ریاض: سعودی قیادت والے اتحاد نے ہفتے کے روز یمن میں حوثیوں کے خلاف “بڑے پیمانے پر کارروائی” کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں 136 فوجی اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی جمعرات کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملوں کا جواب ہے جن میں تین سعودی شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ “ہم حوثی ملیشیا کے افراد اور صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہے ہیں”۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ “ہم نے حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں 136 فوجی اہداف تباہ کر دیے”۔ حوثیوں کے المسیرہ ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ سعودی میزائلوں نے یمن کے شمال مغربی صوبے صعدہ میں علاقوں کو نشانہ بنایا۔ چینی خبر رساں ادارے سی جی ٹی این کے مطابق حوثی میڈیا نے یہ بھی بتایا ہے کہ جمعے کی دوپہر صنعاء کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ایک فضائی حملے میں ایئرپورٹ کے دو ملازمین ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
جمعرات کے حملوں کی تفصیل اب سامنے آ رہی ہے۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق پہلا حملہ ایئرپورٹ کی تنصیبات پر ہوا جبکہ دوسرے حملے میں قومی فضائی کمپنی سعودیہ کے ایک طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں سعودیہ کا ایک پائلٹ بھی شامل ہے۔ سعودیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ “کیپٹن حمود علی الکلثامی کنگ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ایک واقعے میں” جاں بحق ہوئے۔ جمعے کی شام حوثیوں نے ایئرپورٹ پر ایک اور میزائل داغا جس سے پروازوں میں خلل پڑا اور متعدد پروازیں موڑ دی گئیں۔ علاقائی حکام کے مطابق ان حملوں میں تین طیاروں کو نقصان پہنچا۔
اتحاد نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یہ حملے “بغیر جواب نہیں رہیں گے”۔ اس سے قبل اتحاد نے حوثیوں کے تین میزائل لانچنگ پلیٹ فارم اور درجنوں اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی فضائی حملوں کا سلسلہ جمعرات کی رات سے جاری ہے اور حوثی میڈیا کے مطابق صنعاء میں بھی متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ لڑائی جولائی میں دوبارہ بھڑکی تھی اور اب پڑوسی مملکت میں بھی پھیل چکی ہے۔ حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور سعودی عرب کے ٹرانسپورٹ مراکز، تیل تنصیبات اور دیگر شہری اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کر رہے ہیں۔ باب المندب کے علاقے کے گرد جاری لڑائی عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی نے جمعے کے روز خبردار کیا تھا کہ ملک “مکمل جنگ” کی حالت میں واپس جا چکا ہے اور جھڑپیں متعدد محاذوں پر پھیل رہی ہیں۔
پروازوں پر اثرات بھی گہرے ہیں۔ قطر ایئرویز، فلائی دبئی اور اتحاد ایئرویز نے آنے والے دنوں میں ریاض سے اور ریاض کے لیے کئی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل پی آئی اے نے بھی ریاض کے لیے اپنی پروازیں معطل کی تھیں۔
یہ کارروائی کیوں اہم ہے؟ اس لیے کہ یہ سعودی-حوثی محاذ پر اب تک کی سب سے بڑی جوابی کارروائی ہے اور اس سے واضح ہو گیا ہے کہ ریاض اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر کھلے جوابی حملوں کی حکمت عملی پر آ گیا ہے۔ دارالحکومت کے مرکزی ایئرپورٹ پر حملہ سعودی قیادت کے لیے وہ لکیر تھی جسے پار نہیں ہونے دیا جا سکتا تھا۔ دوسری طرف، حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ سعودی فضائی حدود کو بند کرنے کی مہم جاری رکھیں گے — یعنی یہ جنگ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے اس کے براہ راست مضمرات ہیں: سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں، پی آئی اے کی پروازیں پہلے ہی متاثر ہیں اور تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان کی معیشت پر براہ راست اثر ڈالے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)