سٹاک ہوم — جمعرات کو سویڈش اکیڈمی نے اعلان کیا کہ 2026 کا ادب کا نوبیل انعام کینیڈا کی شاعرہ، نثر نگار اور قدیم یونانی ادب کی ممتاز ماہر این کارسن کو دیا جائے گا۔ چھہتر سالہ کارسن کو یہ اعزاز “ان کی باہمت اور ایجاد کرنے والی تحریری دنیا کے لیے” دیا گیا ہے، “جو قدیم یونانی روایت کے ساتھ چنچل مکالمے کے ذریعے عصری ادب کی نئی شکلیں تخلیق کرتی ہے۔” انعام کی رقم ایک کروڑ بیس لاکھ سویڈش کراؤن ہے، جو تقریباً بارہ لاکھ ڈالر کے برابر ہے۔این کارسن کا سب سے مشہور کام ان کی 1998 کی کتاب “آٹوبائیوگرافی آف ریڈ: نظم میں ناول” ہے، جس میں انہوں نے یونانی دیومالا کے ہیرو ہراکلیس اور تین ہزار سال پرانی داستان کے دیو گیریون کو دوبارہ لکھا۔ پرانی داستان میں ہراکلیس اس دیو کو مار کر اس کے مویشی چھین لیتا ہے، لیکن کارسن کی تحریر میں یہی دیو اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرنے والا ایک نرم خو، حساس نوجوان بن جاتا ہے جو ہراکلیس سے محبت کر بیٹھتا ہے — اور پھر دل ٹوٹنے کی کہانی جدید زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔کارسن کے کام کی خاصیت یہی ہے: وہ شاعری، نثر، مکالمے، ڈرامے اور تراجم کو ایک ہی صفحے پر ملا دیتی ہیں۔ ان کی 1986 کی “ایروس دی بٹر سویٹ” میں محبت کی یونانی تصورات پر تنقیدی مضمون ہے، “دی بیوٹی آف دی ہسبینڈ” ایک تخیلاتی نثر میں لکھا گیا نظم ہے، “نُکس” ان کے بھائی کی موت پر لکھا گیا ایک کتابی تجربہ ہے، اور 2019 کی “نارما جین بیکر آف ٹرائے” میں وہ یونانی ڈرامے “ہیلن” کی ہیلن اور میریلن مونرو کو ایک ہی اسٹیج پر کھڑا کر دیتی ہیں۔نوبیل کمیٹی برائے ادب کے چیئرمین اینڈرس اولسن نے کہا کہ “اس کی تقریباً پوری ادبی تخلیق الفاظ کے ماہر کے جنون اور شاعر کی نئے معنی کی تلاش کے سنگم پر کھڑی ہے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کارسن خود الفاظ کی اشتقاق کو اپنے تمام کام کا نکتہ آغاز سمجھتی ہیں، اور ان کے قدیم یونانی تراجم اپنے طور پر خود مختار ادبی تخلیقات سمجھے جا سکتے ہیں۔اعلان کے لمحے کی ایک دلکش تفصیل بھی سامنے آئی ہے۔ سویڈش اکیڈمی کی مستقل سکریٹری انگرڈ کارل برگ نے فون پر خبر سنائی تو کارسن حیران رہ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت آئس لینڈ میں تھیں اور “ہوا سن رہی تھیں۔” بات چیت کے لیے زیادہ وقت نہیں ملا، مگر یہ جملہ پہلے ہی سوشل میڈیا پر ان کی سادگی کی علامت بن چکا ہے۔این پیٹریشیا کارسن 21 جون 1950 کو ٹورنٹو میں پیدا ہوئیں اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1979 سے وہ امریکا اور کینیڈا کی یونیورسٹیوں میں قدیم ادب، تقابلی ادب اور تخلیقی تحریر پڑھا رہی ہیں، جن میں میک گل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف مشی گن، نیویارک یونیورسٹی اور پرنسٹن شامل ہیں۔ 2022 سے وہ آئس لینڈ کی شہریت بھی رکھتی ہیں۔ نوبیل سے پہلے انہیں دو بار گریفن شاعری انعام، ٹی ایس ایلیٹ انعام، میک آرتھر فیلوشپ، گگن ہائم فیلوشپ، پرنسس آف آسٹوریاس ایوارڈ اور پین/نابوکوف ایوارڈ مل چکے ہیں، اور 2005 میں انہیں آرڈر آف کینیڈا کا رکن بنایا گیا تھا۔اس اعزاز کے ساتھ کارسن ایلس منرو (2013) کے بعد دوسری کینیڈین بن گئی ہیں جنہیں ادب کا نوبیل ملا ہے۔ اس سال کے سب سے زیادہ زیر بحث ناموں میں مارگریٹ ایٹوڈ بھی شامل تھیں، مگر اکیڈمی نے کم معروف مگر جرأت مند تجربات کرنے والی کارسن کا انتخاب کیا۔ پچھلے سال یہ انعام ہنگری کے مصنف لاسلو کرازنہورکائی کو دیا گیا تھا۔یہ فیصلہ ایک بار پھر بتاتا ہے کہ نوبیل اکیڈمی شہرت سے زیادہ جرأتِ تجربہ کو تولتی ہے۔ کارسن کا انتخاب اس رجحان کی توسیع ہے جس میں ادب کی سرحدیں دھندلی ہو رہی ہیں — ایک ہی کتاب میں شاعری بھی ہے، نثر بھی، ڈرامہ بھی اور ترجمہ بھی۔ اور سب سے اہم بات: ایک ایسی مصنفہ کو چنا گیا جس کی جڑیں تین ہزار سال پرانی یونانی روایت میں پیوست ہیں۔ یہ اعلان اس بات کی تصدیق ہے کہ کلاسیکی ادب کوئی میوزیم کی چیز نہیں، بلکہ آج کے ادب کی زندہ اور سانس لیتی بنیاد ہے۔
ادب کا نوبیل انعام 2026: یونانی دیومالا کو جدید لباس پہنانے والی این کارسن کے نام

قارئین کے تبصرے (0)