اوسلو — نوبیل امن انعام 2026 کا اعلان ہو گیا، اور اس بار یہ اعزاز جنوبی افریقہ کی ممتاز قانونی شخصیت نیوی پِلے کے نام رہا۔ نارویجن نوبیل کمیٹی کے چیئرمین جورگن واٹنے فرائیڈنس نے جمعے کو اوسلو میں نوبیل انسٹی ٹیوٹ میں اعلان کیا کہ 85 سالہ پِلے کو یہ انعام “امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں” پر دیا گیا ہے۔ یہ اس ہفتے اعلان کیا گیا پانچواں نوبیل انعام ہے — اس سے پہلے طب، فزکس، کیمسٹری اور ادب کے انعامات کا اعلان ہو چکا ہے۔
پِلے کی کہانی نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد سے شروع ہوتی ہے۔ وہ 1941 میں ڈربن میں ایک تامل خاندان میں پیدا ہوئیں، اور 1967 میں ناٹال صوبے میں اپنی وکالت کا دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں — ایسے وقت میں جب نسل پرستی کا نظام اپنی انتہا پر تھا۔ انہوں نے نسل پرستی کے خلاف تحریک کے کارکنوں کی وکالت کی، جن میں نیلسن منڈیلا بھی شامل تھے۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق، “نسل پرستی کے خلاف کھڑے ہونے والے نیلسن منڈیلا اور دیگر افراد کی وکالت سے لے کر ہمارے دور کے اہم ترین بین الاقوامی عدالتی مقدمات میں ان کی خدمات تک، ایک ہی دھاگہ ان کی پوری زندگی سے گزرتا ہے۔”
اپارتھائیڈ کے خاتمے کے بعد پِلے بین الاقوامی منصفوں کی صف میں نمایاں ہو گئیں۔ وہ روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل کی صدر رہیں، پھر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی جج بنیں، اور 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہیں۔ روانڈا ٹربیونل میں ان کا سب سے مشہور کردار اکائےسو مقدمے میں تھا، جس میں عالمی قانون میں پہلی بار عصمت دری کو نسل کشی کا جرم قرار دیا گیا — ایک ایسا فیصلہ جس نے بین الاقوامی فوجداری قانون کی تاریخ بدل دی۔
ان کی حالیہ سرگرمیاں ان کے سب سے زیادہ متنازع ہیں۔ پِلے اقوام متحدہ کے اس کمیشن آف انکوائری کی سربراہ ہیں جس نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو “شرمناک” قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ نوبیل کمیٹی کا یہ انتخاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خود انٹرنیشنل کرمنل کورٹ امریکی پابندیوں کی زد میں ہے — امریکہ نے گزشتہ سال آئی سی سی پر اس بنیاد پر پابندیاں لگائی تھیں کہ اس نے غزہ میں جنگ کے دوران اسرائیلی رہنماؤں پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے تھے۔
اعلان کے وقت کمیٹی کے چیئرمین فرائیڈنس نے واضح الفاظ میں کہا کہ “بین الاقوامی قانون کا نظام زبردست دباؤ میں ہے اور اس کے ادارے حملے کی زد میں ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ طاقت کی سیاست قانونی ڈھانچوں اور قانون و انصاف کے عالمی احترام کی قیمت پر بڑھ رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ نوبیل کمیٹی دنیا کو یاد دلانا چاہتی ہے کہ “قانون کی حکمرانی — قومی اور بین الاقوامی — اس نظام کی بنیاد ہے جسے ہم نے امن قائم کرنے اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے بنایا تھا۔”
اس اعلان کے ایک اور رخ نے بھی توجہ حاصل کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اس انعام کے حصول کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں اور متعدد تنازعات کے خاتمے میں اپنا کردار نمایاں کر چکے ہیں — تاہم اس بار بھی انعام کسی اور کے نام رہا۔ مبصرین اسے بین الاقوامی عدالتوں اور قانونی اداروں پر تنقید کرنے والے امریکی موقف کے خلاف نوبیل کمیٹی کا ایک خاموش مگر واضح جواب قرار دے رہے ہیں۔
یہ اعزاز 12 ملین سویڈش کراؤن (تقریباً 1.2 ملین ڈالر) کی رقم کے ساتھ 10 دسمبر کو اوسلو میں ایک تقریب میں پیش کیا جائے گا۔ گزشتہ سال یہ انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کے نام رہا تھا۔ پِلے اب نیلسن منڈیلا، ایف ڈبلیو ڈی کلرک اور آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو کے بعد جنوبی افریقہ کی یہ اعزاز پانے والی شخصیات میں شامل ہو گئی ہیں۔
یہ خبر کیوں اہم ہے
نوبیل کمیٹی نے اس بار ایک فرد کو نہیں، ایک اصول کو انعام دیا ہے۔ ایسے دور میں جب بین الاقوامی قانون کو “طاقت کی سیاست” کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، اور جب خود بڑی طاقتیں عالمی عدالتوں پر پابندیاں لگاتی ہیں، اوسلو کا یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے: قانون کی حکمرانی کے بغیر امن کا کوئی نظام کھڑا نہیں رہ سکتا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے — جو کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات میں بین الاقوامی قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں — اس اعلان کی گونج خاص معنی رکھتی ہے، کیونکہ یہ انھی اصولوں کی تصدیق کرتا ہے جن پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کا مقدمہ کھڑا ہے۔


قارئین کے تبصرے (0)