راولپنڈی — ٹی ٹوئنٹی کپتانی سنبھالنے کے محض چار روز بعد صاحبزادہ فرحان نے بلے سے ایسا جواب دیا کہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود تماشائی دیر تک تالیاں بجاتے رہے۔ جمعے کی شب سری لنکا کے خلاف سیریز کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کے نئے کپتان نے 53 گیندوں پر 10 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 89 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی اور 183 رنز کا ہدف سات گیندیں قبل حاصل کر کے ٹیم کو چار وکٹوں سے فتح دلا دی۔
سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی، مگر فیصلہ ابتدا میں ہی غلط ثابت ہوتا دکھائی دیا۔ کپتان کوسل مینڈس صرف ایک رن بنا کر نسیم شاہ کی گیند پر محمد عمران کے ہاتھوں کیچ ہو گئے اور 18 رنز پر دو وکٹیں گر چکی تھیں۔ ایسے نازک موقع پر لاہیرو ادارا نے اکیلے مورچہ سنبھالا اور 55 گیندوں پر 91 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ٹیم کو 182 رنز تک پہنچایا۔ ادارا نے 11 چوکے اور ایک چھکا لگایا، مگر دوسرے سرے سے انہیں وہ ساتھ نہ مل سکا جس کی ٹیم کو ضرورت تھی — نسیم شاہ نے انہیں بھی 91 کے مجموعی اسکور پر چلتا کیا۔ پاکستان کی جانب سے نسیم شاہ نے 36 رنز دے کر تین کھلاڑی آؤٹ کیے، جبکہ ڈیبیو کرنے والے محمد عمران نے 21 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کر کے یادگار آغاز کیا۔
جواب میں پاکستان نے ابتدا ہی سے جارحانہ تیور اپنائے اور پاور پلے میں 70 رنز بنا ڈالے۔ فخر زمان نے 13 گیندوں پر 21 رنز کی تیز اننگز کھیل کر رفتار مہیا کی، پھر فرحان اور معاذ صداقت نے 92 رنز کی شراکت قائم کر کے میچ کا رخ ہی بدل دیا۔ صداقت نے صرف 29 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اور سری لنکن باؤلرز کو کھل کر کھیلا۔ ہدف کے قریب کچھ وکٹیں ضرور گریں — حسن نواز، صائم ایوب اور شاداب خان جلد پویلین لوٹے — مگر خواجہ نافے کے ناقابلِ شکست 12 رنز نے کام تمام کر دیا۔ ایشن ملنگا اور مہیش تھیکشنا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں، مگر ہدف کا دفاع نہ کر سکے۔
یہ جیت محض ایک میچ کی کامیابی نہیں۔ پانچ اکتوبر کو سلمان آغا کی جگہ کپتان مقرر ہونے والے فرحان کے انتخاب پر سوالات اٹھے تھے، اور بابر اعظم اور شاہین آفریدی کے بغیر نوجوان اسکواڈ کے ساتھ میدان میں اترنا خود ایک بڑا جوا تھا۔ فرحان نے اس کا جواب کپتانی کی پہلی ہی اننگز میں دے دیا اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔ البتہ 29 اضافی رنز دینا وہ کمزوری ہے جسے ٹیم انتظامیہ کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا — بڑے ہدف کے تعاقب میں ایسی فراخدلی کسی دن مہنگی پڑ سکتی ہے۔ تین میچوں کی سیریز میں پاکستان کو اب برتری حاصل ہے؛ اگر یہی جارحانہ مزاج برقرار رہا تو مہمان ٹیم کے لیے واپسی کا راستہ کٹھن ہو جائے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)