وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کے دوران وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور خطے کی صورتحال، معاشی تعاون اور کشمیر سمیت اہم امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
دورے کا ایجنڈا
وزیراعظم کے وفد میں وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ دورے کے دوران کئی دو طرفہ ملاقاتیں بھی طے ہیں جن میں تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ پاکستانی وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران عالمی برادری کو ملکی معاشی اصلاحات اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات سے بھی آگاہ کرے گا۔
عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
دورہ نیویارک کے دوران وزیراعظم کی مختلف ممالک کے سربراہان اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی چیلنجز پر مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے پر غور کیا جائے گا۔
پس منظر
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہر سال ستمبر میں نیویارک میں منعقد ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر کے سربراہان مملکت و حکومت شرکت کرتے ہیں۔ پاکستان روایتی طور پر اس فورم کو خطے کے مسائل اور بین الاقوامی امن کے فروغ کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)