اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں خالی پڑی دو نشستیں جمعہ کو پُر ہو گئیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اب اس طاقتور ادارے کے رکن ہوں گے جو ملک بھر میں ججوں کی تقرری کا فیصلہ کرتا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی منظوری سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرریاں آئین کے آرٹیکل 175-A کی شق (2)(vii) کے تحت کی گئیں۔ نامزدگیاں وزیراعظم شہباز شریف نے بطور لیڈر آف دی ہاؤس (قومی اسمبلی) اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بطور لیڈر آف دی ہاؤس (سینیٹ) کیں۔ بلاول قومی اسمبلی سے ٹریژری بینچز کی نمائندگی کریں گے، جبکہ رانا ثنا اللہ سینیٹ سے ٹریژری کی نشست سنبھالیں گے۔
یہ دونوں نشستیں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد کے استعفوں کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ دونوں نے استعفے کی وجہ ذاتی بتائی تھی۔
نئے ارکان کی پہلی آزمائش زیادہ دور نہیں۔ کمیشن کا اگلا اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں توسیع پر غور کیا جائے گا۔ یعنی تقرری کے چند روز بعد ہی بلاول اور رانا ثنا اللہ کو ایک عملی فیصلے میں شریک ہونا ہوگا۔
جوڈیشل کمیشن آئین کے آرٹیکل 175-A کے تحت سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کی تقرری کرتا ہے، اور ہائی کورٹ کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی اسی کے ذمے ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد کمیشن کی تشکیل نو ہوئی تھی — اب اس میں پارلیمنٹ کے چار ارکان شامل ہوتے ہیں: ٹریژری اور اپوزیشن سے دو دو، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ایک ایک۔ کمیشن میں چیف جسٹس صاحبان، سینئر ججز، وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کے تجربہ کار وکیل بھی شامل ہیں۔
یہ تقرریاں محض انتظامی کارروائی نہیں، ان کا سیاسی وزن بھی ہے۔ بلاول بھٹو وہی رہنما ہیں جنہوں نے چھبیسویں ترمیم کی سب سے زیادہ وکالت کی تھی — وہی ترمیم جس نے جوڈیشل کمیشن میں پارلیمنٹ کی نمائندگی کا دروازہ کھولا۔ اب وہ خود اسی کمیشن میں بیٹھیں گے۔ ایک طرف اسے جمہوری نگرانی کی دلیل کہا جائے گا، دوسری طرف ناقدین یہ سوال اٹھائیں گے کہ ججوں کی تقرری میں سیاستدانوں کا براہ راست کردار عدلیہ کی آزادی کے لیے نیا امتحان ہے۔ رانا ثنا اللہ کی صورت حال بھی دوہری ہے: ایک تجربہ کار وکیل اور سابق وزیر قانون کی حیثیت سے ان کی موجودگی کمیشن کو قانونی وزن دے گی، مگر ان کا سیاسی پروفائل بھی اتنا ہی نمایاں ہے۔
وقت بھی معنی خیز ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان قانون سازی پر تعاون کا نیا معاہدہ ابھی طے پایا ہے — تقریباً تیس بلز، جن میں آئی ایم ایف شرائط سے جڑے قوانین بھی شامل ہیں، اور انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کی صدارت پیپلز پارٹی کو ملنا طے ہے۔ اس ماحول میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل مکمل ہونا اتحادی حکومت کے استحکام کا بھی اشارہ ہے۔
اصل امتحان 13 اکتوبر کو ہوگا۔ سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچز کی مدت کا فیصلہ بتائے گا کہ یہ کمیشن قانون کی باریکیوں پر چلتا ہے یا سیاسی اشاروں پر۔ ججوں کی تقرری کا اختیار اب جن ہاتھوں میں ہے، ان پر نظر رکھنا اب صرف صحافت نہیں، جمہوریت کی ضرورت ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)