Tuesday, 3 November 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

نیپچون کے گمشدہ ٹروجن سیارچے مل گئے: روبن آبزرویٹری نے دہائیوں پرانا معمہ سلجھا دیا

نیپچون سیارہ، وائیجر 2 کی تصویر

بیلفاسٹ — نظام شمسی کے سب سے دور دراز سیارے نیپچون کے گرد ایک ایسا راز چھپا تھا جسے ماہرین فلکیات دہائیوں سے سلجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب کوئینز یونیورسٹی بیلفاسٹ کی قیادت میں ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس معمے کا جواب ڈھونڈ لیا ہے: نیپچون کے پیچھے چلنے والے ٹروجن سیارچوں کے گروہ میں دو نئے مستقل رکن اور ایک امیدوار دریافت کر لیے گئے ہیں۔

یہ دریافت چلی کے اینڈیز پہاڑوں پر نصب ویرا سی روبن آبزرویٹری کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے کی گئی۔ روبن آبزرویٹری زمین پر موجود سب سے تیز رفتار آسمان کا سروے کرنے والی دوربین ہے، اور اس کی تیز نظروں نے وہ دھندلے برفانی اجسام پکڑ لیے جو پہلے دوربینوں سے اوجھل رہے تھے۔ تحقیق کی قیادت ڈاکٹر میگ شوامب نے کی ہے، جو کوئینز یونیورسٹی بیلفاسٹ کے ایسٹرو فزکس ریسرچ سینٹر میں لیکچرر ہیں۔ نتائج “دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز” میں شائع ہوئے ہیں۔

ٹروجن سیارچے ہوتے کیا ہیں؟

ٹروجن سیارچے وہ چھوٹے اجسام ہیں جو کسی سیارے کے مدار میں اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، اور کشش ثقل کے توازن کے خاص مقامات — جنہیں لاگرانج پوائنٹس کہا جاتا ہے — پر مستحکم رہتے ہیں۔ کچھ سیارے سے آگے چلتے ہیں اور کچھ پیچھے۔ مشتری کے ٹروجن 1906 سے معلوم ہیں، لیکن نیپچون کے پیچھے والے گروہ کے مستقل ارکان کا سراغ لگانا اب تک ممکن نہیں ہوا تھا۔ نیپچون سورج سے اتنا دور ہے کہ اس کے ساتھی سیارچے انتہائی مدھم نظر آتے ہیں، اور ان کی حرکت اتنی سست ہے کہ ان کی تصدیق کے لیے برسوں کا ڈیٹا چاہیے ہوتا ہے۔

یہ دریافت کیوں اہم ہے؟

ٹروجن سیارچے نظام شمسی کی تاریخ کے زندہ فوسل ہیں۔ ان کی تعداد، ساخت اور مدار یہ بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے بڑے سیارے اپنی موجودہ جگہوں تک کیسے پہنچے اور ان کی نقل و حرکت کے دوران چھوٹے اجسام کہاں بکھرے۔ نیپچون کے پیچھے والے گروہ کا خالی نظر آنا ایک عجیب خلا تھا — اگر یہ سیارچے وہاں نہ ہوتے تو نظام شمسی کی تشکیل کے ماڈلز پر سوالیہ نشان لگ جاتا۔ اب اس خلا کا پر ہونا ان ماڈلز کو تقویت دیتا ہے۔

یہ دریافت روبن آبزرویٹری کے دور کا ایک ابتدائی ثمر بھی ہے۔ جیسے جیسے یہ دوربین آسمان کا سروے جاری رکھے گی، ماہرین کو توقع ہے کہ نیپچون کے مزید ٹروجن اور نظام شمسی کے کناروں پر موجود دیگر اجسام بھی سامنے آئیں گے۔ اسی دوربین نے حال ہی میں پلوٹو سے بھی آگے ایک نئی دنیا کے امیدوار کی دریافت میں بھی کردار ادا کیا تھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے نظام شمسی کا نقشہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خلا کی ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے — حال ہی میں بھارت کا نیوی گیشن سیٹلائٹ این وی ایس 03 بھی کامیابی سے مدار میں پہنچا۔ زمین سے آسمان تک، 2026 میں خلا کی خبریں مسلسل یہ یاد دلا رہی ہیں کہ ہم جس کائنات میں رہتے ہیں، اس کا بیشتر حصہ ابھی دریافت ہونا باقی ہے — اور کبھی کبھی سب سے بڑی دریافت صرف یہ ہوتی ہے کہ جو چیز ہم ڈھونڈ رہے تھے، وہ ساری عمر وہیں موجود تھی، بس ہماری نظر اس تک نہیں پہنچی تھی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *