صوبائی وزرا ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے موجود تھے۔ اسی خاندان کی باری آئی ہے تو صرف خط، ای میل اور ایک چھوٹے بچے کا موبائل اسکرین کو چومنا۔
فرق صرف یہ ہے کہ وہاں کیمرے تھے اور یہاں نہیں۔ حماد کے خاندان کا مطالبہ بڑا نہیں: وہ صرف کہتے ہیں کہ ہمیں میت واپس لے آئیں تاکہ ہم کم از کم ایک باعزت تدفین کر سکیں۔ والدہ ہیں، ایک بھائی ہے، تین سالہ بیٹا اور حاملہ بیوی — یہ لوگ کسی معاوضے یا بیان کا انتظار نہیں کر رہے، صرف ایک تابوت کا۔
پاکستان کی معیشت سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر کھڑی ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر آتے ہیں اور حکومت فخر سے ان کے اعداد و شمار سناتی ہے۔ مگر جو لوگ ان ڈالروں کے لیے جان دیتے ہیں، ان کی میتیں واپس لانے کے لیے کوئی سسٹم نظر نہیں آتا — صرف ایک مجبور خاندان جو خود دروازے کھٹکھٹاتا پھرتا ہے۔ ایل گیا کا واقعہ اکیلا نہیں: اسی مہینے بحیرہ اسود میں آفرامیکس ریو پر ڈرون حملہ ہو چکا ہے، اور خلیج فارس کے تجارتی راستے ہر ہفتے خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستانی ملاح انہی راستوں پر کام کرتے ہیں۔
اگلے قدم کی بات کی جائے تو ڈی این اے کے نتائج آنے کے بعد میت کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس خاندان کو بھی وہی توجہ ملے گی جو آنر 25 کے اہل خانہ کو ملی تھی — یا پھر ان کا انتظار ایک اور خط، ایک اور ٹویٹ اور ایک اور مہینے تک بڑھتا رہے گا۔ موسیٰ کو اپنے بابا کو الوداع کہنے کا حق تو ملنا ہی چاہیے۔


قارئین کے تبصرے (0)