یوکرین کے جنوبی علاقے زاپوریژیا کے گاؤں کومیشوواخا میں امدادی مرکز پر روسی بمباری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد منگل کے روز 31 تک پہنچ گئی، جبکہ 48 کے قریب افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ امدادی ٹیمیں منہدم عمارت کے ملبے میں زندہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، اور حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ حملہ پیر کو اس وقت کیا گیا جب مقامی لوگ ہفتہ وار امداد لینے کے لیے اسکول کی عمارت میں جمع تھے۔ یہ عمارت اب اسکول کے طور پر استعمال نہیں ہو رہی تھی بلکہ انتظامی مرکز اور انسانی امداد کی تقسیم کا مقام بنی ہوئی تھی، اور اس کے نیچے یورپی یونین کی مالی مدد سے بنایا گیا مضبوط تہ خانہ بھی تھا جسے عام حملوں سے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ پہلی لہر کے بعد دوسری لہر میں پناہ گاہ پر 9 بم گرائے گئے — ایک ایسا طریقہ جسے ڈبل ٹیپ کہا جاتا ہے، یعنی پہلے حملے کے بعد امدادی کارکنوں اور بچ جانے والوں کے پہنچنے پر دوبارہ وار کیا جاتا ہے۔
زاپوریژیا کی علاقائی فوجی انتظامیہ کے قائم مقام سربراہ میخائیلو سیمیکن نے قومی ٹیلی ویژن پر بتایا کہ حملے میں KAB-500 اور FAB-3000 بم استعمال کیے گئے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بنکر شکن بموں میں تقریباً ڈیڑھ ٹن دھماکا خیز مواد تھا، جس سے کنکریٹ کا ڈھانچہ منہدم ہو گیا اور آگ بھڑک اٹھی۔ ہلاک شدگان میں 4 پولیس اہلکار اور 2 امدادی کارکن شامل ہیں — 44 سالہ ڈینس کونوویلنکو اور اولیکسی سوشچیوسکی، جو پہلے حملے کے بعد مدد کے لیے پہنچے تھے۔ علاقے میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد منگل کے دوران بتدریج بڑھتی رہی — پہلے 26، پھر 29 اور اب 31۔ سیمیکن نے اس سانحے کو “خوفناک پیمانے” کا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مکمل جنگ کے آغاز سے اب تک ان کے علاقے میں شہری ہلاکتوں کے اعتبار سے یہ بدترین سانحات میں سے ایک ہے۔ ملبے سے لاشیں سفید پلاسٹک کی چادروں میں لپیٹ کر نکالی جا رہی ہیں، جبکہ درجنوں خاندان اپنے لاپتہ پیاروں کی خبر کے منتظر ہیں۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو “انتہائی ہولناک” قرار دیا اور کہا کہ روسی پائلٹ اس سے بے خبر نہیں ہو سکتے تھے کہ ہر ہفتے کومیشوواخا کے مقامی لوگ وہیں امداد لینے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “روسی سمجھتے ہیں کہ امریکا اس اشارے کو نہیں دیکھے گا، لیکن اس دہشت کو دیکھنا اور روکنا ہوگا۔ ہمیں یوکرین کو اس کے آسمان کے دفاع میں مدد دینی ہوگی، ورنہ روس میزائل حملے کبھی نہیں روکے گا۔” زیلنسکی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یہ بمباری امریکی کانگریس کے انتخابات کے دن ہوئی۔
اسی رات روس نے یوکرین کے 9 خطوں پر 289 ڈرون، 17 بیلسٹک میزائل اور 59 کروز میزائل داغے۔ صدر کے مطابق اس بمباری کا بنیادی ہدف توانائی کا ڈھانچہ تھا — اوڈیسا، چرکاسی، ژیتومیر، وینیتسیا، خارکیف، ڈنیپرو، چرنیوتسی، چرنیہیف اور ریونے میں بجلی گھر اور سب اسٹیشن نشانہ بنے، جس سے ملک بھر میں ہنگامی بجلی کٹوتیاں کرنا پڑیں۔ یوکرین کی وزارت توانائی کے مطابق رات بھر 10 خطوں میں 20 حملے کیے گئے، اور نجی بجلی کمپنی ڈی ٹی ای کے 3 تھرمل پلانٹ شدید نقصان کے بعد پیداوار روکنے پر مجبور ہوئے۔
شمال مشرقی شہر خارکیف میں ایک طبی مرکز کو نقصان پہنچا، جہاں کارڈیالوجی وارڈ میں زیر علاج مریض موجود تھے۔ مقامی حکام کے مطابق کم از کم 62 افراد زخمی ہوئے اور 200 سے زائد مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کرنا پڑا۔ ڈنیپرو میں ایک حملے میں ایک شخص ہلاک اور 17 زخمی ہوئے، جبکہ منگل کی صبح امدادی کارکنوں نے ایک خاتون کو ملبے سے زندہ نکال لیا۔ وہاں ایک آؤٹ پیشنٹ کلینک اور اسپتال بھی متاثر ہوئے۔
روس کی وزارت دفاع نے منگل کو کہا کہ اس کے حملوں کا ہدف کومیشوواخا اور زاپوریژیا کی دو دیگر بستیوں کے آس پاس یوکرینی فوجی یونٹ تھے، اور دعویٰ کیا کہ 25 تک یوکرینی فوجی ہلاک اور 15 گاڑیاں اور ایک الیکٹرانک وارفیئر اسٹیشن تباہ ہوا۔ ماسکو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رات بھر 856 یوکرینی ڈرون مار گرائے گئے، جن میں سے 493 ماسکو کی طرف آ رہے تھے، جبکہ یاروسلاول شہر کی ایک ریفائنری پر حملے میں 2 ملازمین زخمی ہوئے۔ یوکرین نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب ایک طرف امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں یوکرینی اور روسی وفود کے درمیان ملاقات کا اعلان کیا ہے، اور دوسری طرف سردیوں سے پہلے یوکرین کے توانائی ڈھانچے پر حملوں میں شدت آ رہی ہے۔ کومیشوواخا سے ایک دن پہلے ہی خیرسون کے قصبے اولیشکی کے گرد چھ روزہ مقامی جنگ بندی ختم ہوئی تھی، جس کا مقصد قحط کے خطرے سے دوچار لوگوں کو نکالنا تھا۔ جنگ بندی کے خاتمے کے فوراً بعد امدادی مرکز پر اتنا بڑا حملہ اس سوال کو پھر تیز کر دیتا ہے کہ انسانی امداد کی جگہیں اور ان تک رسائی جنگ میں کتنی محفوظ رہ گئی ہے۔
اس خبر کی اہمیت صرف ہلاکتوں کی تعداد میں نہیں۔ امدادی تقسیم کے ایک طے شدہ مقام پر، طے شدہ وقت پر، اور پھر امدادی کارکنوں پر دوسرا وار — یہ طرز عمل شہریوں کے لیے امداد کے نظام کو ہی نشانہ بناتا ہے۔ اگر لوگ امداد لینے سے ڈرنے لگیں تو محاذ کے قریب رہنے والی آبادی کے لیے خوراک اور ادویات کی فراہمی مزید مشکل ہو جائے گی۔ ساتھ ہی توانائی پر رات بھر کی بمباری سردیوں سے پہلے یوکرین کے شہروں پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جس کا اثر اسپتالوں، پانی کی فراہمی اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر براہ راست پڑتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ابوظہبی مذاکرات اور ملبے سے نکلنے والی حتمی تعداد یہ طے کرے گی کہ یہ حملہ جنگ میں ایک اور المناک باب بن کر رہ جاتا ہے یا مذاکرات کی فضا کو بھی بدل دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈنیپرو ریلوے اسٹیشن پر روسی ڈرون حملہ اور روس کے یوکرین پر تازہ حملے۔

قارئین کے تبصرے (0)