ایک سال پہلے کی ایک رات حیدرآباد کے لیاقت یونیورسٹی اسپتال میں سترہ سالہ حنین عامر ڈینگی کے علاج کے دوران انتقال کر گیا۔ پری میڈیکل کا طالب علم تھا — وہی عمر جس میں بچے ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔ اس کے والد عامر لطف زرداری نے مارکیٹ تھانے میں مقدمہ درج کرایا: کرائم نمبر 316/25، دفعات 302 اور 147۔ الزام سیدھا تھا — میرے بیٹے کی موت ڈاکٹروں کی غفلت سے ہوئی۔
اس کے بعد کہانی عدالتوں میں چلی گئی، اور ایک سال بعد اس نے ایسا موڑ لیا جس نے سندھ بھر کے ڈاکٹروں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ چودہ اکتوبر کو ٹرائل کورٹ نے ڈاکٹروں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ جواب میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ٹیچرز ایسوسی ایشن کی مشترکہ ٹیم عدالت پہنچی، اور صوبے بھر کے ڈاکٹروں نے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔
جمعے کو سندھ ہائی کورٹ کے حیدرآباد سرکٹ بینچ کے جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹروں کو بیس ہزار روپے کے مچلکوں پر دس روزہ حفاظتی ضمانت دے دی۔ ڈان کے مطابق ضمانت پانے والے ڈاکٹر 24 ہیں، جبکہ دی نیوز یہ تعداد 27 بتاتا ہے — وارنٹ اصل میں ستائیس کے خلاف جاری ہوئے تھے۔
عدالت میں ڈاکٹروں کے وکیل میثم حسین سحر نے دو بنیادی نکات اٹھائے۔ پہلا، ایف آئی آر میں یہ ثابت ہی نہیں ہوا کہ حنین کی موت کسی مخصوص ڈاکٹر کے کسی مخصوص عمل یا کوتاہی کا براہِ راست نتیجہ تھی۔ دوسرا، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے 3 جولائی 2026 کے اپنے حکم میں لکھا تھا کہ تفتیش میں کسی بھی طبی عملے کی جانب سے مجرمانہ نیت، جان بوجھ کر بدسلوکی یا مریض کی فلاح سے دانستہ غفلت کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ وکیل نے یہ نکتہ بھی رکھا کہ دفعہ 302 بعد میں خارج کر کے دفعات 322 اور 34 شامل کی گئیں — اور دفعہ 322 کے تحت تو سزا بھی صرف دیت ادا نہ کرنے پر قید کی صورت میں ہو سکتی ہے، اس لیے مقدمے سے پہلے جیل بھیجنا سزا سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہے۔
دوسری طرف ڈاکٹروں کا اپنا موقف بھی سامنے آیا۔ وائی ڈی اے سندھ کے صدر ڈاکٹر روشن علی چانڈیو کا کہنا ہے کہ مریض ڈینگی مثبت آنے کے پندرہ دن بعد اسپتال لایا گیا تھا اور انتظامیہ نے فوری طور پر انتہائی نگہداشت فراہم کی، مگر لڑکا علاج کے باوجود انتقال کر گیا۔ ان کے بقول اصل ایف آئی آر میں صرف چھ ڈاکٹر نامزد تھے، بعد میں یہ تعداد بڑھا کر ستائیس کر دی گئی۔ پی ایم اے کی ڈاکٹر فرزانہ نے منصفانہ قانونی عمل کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ کیس اب ایک فرد کی موت سے آگے نکل کر ایک بڑے سوال کی علامت بن چکا ہے: ایک سوگوار خاندان کے احتساب کے حق اور طبی نتائج کو جرم قرار دینے کے خطرے کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے؟ ڈاکٹروں کا خدشہ ہے کہ ہر برے نتیجے پر وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تو کوئی بھی مشکل اور نازک مریض لینے کو تیار نہیں ہوگا۔ خاندان کا سوال اس کے برعکس ہے — اگر غفلت ہوئی تو جوابدہی کیوں نہ ہو؟ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا حکم ڈاکٹروں کے حق میں ایک مضبوط دستاویزی نکتہ ضرور ہے، مگر حتمی فیصلہ بہرحال عدالت کو کرنا ہے۔ اور یاد رہے، یہ ضمانت صرف دس دن کی حفاظتی مہلت ہے — کیس ابھی ختم نہیں ہوا، ابھی شروع ہوا ہے۔
راولپنڈی میں ڈینگی کے 54 کیسز سامنے آ چکے ہیں — ڈینگی کا موسم ابھی عروج پر ہے۔ علاقائی سطح پر بیماریوں کی نگرانی بھی جاری ہے، جیسا کہ خیبر میں پولیو وائرس کی واپسی سے ظاہر ہوتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)