Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ماسکو میں افغانستان پر اہم علاقائی مذاکرات، پاک افغان کشیدگی ایجنڈے میں سرفہرست

ماسکو میں کریملن کی دیوار اور ریڈ اسکوائر (2025)

ماسکو میں آج ہونے والے افغانستان سے متعلق آٹھویں علاقائی مشاورتی اجلاس کی اہمیت اس بار معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ وجہ سیدھی ہے: میز پر بیٹھے دو اہم فریق — پاکستان اور افغانستان — ایک دوسرے کے خلاف کھلی فوجی کارروائیوں کے بعد یہاں آئے ہیں، اور روس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دونوں کو کسی سمجھوتے پر آمادہ کرنے کے لیے یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے کو تیار ہے۔

کون شریک ہے؟

پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم کے معاون خصوصی اور افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے سفیر محمد صادق کر رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی اور کابل میں پاکستانی سفیر عبید الرحمن نظامی بھی شامل ہیں۔

افغان طالبان کے وفد کی سربراہی وزیر خارجہ امیر خان متقی کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک صادق اور متقی کے درمیان کسی دوطرفہ ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اجلاس کے افتتاحی سیشن میں شرکت کی۔

اجلاس میں افغانستان، روس، چین، پاکستان، ایران، بھارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے نمائندے شریک ہیں، جبکہ بیلاروس اور مصر کو مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔

کشیدگی کا پس منظر

یکم اکتوبر کو پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں حملے کیے۔ کابل کے مطابق ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت نو شہری جاں بحق اور گیارہ زخمی ہوئے، جسے افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جارحیت قرار دیا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کی فضائیہ نے دہشت گردوں کے کیمپ تباہ کیے اور 22 عسکریت پسند ہلاک کیے۔

اسلام آباد کا دیرینہ مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کام کرنے والے مسلح گروہ پاکستان میں حملوں کے ذمہ دار ہیں، جبکہ کابل اس کی تردید کرتا ہے اور پاکستان پر افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام لگاتا ہے۔

روس کیا چاہتا ہے؟

افغانستان کے لیے روس کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا ہے: “یقیناً اس مسئلے پر بات ہوگی، اور ہم ماسکو کے پلیٹ فارم کو دونوں فریقوں کو کسی معقول سمجھوتے تک پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کو تیار ہیں۔”

تجزیہ: کیا ماسکو فارمیٹ کام کرے گا؟

ماسکو فارمیٹ 2016 سے قائم ہے، لیکن اس کی کامیابیوں کی فہرست مختصر ہے — اپریل میں ارمچی میں چین کی میزبانی میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات بھی کوئی بڑی پیش رفت نہ دے سکے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ دونوں ممالک براہ راست فوجی تصادم کے دہانے سے واپس آئے ہیں، جس سے فریقین پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تاہم طالبان کی جانب سے دوطرفہ ملاقات کی درخواست تک نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ کابل ابھی کسی رعایت کے موڈ میں نہیں۔ اگر ماسکو میں صرف رسمی بیانات پر اکتفا ہوا تو یہ اجلاس بھی ماضی کی طرح ایک اور سفارتی رسم بن کر رہ جائے گا — اور سرحد پر اگلا واقعہ پھر کسی نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *