میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی معروف اداکارہ میرا کو کینیڈا میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، اور امیگریشن حکام نے انہیں واپس امریکا بھیج دیا ہے۔ یہ واقعہ نیاگرا فالز کی سرحدی گزرگاہ پر پیش آیا، جہاں اداکارہ نیویارک سے کینیڈا ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق کینیڈین حکام نے میرا کو سرحد پر روک کر کئی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، جس کے بعد انہیں ڈیپورٹیشن کے احکامات کے تحت واپس امریکا روانہ کر دیا گیا۔ رپورٹس میں اداکارہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انہیں خود معلوم نہیں کہ انہیں کیوں واپس بھیجا گیا۔
کچھ رپورٹس میں اس واقعے کو میرا کے چند ماہ پرانے کیلگری کے دورے سے جوڑا جا رہا ہے، جہاں انہوں نے اپنی فلم “سائیکو” کی تشہیر کے دوران اسٹیج پر پرفارم کیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پرفارمنس کے لیے مطلوبہ ورک پرمٹ یا کارکردگی کا اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا تھا، اور اسی کے بعد ان کے کینیڈا میں داخلے پر پابندی عائد ہوئی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور نہ ہی کینیڈین حکام نے واپسی کی حتمی وجہ ظاہر کی ہے۔
اداکارہ کی جانب سے بھی تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق میرا اس فیصلے کو کینیڈا کی فیڈرل کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہیں، مگر اس حوالے سے بھی کوئی حتمی اطلاع موجود نہیں۔
یاد رہے کہ میرا اس سے پہلے بھی امیگریشن مسائل کا شکار رہ چکی ہیں۔ ماضی میں برطانیہ میں ان کے داخلے پر تقریباً دس سال کی پابندی عائد رہی تھی۔ ان کے خاندان کے مطابق اس کیس کی وجہ امیگریشن انٹرویو کے دوران انگریزی الفاظ “ٹرانزٹ” اور “ٹرانزیکشن” میں غلط فہمی تھی۔ رپورٹس کے مطابق میرا امریکا کا گرین کارڈ بھی رکھتی ہیں۔
ان کی فلم “سائیکو” رواں سال عید کے موقع پر ریلیز ہوئی تھی، جس میں انہوں نے زارا کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستانی فنکاروں کے بیرونِ ملک دوروں میں قانونی ضابطوں کی اہمیت کو سامنے لاتا ہے — ورک پرمٹ جیسی بظاہر چھوٹی غلطی برسوں بعد بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ میرا کا کیریئر ویسے بھی سرخیوں سے بھرا رہا ہے، اور یہ واقعہ ان کی عوامی شخصیت کے اسی باب میں ایک اور اضافہ ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ آیا وہ کینیڈا کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گی یا معاملہ خاموشی سے دب جائے گا۔ ان کا اگلا باضابطہ بیان ہی اس کی سمت طے کرے گا۔


قارئین کے تبصرے (0)