Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

سہیل آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ — پی ٹی آئی نے پشاور کی طرف مارچ کی کال دے دی

پشاور شہر کا منظر

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد صوبے کی سیاست میں ایک اور دھماکا ہوا ہے — پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے ابھی تک اس دعوے کی نہ تصدیق ہوئی ہے اور نہ تردید۔

دعویٰ سب سے پہلے پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، جنید اکبر اور کئی دیگر اہم رہنماؤں کو حراست میں لیا ہے۔ خٹک نے پشاور اور خیبر پختونخوا بھر کے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ خود بھی عوام کے ساتھ ہوں گے — جہاں عوامی اجتماع بڑا ہوگا، وہ وہیں موجود ہوں گے۔ انہوں نے جنوبی اضلاع کے عوام سے اپیل کی کہ قومی شاہراہ مکمل طور پر بند کر کے پشاور کی طرف قافلوں میں آئیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے بھی ایکس پر یہی دعویٰ دہرایا۔ انہوں نے لکھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اب عوام کو نکلنا ہوگا اور پورا خیبر پختونخوا پشاور کی طرف آئے۔ انہوں نے کوہاٹ کے عوام سے پشاور کی طرف رخ کرنے اور قبائلی اضلاع کے عوام سے وزیراعلیٰ کی حمایت میں نکلنے کی اپیل کی۔

جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے خود ایکس پر لکھا کہ انہیں اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم حکومت کی طرف سے ان گرفتاریوں کے حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔

سہیل آفریدی اس وقت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی قیادت کر رہے تھے، جو 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوا تھا۔ مارچ کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی اور ان سے ملاقات کی رسائی ہے۔ وفاقی کابینہ نے آج صبح اپنے ہنگامی اجلاس میں صوبے میں ایمرجنسی کی سفارش کی تھی، جس کی صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت منظوری دی — یہ خبر آج پہلے 101اردو پر شائع ہوئی۔

پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے ایمرجنسی کے نفاذ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اس اقدام کو شدید سیاسی غلطی قرار دیا اور کہا کہ صوبوں کو کمزور کر کے وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا۔ پارٹی کی کور کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایمرجنسی کو تمام آئینی، قانونی اور جمہوری فورمز پر چیلنج کرے گی۔

دوسری طرف پشاور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت میں خلل آ رہا ہے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ شہر کی اہم سڑکوں پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں۔

یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے؟

منتخب وزیراعلیٰ کی مبینہ گرفتاری کا دعویٰ اس بحران کو ایک نئے موڑ پر لے آیا ہے۔ صوبہ اب عملاً گورنر کے کنٹرول میں ہے، نیا چیف سیکرٹری تعینات ہو چکا ہے، اور جس لیڈر نے ایمرجنسی کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی، پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اب حراست میں ہے۔ حکومت کی خاموشی اس سوال کو اور گہرا کر رہی ہے کہ آیا یہ گرفتاریاں ہوئی بھی ہیں یا نہیں۔

ایمرجنسی کے اعلان کو دس دن کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے منظور کرانا ہوگا، اور دونوں ایوانوں کے اجلاس 13 اکتوبر کو بلائے گئے ہیں۔ اسی دن پی ٹی آئی نے صوابی انٹرچینج پر اپنے لانگ مارچ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان بھی کرنا ہے۔ یعنی اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں یہ لڑائی تین محاذوں پر لڑی جائے گی — پارلیمنٹ میں، عدالتوں میں، اور سڑکوں پر۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *