سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر حوثیوں کے ہفتے کے روز کیے گئے مہلک میزائل حملے کے بعد خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور امریکہ کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں براہِ راست شمولیت کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شام صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف کارروائی پر غور کر رہا ہے۔
“ہم دیکھیں گے، ہم اس پر غور کریں گے،” ٹرمپ نے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہوگا، جواب دیا۔ انہوں نے حملے کو “بہت برا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں جو کچھ ہوا وہ “قابلِ قبول نہیں” اور وہ جلد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی حملے کی شدید مذمت کی اور تصدیق کی کہ اس میں ایک امریکی شہری بھی جاں بحق ہوا ہے۔
سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق ہفتے کی سہ پہر ہونے والے اس حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں چار سعودی شہری اور دو بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں، جبکہ امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری بھی مارا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق میزائل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 اور 4 پر گرے، چھت کے کچھ حصے ٹرمینل کے اندر گر گئے اور متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ ایک ہفتے کے دوران شاہ خالد ایئرپورٹ پر تیسرا حملہ ہے اور گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حملہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے ہوا — سعودی عرب کے انتباہی نظام نے کوئی الرٹ جاری نہیں کیا۔ حملے کے بعد ایئرپورٹ کا آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا اور فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو 580 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
حملے کی ذمہ داری یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے قبول کی ہے۔ حوثیوں کے سینئر رہنما محمد البخیتی نے کہا کہ یہ کارروائی سعودی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے، جن میں ان کے بقول یمن میں شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں نے فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے اسے فوجی آپریشن کا علاقہ قرار دے دیا ہے۔
دوسری جانب سعودی زیر قیادت اتحاد نے جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی کے مطابق سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے، جن میں صنعا کا بین الاقوامی ایئرپورٹ اور باب المندب کے قریب علاقے شامل ہیں۔ دی نیشنل اخبار کے مطابق اتحاد نے یمن میں زمینی حملہ بھی شروع کیا ہے اور بحیرہ احمر کے بندرگاہی شہر موخا کو حوثیوں سے واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
سمندری محاذ پر بھی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق خلیج عمان میں ایک کارگو جہاز کو اس کے عملے کے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کی بار بار وارننگ نظر انداز کرنے پر “غیر فعال” کر دیا گیا۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل لگا جس کے نتیجے میں اس میں آگ لگ گئی۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “گھناؤنا فعل” قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ “شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔” وزیر اعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ بھی کیا۔ یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے گزشتہ اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ واقعہ کیوں اہم ہے: یہ اب صرف یمن اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی نہیں رہی۔ ٹرمپ کے کھلے اشارے، سعودی عرب کی صنعا ایئرپورٹ تک جوابی کارروائی، حوثیوں کی جانب سے سعودی فضائی حدود کو فوجی علاقہ قرار دینا اور آبنائے ہرمز و خلیج عمان میں بحری واقعات — یہ سب مل کر کشیدگی کو زمین، ہوا اور سمندر تینوں محاذوں پر پھیلا رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس کے اثرات براہِ راست ہیں: لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں رہتے اور کام کرتے ہیں، پی آئی اے پہلے ہی پچھلے حملوں کے بعد ریاض کی پروازیں معطل کر چکی ہے، اور تیل کی قیمتیں — جو پچھلے حملوں کے بعد ہی اوپر جا رہی تھیں — اس نئی کشیدگی سے مزید دباؤ میں آئیں گی، جس کا بوجھ بالآخر پاکستان جیسے درآمد کنندہ ملک کی معیشت پر پڑے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)