Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

آبنائے ہرمز میں ایک اور تیل بردار جہاز سمندری مائن سے ٹکرا گیا — 48 گھنٹوں میں تیسرا ٹینکر

آبنائے ہرمز میں سمندری مائن سے ٹکرا کر آگ لگنے والے تیل بردار جہاز کی فائل تصویر

تہران — ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک اور تیل بردار جہاز سمندری مائن سے ٹکرا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد جہاز کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایران کے مطابق یہ 48 گھنٹوں کے دوران آبنائے میں تباہ ہونے والا تیسرا ٹینکر ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق جہاز “غیر مجاز جنوبی راستے” پر سفر کر رہا تھا اور اس نے اپنی پوزیشننگ اور نیویگیشن سسٹمز بند کر رکھے تھے۔ بیان میں کہا گیا: “جو تیل بردار جہاز خلاف ورزی کر رہا تھا، آبنائے ہرمز کے جنوب میں بحری مائن سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور اس کے انجن روم میں آگ لگ گئی۔”

ایران نے جہاز کا نام، پرچم، مالک یا عملے کے بارے میں کوئی تفصیل ظاہر نہیں کی۔ نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ عملے میں سے کوئی زخمی یا ہلاک ہوا ہے یا نہیں۔ یہ دعویٰ بھی اب تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکا ہے — اس خبر میں ایران کے بیانات کو ایران کے موقف کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے۔

48 گھنٹوں میں تین ٹینکر

ایران کے اعداد و شمار کے مطابق یہ سلسلہ جمعہ کو شروع ہوا، جب ایک ٹینکر نے مائن سے ٹکرائی اور دھماکہ ہوا۔ ہفتے کو ایک سپر ٹینکر — جس میں 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل تھا — اسی علاقے میں مائن سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ پیر کو تیسرا جہاز اسی نوعیت کے دھماکے کا شکار ہوا ہے۔ ہفتے کو سپر ٹینکر پر مائن دھماکے کی مکمل تفصیلات یہاں پڑھیں

اس سے پہلے جمعہ کو مشرقی سعودی ساحل کے قریب الجبیل کے علاقے میں بھی ایک تیل بردار جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ ہوا تھا، جبکہ ایک اور جہاز کو چھوٹی کشتی سے آر پی جی داغا گیا تھا۔ الجبیل کے قریب تیل بردار جہازوں پر حملوں کی خبر یہاں

ایران کی سخت وارننگ

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل علی عظمائی نے اسی ہفتے خبردار کیا تھا کہ جو بھی جہاز اپنے نیویگیشن اور شناختی سسٹمز بند کر کے آبنائے سے گزرے گا، اسے “دشمن” سمجھا جائے گا۔ ان کے الفاظ میں: “آبنائے ہرمز سے گزرنے والا ہر جہاز جو اپنے نیویگیشن اور شناختی سسٹمز بند کرے گا، اسے سخت اور فیصلہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

فروری 2026 کے آخر میں امریکا اور اسرائیل سے جنگ چھڑنے کے بعد ایران نے آبنائے کا براہِ راست کنٹرول سنبھال لیا ہے اور ہر جہاز سے پہلے اجازت طلب کرتا ہے۔ امریکا نے جواب میں ایرانی تیل کی برآمدات پر بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے جہاز رانی کو احتیاط سے گزرنے کی ہدایت کی ہے اور اس علاقے میں مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینے کو کہا ہے۔

یہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے

آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے دنیا کے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ لے جانے والا راستہ تھا۔ مسلسل مائن دھماکوں نے تجارتی جہاز رانی کو تقریباً ٹھپ کر دیا ہے — رائٹرز کے حوالے سے کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو صرف چار مال بردار جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ دس روزہ اوسط 16 جہاز تھی۔

پاکستان اپنی پٹرولیم مصنوعات کی بیشتر ضرورت درآمدات سے پوری کرتا ہے، اور قیمتیں ہر پندرہ روز بعد عالمی منڈی کے مطابق نظرثانی کی جاتی ہیں۔ پٹرول پہلے ہی تقریباً 399 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے، اور برینٹ خام تیل 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔ آبنائے میں ایک اور ٹینکر کا مائن سے ٹکرا جانا تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ کا مطلب ہے — اور پاکستان میں اس کا اثر اگلی نظرثانی میں محسوس ہو سکتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *