اسلام آباد — وزیر اعظم کی فیول ریلیف اسکیم سے اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور اس مد میں 27 ارب روپے کی ریلیف تقسیم کی جا چکی ہے۔ یہ اعداد وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پیر کو اسلام آباد میں پٹرولیم کے وفاقی وزیر علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتائے۔
تارڑ کے مطابق اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، قینچی رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو سبسڈی والے نرخوں پر پٹرول مل رہا ہے۔ اس پروگرام میں 15 ملین سے زیادہ رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہیں، اور اسے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت پٹرولیم، اوگرا اور اسٹیٹ بینک کی مشترکہ کوششوں سے چلایا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کا اضافہ روک دیا ہے۔ یہ اضافہ جمعے کو نافذ ہونا تھا، لیکن وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اس کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کے بجائے مقامی آئل ریفائنریوں پر منتقل کر دیا گیا۔ علی پرویز ملک کے مطابق ریفائنریاں اس مد میں ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا اضافی بوجھ اٹھا رہی ہیں۔
حکومت کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں میں دباؤ پیدا کیا ہے، جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا ہے۔ اسی دباؤ کے پیش نظر صارفین کو بچانے کے لیے ریفائنریوں سے تعاون مانگا گیا۔ تارڑ نے کہا کہ پٹرول کی دستیابی میں کوئی کمی نہیں اور ملک کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب پٹرول کی قیمت کا نیا فارمولا بھی حال ہی میں نافذ ہوا ہے، جس کے تحت درآمدی قیمت اب پی ایس او کے اصل کارگو سے جڑ گئی ہے۔ دونوں اقدامات کا ہدف ایک ہی ہے: عالمی منڈی کے جھٹکوں سے عام صارف کو بچانا۔
ریلیف کا اصل امتحان ابھی باقی ہے
اعداد اپنی جگہ، اصل سوال یہ ہے کہ یہ ریلیف کب تک اور کس کی قیمت پر چلے گا۔ ریفائنریوں کا 15 ارب روپے ماہانہ کا بوجھ کوئی چھوٹی رقم نہیں۔ اگر یہ بوجھ طویل عرصہ برقرار رہا تو اس کا اثر یا تو ریفائنریوں کی سرمایہ کاری پر پڑے گا یا پھر کسی نہ کسی شکل میں واپس صارف تک پہنچے گا۔ حکومت نے ابھی اس انتظام کی مدت واضح نہیں کی۔
دوسرا سوال ہدف کا ہے۔ اسکیم موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑی والوں تک محدود ہے، جو درست سمت ہے کیونکہ یہی طبقہ مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ لیکن اس کا فائدہ صرف اسی صورت میں برقرار رہے گا جب عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے۔ اگر ہرمز کی کشیدگی پھر بڑھی تو حکومت کے پاس یا تو سبسڈی بڑھانے یا قیمت بڑھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
فی الحال، حکومت کا پیغام واضح ہے: پٹرول کی قیمتیں بڑھنے نہیں دی جائیں گی، چاہے اس کی قیمت ریفائنریوں کو ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔ آنے والے ہفتے بتائیں گے کہ یہ وعدہ کتنا پائیدار ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)