Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

کینسر کا ہر آٹھواں کیس ایک انفیکشن کی دین — اور یہی اسے روکنے کی کنجی بھی ہے

جدید تحقیقی لیبارٹری میں سائنسدان مائیکرو ٹیسٹ ٹیوب سے ڈی این اے نکالنے کے لیے پپیٹ استعمال کر رہا ہے۔

سن کر حیرانی ہوتی ہے، مگر عالمی ادارہ صحت کی کینسر تحقیق ایجنسی (آئی اے آر سی) کے تازہ ترین تجزیے نے ثابت کر دیا ہے: 2024 میں دنیا بھر میں تشخیص ہونے والے کینسر کے تقریباً 23 لاکھ نئے کیسز — یعنی ہر آٹھ میں سے ایک — کسی نہ کسی انفیکشن کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ یہ تحقیق ستمبر کے آخری ہفتے میں طبی جریدے “دی لانسیٹ آنکالوجی” میں شائع ہوئی، جس میں 12 ایسے جراثیم اور وائرسوں کا جائزہ لیا گیا جنہیں یقینی کینسر پیدا کرنے والے عوامل تسلیم کیا جاتا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ان 23 لاکھ کیسز میں سے بیشتر کا ذمہ دار صرف پانچ انفیکشن ہیں۔ معدے کا بیکٹیریا ہیلیکوبیکٹر پائلوری 7 لاکھ 60 ہزار کیسز کے ساتھ سب سے آگے ہے — یہ بنیادی طور پر معدے کا کینسر پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) 7 لاکھ 50 ہزار کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر، جس کا سب سے بڑا شکار رحم کے منہ (سروائیکل) کا کینسر ہے۔ ہیپاٹائٹس بی وائرس 3 لاکھ 60 ہزار کیسز کے ساتھ جگر کے کینسر کی بڑی وجہ بنا، ایپسٹین بار وائرس 2 لاکھ 60 ہزار، اور ہیپاٹائٹس سی 1 لاکھ 60 ہزار کیسز کا باعث بنا۔ تحقیق کے مطابق یہ انفیکشنز 20 سے زائد اقسام کے کینسر سے جڑے ہیں — معدے، جگر، خون اور رحم کے منہ کے کینسر سمیت۔

سروائیکل کینسر کا معمہ حل شدہ ہے

یہاں اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں: دنیا میں ہونے والا تقریباً ہر سروائیکل کینسر ایچ پی وی کی وجہ سے ہے — تقریباً چھ لاکھ کیسز۔ ہیپاٹائٹس بی جگر کے سب سے عام کینسر کے تقریباً آدھے کیسز کا ذمہ دار ہے، اور ایپسٹین بار وائرس ناک کے پیچھے گلے کے کینسر (ناسوفرینجیل) کے 88 فیصد کیسز سے جڑا ہے۔ اور یہ سب ویکسین، اسکریننگ یا معمول کے علاج سے روکے جا سکتے ہیں۔ ایچ پی وی اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینیں موجود ہیں، سروائیکل اسکریننگ کینسر سے پہلے کی تبدیلیاں پکڑ لیتی ہے، اور ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین تو نہیں مگر اینٹی وائرل دوائیں بیشتر انفیکشنز کا خاتمہ کر دیتی ہیں۔

پھر بھی 2024 میں دنیا بھر میں اہل نوعمر لڑکیوں میں سے صرف 31 فیصد نے ایچ پی وی ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لی — جبکہ عالمی ادارہ صحت کا ہدف 90 فیصد ہے۔ اس کے برعکس، جن ممالک میں ویکسینیشن 80 فیصد سے اوپر پہنچی، وہاں سروائیکل کینسر ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ٹفٹس یونیورسٹی کی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر ریبیکا پرکنز کے مطابق “ہم اس اہم سنگ میل پر پہنچ چکے ہیں کہ 80 فیصد سے زیادہ ویکسینیشن والے ممالک میں سروائیکل کینسر ختم ہونا شروع ہو گیا ہے” — آسٹریلیا، انگلینڈ اور فن لینڈ میں 13 سال کی عمر تک ویکسین لگوانے والے نوجوانوں میں ایچ پی وی سے متعلق کینسر کے صفر کیسز ریکارڈ ہوئے۔

مسئلہ سائنس کا نہیں، سیاست کا ہے

یہیں مطالعے کا اصل پیغام چھپا ہے۔ مطالعے کے سینئر مصنف گیری کلفورڈ، جو آئی اے آر سی میں وبائی امراض کے ماہر ہیں، کہتے ہیں: “ہم کینسر کے مرحلے سے بہت پہلے مداخلت کر سکتے ہیں۔ ہمیں صرف سیاست، وسائل، عوام کا تعاون اور آگاہی کی مہم چاہیے۔ روک تھام کارآمد ہے۔”

بوجھ بھی ناہموار ہے: انفیکشن سے پیدا ہونے والے 77 فیصد کینسر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتے ہیں۔ مشرقی ایشیا میں 9 لاکھ 90 ہزار کیسز — عالمی مجموعے کا 42 فیصد — اور سب سے زیادہ شرحیں مشرقی ایشیا، سب صحارا افریقہ، وسطی و مشرقی یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا میں ہیں۔ یعنی جن ممالک میں ویکسین اور اسکریننگ کی سہولتیں کم ہیں، وہیں یہ روکے جا سکنے والے کینسر سب سے زیادہ ہلاکتیں کر رہے ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ اعداد و شمار آئینے کی طرح ہیں۔ یہاں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے خلاف مہمات برسوں سے چل رہی ہیں، اور سروائیکل کینسر خواتین کی خاموش ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کینسر کے علاج پر خطیر رقم خرچ کرنے کے مقابلے میں ویکسینیشن اور اسکریننگ کی لاگت نہ ہونے کے برابر ہے — مگر وسائل کی تقسیم میں ترجیحات ابھی بھی علاج پر ہیں، روک تھام پر نہیں۔

مطالعے کے مصنفین تیس برس سے اس میدان میں ہیں اور 1990 سے اب تک چھ مرتبہ یہ حساب لگا چکے ہیں۔ ان کا پیغام ہر بار ایک ہی رہا، اور اس بار سب سے واضح: کینسر کے خلاف اگلی بڑی فتح کسی لیبارٹری میں نہیں، ویکسینیشن روم میں لڑی جائے گی۔ جواب پہلے سے ہمارے پاس ہے؛ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اسے کب استعمال کرنا شروع کرتے ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *