سنگاپور — امریکہ میں مڈٹرم انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے ایشیائی منڈیوں میں محتاط رویہ چھایا رہا۔ منگل کو ایشیا پیسیفک کے حصص میں مجموعی کمی دیکھی گئی، جبکہ تیل کی قیمت پیر کی بڑی گراوٹ کے بعد سنبھل گئی۔ سرمایہ کار واضح طور پر کل کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک انڈیکس 0.9 فیصد گرا، جس کی قیادت جنوبی کوریا کے حصص نے کی جو 3.8 فیصد تک گر گئے۔ تائیوان کے حصص 1.3 فیصد نیچے آئے، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.3 فیصد اوپر رہا اور آسٹریلوی حصص میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔ جاپانی منڈیاں ثقافتی دن کی تعطیل کے باعث بند تھیں۔ امریکی ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
پیر کو وال اسٹریٹ پر بھی ملی جلی صورتحال رہی تھی، جہاں ایس اینڈ پی 500 میں 0.5 فیصد کمی آئی تھی۔ ٹیکنالوجی کے حصص پر دباؤ رہا، اور ایپل کے حصص بعد از تجارت 2.8 فیصد گر گئے، کیونکہ کمپنی نے تعطیلاتی سہ ماہی کے لیے کم مارجن کی پیش گوئی کی اور میموری چپس کی بڑھتی قیمتوں کا حوالہ دیا۔ اس کی سروسز آمدنی کی نمو بھی توقعات سے کم رہی۔
تیل کی منڈی میں برینٹ خام تیل ایشیائی تجارت میں 104.72 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔ پیر کو تیل کی قیمت میں 7 فیصد سے زیادہ کی کمی آئی تھی، جب ایران اور قطری حکام کے درمیان بات چیت کی خبروں نے جنگ کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی مستحکم ہونے کی امید پیدا کی تھی۔
دوسری طرف چین کے مرکزی بینک نے اعلان کیا کہ وہ 15 نومبر سے مالیاتی اداروں کے لیے فارن ایکسچینج ڈپازٹ ریزرو کا تناسب 4 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کر دے گا، جس کے بعد آف شور تجارت میں ڈالر کے مقابلے میں یوآن 0.3 فیصد کمزور ہوا۔ ڈالر انڈیکس 0.1 فیصد بڑھ کر 101.81 پر پہنچ گیا، جبکہ امریکی 10 سالہ بانڈ کی شرح 2.1 بیسس پوائنٹس بڑھ کر 4.913 فیصد ہو گئی۔
سب کی نظریں کل پر کیوں ہیں؟
آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے اپنے نوٹ میں لکھا: “منگل کا دن ایک بہت بڑے دن سے پہلے کا دن ہی ہوگا۔” ان کے مطابق بدھ تک سرمایہ کاروں کو مڈٹرم کے مضمرات اور امریکی خزانے کے سہ ماہی ری فنڈنگ اعلان کے بارے میں رہنمائی مل جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ منڈیاں آج بڑے فیصلے کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔
اس ہفتے منڈیوں کے سامنے کئی اور امتحان بھی ہیں: منگل کو امریکی ملازمتوں کے مواقع کے اعداد، جمعرات کو بے روزگاری کے دعوے اور جمعے کو پے رول رپورٹ، جس میں ماہرین اقتصادیات اکتوبر میں ملازمتوں میں 65 ہزار کے اضافے اور بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اعداد توقع سے ہٹ کر آیا تو منڈیوں میں تیزی سے حرکت ہو سکتی ہے۔
پاکستانی قارئین کے لیے اس کا براہ راست تعلق تیل کی قیمت سے ہے۔ اگر ایران سے متعلق سفارتی پیش رفت برقرار رہی تو تیل سستا رہ سکتا ہے، جس سے پٹرول کی قیمت کے نئے فارمولے کے تحت مقامی قیمتوں پر بھی دباؤ کم ہوگا۔ لیکن اگر مڈٹرم کے بعد امریکہ کا موقف سخت ہوا تو تیل کی قیمت پھر اوپر جا سکتی ہے — اور وہ بوجھ بالآخر پٹرول کی قیمتوں کی صورت میں سامنے آئے گا۔ منڈیوں کی آج کی خاموشی دراصل طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)