متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے شریک پائلٹ نے تل ابیب کے بین گورین ہوائی اڈے پر خودکش حملہ کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنا رکھا تھا۔ اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے جمعے کو متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے حوالے سے بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 29 سالہ عمانی شریک پائلٹ نے طیارے پر قبضہ کر کے اسے مسافر ٹرمینل سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی تھی — “تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو سکے”۔
یہ وہی پرواز ہے جو 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی اور جس میں شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں کیپٹن پر ایمرجنسی کلہاڑے سے حملہ کیا تھا۔ واقعے کے وقت کیپٹن کی کھوپڑی ٹوٹ گئی تھی، مگر واپسی کی پرواز کے لیے سوار ایک اور کیپٹن نے کاک پٹ کا دروازہ بار بار کھلتا بند ہوتا دیکھ کر رسائی کوڈ سے اندر داخل ہوئے، عملے اور مسافروں کی مدد سے ملزم کو قابو کیا اور طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ہوائی اڈے پر بحفاظت اتارا۔ اس وقت یہ سمجھا گیا تھا کہ شاید طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش ہوئی ہے، اور اسرائیل نے لڑاکا طیارے بھی فضا میں بھیج دیے تھے۔
اٹارنی جنرل کے مطابق ملزم نے اپنے وکیل کی موجودگی میں تفصیلی اعتراف کیا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ سب کچھ اکیلے منصوبہ بنایا، تاہم تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس کے پیچھے کوئی اور بھی شامل تھا۔
تحقیقات میں ملزم کے نظریاتی پس منظر کی بھی کھوج نکالی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انتہا پسندی کی طرف اس کا جھکاؤ 2017 میں اس وقت شروع ہوا جب وہ آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ اس دوران وہ انتہا پسند لٹریچر اور آن لائن مواد سے متاثر ہوا جو دہشت گرد تنظیموں اور خودکش حملوں کی تعریف کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے تشدد اور دہشت گردی کے نظریات اپنا لیے اور امریکا پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے تحریک پائی۔ اس کے اپنے اعتراف کے مطابق اسی سوچ نے اسے ہوابازی کے شعبے میں آنے پر اکسایا — تاکہ ایک دن وہ طیارے کو ہتھیار بنا سکے۔
ملزم کے پیشہ ورانہ سفر کی تفصیل بھی سامنے آئی ہے۔ وہ 2020 سے 2024 تک عمان ایئر، 2025 کے اوائل میں رائل ایئر ماروک میں کام کرتا رہا اور جنوری 2026 میں فلائی دبئی میں شامل ہوا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس نے تل ابیب کے راستے اور ہوائی اڈے کی ٹوہ لینے کے لیے اس سے پہلے دو پروازیں بھی کیں۔ اس نے باکسنگ کی نجی تربیت حاصل کر کے خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار بھی کیا تھا۔
آسٹریلیا سے تعلق بھی واضح ہو رہا ہے۔ میلبورن کی یونیورسٹی آر ایم آئی ٹی نے تصدیق کی ہے کہ ملزم وہاں پڑھتا تھا، مگر انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کیے بغیر چھوڑ گیا۔ آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی کے مطابق اسے 2014 میں آسٹریلوی طلبہ ویزا جاری ہوا اور وہ 2015 سے 2017 تک وہاں رہا۔ سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے اس کے حذف شدہ ایکس اکاؤنٹ کی پرانی ٹویٹس نکالی ہیں جن میں اس نے آسٹریلیا، برطانیہ اور نیوزی لینڈ میں گزارے پانچ برس کو “اپنی مذہبی وابستگی کے سنہرے سال” قرار دیا تھا۔
یہ واقعہ محض ایک فضائی حادثے کی کہانی نہیں رہا — یہ ہوابازی کی سلامتی کے نظام پر براہ راست سوال ہے۔ ایک شخص جو 2017 سے انتہا پسند نظریات رکھتا تھا، تین مختلف ائیرلائنز میں پائلٹ کے عہدے تک پہنچ گیا اور کاک پٹ کے دروازے کے اندر بیٹھا رہا۔ یہ عملے کی جانچ پڑتال (ویٹنگ) کے نظام کی سنگین ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسرا پہلو سیاسی ہے: دبئی–تل ابیب کا ہوائی راستہ ابراہیم معاہدوں کے بعد عرب دنیا اور اسرائیل کے درمیان معمول بنے تعلقات کی علامت ہے — اور اسی راستے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ان تعلقات کے دشمنوں کے عزائم بھی بے نقاب کرتا ہے۔ مسافروں کے اعتماد کے لیے اصل امتحان اب یہ ہے کہ ائیرلائنز اور ریگولیٹرز اس واقعے سے کیا سبق سیکھتے ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)